donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Maikash Akbarabadi
Poet
--: Biography of Maikash Akbarabadi :--

 

 میکش اکبر آبادی 
 
خودنوشت
 
 میں اپنے والد کا بڑا بیٹا تھا اس لئے ان کے وصال کے بعد مجھے ان کی جگہ بٹھا دیا گیا۔ صوفیوں کی اصطلاح میں اسے سجادہ کہتے ہیں اس وقت میری عمر پونے دو سال کی تھی۔ یہ محض ایک رسم تھی کیوں کہ میں نے نہ اپنے والد سے علم حاصل کیا تھا اور نہ انہوں نے مجھے اپنی جگہ بٹھایا تھا۔ لیکن شہر کے بڑے بڑے سجادوں نے اسے جائز اور مناسب سمجھا اور ’’ کردیم و شد‘‘ کے مطابق میں سجادہ ہو گیا۔ اگر میں آئندہ عمر میں ان علوم سے آشنا نہ ہوا ہوتا تو میں بھی ہندستان کے نوے فیصدی موروثی سجادوں کی طرح ہوتا ۔ خیر عرض کرنا یہ تھا کہ توقعات اور میرے سرپرستوں کی خواہشات کے مطابق سب سے پہلے تو مجھے عربی، فاریس، معقولات ، منقولات کا مستند عالم ہونا چاہئے تھا۔ علم باطن حاصل کرنے کے علاوہ ریاضت و مجاہد ہ اور تقویٰ و طہارت کی زندگی گذارنا چاہئے تھا۔ خاندانی رسوم و روایات کا سختی سے پابند ہونا چاہئے تھا۔ شہر میں ایسا اثر اور ہر دلعزیزی حاصل کرنا چاہئے تھی کہ عوام میرے اشارے پر چلیں، حکام میرے سلام کے لئے حاضر ہو ںاور ہزاروں آدمی میرے مریدوں میں شامل ہو جائیں۔ کیوں کہ یہ سب چیزیں میرا حق اور میری میراث تھیں۔ اور اسے مجھے حاصل کرنا ہی تھا۔
 
 لیکن میں ایسانہ ہو سکا سوائے اس کے کہ جتنا علم مجھے حاصل کرایا گیا اور جتنا میں حاصل کر سکاوہ کر لیا۔ اور وہ میرے بہی خواہوں اور سرپرستوں کی توقعات سے زیادہ تھا۔ درحقیقت وہ کتنا تھا اس سے بحث نہیں۔ اسی طرح علم باطن بھی بحیثیت علم کچھ نہیں کچھ حاصل کیا۔ لیکن اس پر عمل کے لحاظ سے کوئی کامیابی حاصل نہ کر سکا۔ اس کے علاوہ میں نے رسوم و روایات کی پابندی بھی نہیں کی۔ میں سنے ہوئے تھا کہ میرے والد بزرگوار اور جد محترم نے بہت سی رسموں اور رواجوں میں اصلاح کی تھی یہاں تک کہ لباس اور ضع میں بھی اصلاحیں کی تھیں۔ مثلاً اس زمانے میں شرفا کی عورتیں کرتی پہنتی تھیں جس میں تقریباً پورا پیٹ ناف تک کھلا رہتا تھا ڈھیلے پانئنچوں کا فرشی پاجامہ عورتوں کا معزز لباس سمجھا جاتا تھا۔ جسے اٹھا کر چلنے میں پنڈلیاں تو ضرور ہی کھل جاتی تھیں اسی طرح مرد گول پردے کا انگر کھا پہنتے تھے اس کے نیچے اور کوئی کپڑا نہیں پہنا جاتات ھا اس لئے سینے کا تقریباً پورا نصف حصہ ننگا رہتا تھا۔ میرے جد محترم نے اپنے یہاں اور اپنے مریدین و معتقدین کے خاندانوں میں عورتوں کو کرتے پہنائے اور پاجامے کے پائنچوں کا طول عرض اتنا کم کرادیا کہ اٹھا کر چلنے کی ضرورت ہی نہیں ہو بالکل جیسے آج کل کے فینسی پاجامے ہوتے ہیں۔ اور انگرکھا ایسا ایجاد کیا جو سامنے سے بالکل بند ہوتا ہے۔ میرے والد بزرگوار ریاکاری اور نمائش سے سخت نفرت کرتے تھے انہوں نے مرید کرنا بھی چھوڑ دیا تھا اور اپنی وضع دنیا داروں کی سی کر لی تھی۔ اس بارے میں میں نے ان کی تقلید کی اور ہدف ملامت بننے سے گریز نہیں کیا۔
 
