donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Maghfoor Ahmad Ajazi
Poet/Writer
--: Biography of Maghfoor Ahmad Ajazi :--

 ڈاکٹر مغفور احمد اعجازی: ایک تعارف 

 

DR. MAGHFOOR AHMAD AJAZI
 
ڈاکٹر مغفور احمد اعجازی کسی ایک شخصیت کا نام نہیں تھا۔ وہ گونا گوں خوبیوں کے مالک اور اپنے آپ میں ایک انجمن تھے۔ وہ ایک ایسا حسین گلدستہ تھے، جس میں بھانت بھانت کے پھول کھلے تھے۔ ڈاکٹر اعجازی بیک وقت ایک مردمومن، ایک عظیم مجاہد آزادی، قومی و ملی رہنما کے ساتھ ساتھ ایک بے لوث قومی و سیاسی، سماجی و ملی کارکن، ایک مبلغ و مصلح قوم، ایک بہترین اسپورٹس مین، وقت کے نباض،      اعلیٰ ذوق کے شاعر، بلند پایہ نثار و بااثر مقرر، ماہر طبیب، مایہ ناز واعظ دین، ہمدرد قوم، وطن کے جا نثار، ہندو مسلم اتحاد کے علم بردار اور    اردو زبان کے شیدائی و فدائی ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے حقوق کی حفاظت اور ترقی کی لڑائی کے سپہ سالار اعظم تھے۔ با لفاظ دیگر وہ ایک عظیم انسان تھے، جو ہمہ رنگ شخصیت کے مالک تھے۔ 
 
ڈاکٹر اعجازی ۱۹۶۰ء میں مظفرپور میں منعقدہ تاریخی اردو کانفرنس کے مجلس استقبالیہ کے صدر تھے۔ اسی کانفرنس میں پہلی بار اردو کو بہار کی دوسری سرکاری زبان بنائے جانے کی تجویز پاس ہوئی تھی۔ ڈاکٹر اعجازی کی شخصیت کا اندازہ لوگوں کو تب ہوا، جب نہرو میوزیم،     نئی دہلی نے اپنا نمائندہ مظفر پور بھیج کر ڈاکٹر اعجازی کے کاغذات کو اپنے تحویل میں لینے کا فیصلہ کیا۔ ان کی تمام فائلیں، خود نوشت ڈائریاں اور دیگر کاغذات آج نہرو میوزیم کی زینت بڑھا رہے ہیں۔ ان کے خطوط بیٹوں کے نام کا اصل نسخہ خدا بخش لائبریری پٹنہ میں محفوظ ہے۔ ڈاکٹر سید محمود کے ساتھ ان کے مراسلات نیشنل آرکائیوز نئی دہلی کی تحویل میں ہے۔ انٹر نیٹ پر بھی ڈاکٹر اعجازی کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔ مختلف ویب سائٹوں پر ڈاکٹر اعجازی کے متعلق جانکاری نمایاں طور پر دی گئی ہے۔ انہیں ملک کی ممتاز شخصیتوں کے ساتھ جگہ دی گئی ہے۔ مظفر پور میں ان کی رہائش گاہ کی طرف جانے والی سڑک کا نام ’’ڈاکٹر اعجازی مارگ‘‘ رکھا گیا ہے۔ بی آرامبیڈ کر یونیورسیٹی، مظفرپور نے ان کی حیات اور خدمات پر مقالہ کے لئے ان کے پوتے رضوان احمد اعجازی کو پی ایچ۔ ڈی کی ڈگری سے نوازا ہے۔ ڈاکٹر اعجازی کی حیات اور سماجی و ملی خدمات کے متعلق بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ ہندی اور اردو زبانوں میں کتابوں کی اشاعت ہو چکی ہے۔ بہار اردو اکادمی نے بھی  ڈاکٹر اعجازی پر ایک خوبصورت اور تفصیلی مونوگراف شائع کیا ہے ۔
 
اردو زبان اور شعر و ادب کے تعلق سے ڈاکٹر مغفور احمد اعجازی کی خدمات بے حد اہم، قابل قدر اور نا قابل فرموش ہیں۔ ان کی زندگی کے اس پہلو کو اجاگر کرنے کے لئے ’’نگارشات ڈاکٹر اعجازی‘‘ کے نام سے ایک کتاب ان کے پوتے ڈاکٹر رضوان احمد اعجازی نے مرتب کیا ہے، تا کہ نئی نسل ان کی ادبی خدمات سے روشناس ہو سکے۔ اس کتاب کا اجرا وزیر اعلیٰ بہار جناب نتیش کمار کے ہاتھوں عمل میں آیا تھا۔ ان کے خطابات پر مشتمل کتاب ’’خطابات ڈاکٹر اعجازی‘‘ بھی مرتب ہوئی ہے اور اشاعت پا چکی ہے۔ ملک کے مختلف جرائد اور اخبارات نے ان پر خصوصی نمبر شائع کیا ہے اور ان کے متعلق مضامین کو اکثر و بیشتر اخبارات و رسائل میں جگہ ملتی رہی ہے۔
 
ڈاکٹر مغفور احمد اعجازی کی پیدائش ریاست بہار کے مظفرپور ضلع واقع شکرا بلاک کے ڈیہولی نامی موضع میں ۳؍ مارچ ۱۹۰۰ء کو ہوئی تھی اور وفات ۲۶؍ ستمبر ۱۹۶۶ء کو مظفرپور واقع ان کی رہائش گاہ پر ہوئی۔ انہیں شہر کے قاضی محمد پور قبرستان مین دفن کیا گیا۔ڈاکٹر اعجازی کے والد حفیظ الدین حسین اور دادا حاجی امام بخش صوفی منش زمیندار تھے۔ ان کی والدہ کا نام محفوظ النساء تھا۔ ان کے نانا ریاست حسین سیتامڑھی کے نامی گرامی وکیل تھے جن کا ذکر ’’آئینہ ترہت‘‘ نو شتہ منشی بہاری لال فطرتؔ میں بھی ہے۔ ڈاکٹر اعجازی کی شادی ان کے ماموں ابوالقاسم مرحوم کی بیٹی عزیز الفاطمہ کے ساتھ ہوئی تھی جن سے تین بیٹے اور تین بیٹیاں با حیات ہیں۔ ان کے بڑے بھائی مولانا منظور احسن اعجازی مجاہد آزادی اور ام ال اے تھے۔ چھوٹے بھائی مولانا محفوظ الحسن فارغ دیو بند اور مرحوم امیر شریعت مولانا منت اللہ رحمانی کے ہم جماعت  تھے۔
 
ڈاکٹر اعجازی نے اگر شاعری کو اپنا میدان عمل بنایا ہوتا تو آج وہ ایک بلند پایہ شاعر ہوتے۔ انہوں نے فقط وقتاً فوقتاً اپنے احساسات و جذبات کی ترجمانی کے لئے اشعار کہے۔ ان کا تخلص ’’احمد‘‘ اور ’’اعجازی‘‘ تھا۔ پیش ہیں ڈاکٹر اعجازی کی شاعری کے چند نمونے
 
احمدؔ خستہ تو کیوں جور سے گھبراتا ہے
جب کہ فرعون سے دیکھا ہے خدا کا انصاف
 
مدت سے تو اب ان کے ملنے کی تمنا تھی
آج اس نے بلایا ہے ، لینے کو قضا آئی
 
دل چاہتا ہے ہند کو آزاد دیکھئے
اٹلی پسند مجھ کو ، نہ ہے جرمنی پسند
 
جگر تو حضرت چرچل کا دیکھئے صاحب
کہ بم برستے ہیں اور مسکرائے جاتے ہیں
 
سوراج کے ملنے کی نہیں بنتی ہے تدبیر
بن بن کے بگڑ جاتا ہے نقشہ مرے دل کا
نہ سیرت ہے مسلم کی ، نہ صورت اہل قرآن کی
بگڑ کر رہ گئی تصویر بھارت میں مسلماں کی
نہ ٹیکی ہی ہے ہندو کی نہ داڑھی ہے مسلماں کی
بگڑ کر رہ گئی تصویر ہندو کی ، مسلماں کی
 
بہت آساںہے قصر و حور کا ارمان کر لینا
بہت مشکل ہے اس کی یافت کا سامان کرلینا
یہاں ہے لو سے بچنے کے لئے جنت نشاں کوٹھی
وہاں دوزخ سے بچنے کا بھی کچھ سامان کر لینا
یہاں سیر و سیاحت کو غبارے اور موٹر ہیں
وہاں کے واسطے رف رف کا بھی سامان کر لینا
 
بتا دو رحمت عالم کا وہ دیار مجھے
جہاں سکون ملے گا ، جہاں قرار مجھے
سلف انہیں کے پہاڑوں سے لیتے تھے ٹکر
خلف کو دیکھ کر کیوں کر ہو اعتبار مجھے
 
عطا ہو پھر وہی ایمان تم کو
کوئی خالد ، کوئی کرار نکلے
 
وار پہ کون چڑھا جنگ میں آزادی کے
انڈمن کون گیا جنگ میں آزادی کے
گولیاں سینے پہ لیں جنگ میں آزادی کے
لڑکے لندن میں مرا جنگ میں آزادی کے
تھے تمہارے ہی سلف آج یہ سردی کیوں ہے
فخر سے آگے بڑھو ، جشن میں آزادی کے
 
لعنت فرقہ پرستی کا برا ہو جس سے
امن و چین گیا ، ملک پریشاں ہے آج
ہمت انساں بدل دیتی ہے تقدیروں کو
مطمئن ہوگا وہ آخر جو پریشاں ہے آج
 
جفا کرنا تری عادت ، وفا کرنا مرا شیوہ
وہ تیرا کام ہے ساقی ، یہ میرا کام ہے ساقی
 
رہے تیرے ہی ہاتھوں میں ہمیشہ نظم میخانہ
غلط سمجھا ہے تو ، تیرا خیال خام ہے ساقی
 
سلیقہ جس کو پینے کا ہے ، تشنہ کام ہے ساقی
جوہے نا اہل ، قسمت میں اسی کے جام ہے ساقی
 
اکھڑی ہوئی سانسوں کا سماں دیکھ تو لیتے
بجھتی ہوئی مشعل کا دھواں دیکھ تو لیتے
لو ڈوب چکی ہے مرے ارمانوں کی کشتی
اے جان جہاں آکے ذرا دیکھ تو لیتے
 
**********
 
You are Visitor Number : 5412