میں نے اہل شہر کی خدمت کرنا چاہی اور اپنے بزرگوں کی روش کو قائم رکھنا چاہا مگر زمانہ بدل گیا اور میں نے زمانے کے ساتھ نہ بدل سکا۔ میرے دادا صاحب تو گوشہ نشیں تھے مگر ان کے بھائی اور میرے والد وغیرہ کا طرز عمل یہ تھا کہ عوام سے محبت و خلوص سے پیش آتے اور حکام سے بے توجہی اور تکبر کے ساتھ عوام ان کے ساتھ رہتے ان کے احکام کی تعمیل کرتے اس لئے حکام میرے بزرگوں کی خوشامد کرتے تھے کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ عوام ان کے ہاتھ میں ہیں۔اس طرح وہ حکام سے عوام کی سفارشیں کرتے اور ان کی کار برآری کرتے رہے میرے ابتدائی زمانے میں ایک حکام رس طبقہ ہندو مسلمانوں میں ایسا پیدا ہو گیا تھا جو عوام کو حکام کی مرضی پر چلانے لگا تھا گورنمنٹ ان لوگوں کی عزت افزائی کرکے عوام کو مرعوب کرتی تھی اور ان کی معرفت عوام کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرتی تھی۔ یہ عوام کو لڑاتے تھے پھر سفارش کرکے ان کو بچاتے بھی تھے۔ ان حضرات کے بعد ایک طبقہ پیدا ہوا جو ارباب اختیار کی آب و رنگ سے تواضع کرکے ان سے کام نکالتا تھا۔ مگر کچھ نہ کچھ وضع دار اور آبرو کو سنبھالے ہوئے یہ کام کرتا تھا اور اپنی شان بھی قائم رکھنے کی کوشش کرتا تھا پھر یہ شان بھی ختم ہو گئی اب معزز کوئی نہیں ہے۔ جو ہیں وہ گھر بیٹھے ہوئے ہیں۔ صرف اذلال رہ گئے ہیں۔ بعض دفعہ تو لذیذ بود حکایت کسی کی وجہ سے دراز تر کہنا پڑتا ہے لیکن یہاں بے محل طول صرف اس لئے دیا گیا ہے کہ کہنے سے کچھ بھی ہلکا ہو جاتا ہے۔
 
 ان سب باتوں کے علاوہ میں شاعر بھی ہو گیا اس لئے کہ میں فطرتاً اور طبعاً شاعر ہوں ۔ اس میں روایت کو دخل نہیں ہے کیوں کہ جب میں نے شعر کہنا شروع کیا تو مجھے اچھی طرح پڑھنا لکھنا نہیں آتا تھا۔ یہ تو مجھے بہت بعد میں معلوم ہوا کہ میرے بزرگ بھی شعر کہتے تھے اور میرے جد اعلیٰ میر اور نظیر کے عہد کے صاحب دیوان اردو و فارسی کے شاعر تھے۔ اور میرے جد محترم تصوف کی مشہور کتاب جواہر غیبی کے مصنف فارسی کے شاعر تھے اور والد صاحب اردو و فارسی میں شعر فرماتے تھے۔ یہ ضرور ہے کہ میں شاعروں کا سا کردار نہ بنا سکا نہ اپنے آپ کو پیش کرنے اور شاعری کو کسبِ معاش اور حصولِ شہرت کا ذریعہ بنا سکا ۔ برسوں میرے گھر کے افراد اور احباب کو ہی اس کا علم نہ ہو سکا کہ میں شعر کہتا ہوں ۔ یہ کمی اور کمزوری میری روایات کی وجہ سے بھی ممکن ہے۔ مگر غالباً اس کا سبب
میری خوئے حجاب کم آمیزی ہے اور شاید حریفوں اور ہم پیشہ حضرات کی حد سے بڑھی ہوئی ’’ انا‘‘ اور 
طلبِ شہرت کا رد عمل بھی ع 
زننگ زاہد افتادم بہ کا فرماجرائی ہا
جن شخصیتوں نے مجھے صرف متاثر ہی نہیں کیا بلکہ اپنی تربیت ، اخلاق و کردار سے میری تعمیر بھی کی ان میں سب سے پہلی میری مادرِ محترم کی ذات ہے۔ وہ اپنی زندگی بھر میرے دل و دماغ پر چھائی رہیں اور اپنی موت کے بعد دل پر ایک مستقل زخم اور دماغ و ذہن پر ایک غیر معمولی تقدس و حیرت کا احساس چھوڑ گئیں جس میں ان کی غیر معمولی قسم کی موت اور موت کے بعد کے عجیب و غریب انکشافات نے ان کی زندگی کی بہ نسبت کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔ مجھے ان کا وہ افسردہ تبسم یاد ہے جب میں ایک عزیز کی ماں کی موت کی خبر سن کر رویا تھا تو انہوں نے مسکراکر کہا تھا ’’ تمہیں میرے مرنے کا خیال آگیا‘‘ ۔ بات دراصل یہی تھی۔ میں ان کی زندگی میں بھی انہیں بہت رویا ہوں میں سوچا کرتا خدا نہ کرے ان کا کچھ ہو گیاتو میں کہاںجائوں گا ۔ مستقبل پر جہاں تک نظر جاتی اندھیرا ہی نظر آتا۔ یہ سننے ہوئے تھا کہ والد بزرگوار کی آنھیں بند ہوتے ہی ہم پر تباہی اور مصیبت کا پہاڑ ٹوٹ پڑا تھا۔ اور ماں جب بیمار ہوتیں تو پھر ایسی ہی تباہی ہم پر سایہ ڈالتی۔ معلوم ہونے لگتی ۔ ہم دونوں بھائی جب شرارت کرتے اور وہ اکتاجاتیں تو وہ کہتیں اچھا نہیں مانو گے ، لو میں مرتی ہوں ، پھر آنکھیں بند کرکے لیٹ جاتیں ہم پکارتے کہ اماں اماں وہ نہیں بولتیں ہم دونوں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگتے۔ وہ آنکھیں کھول کر اٹھ بیٹھتیں ، گلے سے چمٹالیتیں اب ایسا نہ کرنا نہیں تو میں مر ہی جائوں گی۔ پھر ایک ایسے ہی موقع پر میں نے ان کے تلووں میں گدگدی کرکے انہیں زندہ کر لیا تھا۔ وہ ہنستی ہوئی پائوں سمیٹ کر اٹھ بیٹھی تھیں۔ بڑا شریر ہے کہتے ہوئے انہوں نے میرے گال تھپ تھپائے تھے۔ انہوں نے ہم دونوں بھائیوں کو کبھی نہیں مارا وہ ایسی ہی کسی نہ کسی ترکیب سے تنبیہ کر دیا کرتی تھیں۔ اپنے بزرگوں کے ہمارے باپ داد کے واقعات سنایا کرتیں اور ہم سوچتے بڑے ہو کر ہم بھی ایسے ہی ہوں گے۔
 
 اماں کا سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ انہوں نے کبھی ہم دونوں بھائیوں کو پنی بے چارگی اور یتیمی کا احساس نہیں ہونے دیا۔ چچا زاد پھوپھی زاد بھائیوں کو دیکھ کر ہم میں یہ احساس پیدا ہونا یقینا تھاکہ جو کچھ یہ کر رہے ہیںہم بھی کریں جو کچھ ان کے پاس ہے ہمارے پاس بھی ہو ۔ وہ ہمارے ناز اٹھائیں اور اکثر فرمائشیں بھی پوری کرتی مگر ساتھ ہی ساتھ تربیت بھی کرتی جاتیں ۔ یہاں تک کہ ہم بچپن سے ہی کسی کی دیکھا دیکھی کوئی کامکرنے کو بُرا سمجھنے لگے تھے کسی کی ( کھانے یا کھیلنے کی) چیز کی طرف دیکھنا ہمیں بہت ہی شرمناک فعل معلوم ہوتا تھا۔ اس کی سی چیز حاصل کرنے کی کوشش کا تو کوئی سوال ہی نہیں ہم ایسی جگہ کھڑے بھی نہ ہوتے جہاں کوئی ایسی چیزیں لئے بیٹھاہو۔کچھ کھاپی رہا ہو یا ہنس بول رہا ہو۔ ہماری دادی ، پھوپھی، چچی ایک گھر میں ہوتے ہوئے بھی جب تک ہمیں نہ بلاتیں ہم نہ جاتے ۔ ہمارا جی بھی نہ چاہتا اور ہم اسے اچھا بھی نہیں سمجھتے تھے۔
 
دس سال سے پندرہ سال کی عمر تک کے ہم چھ سات چچازاد ، پھوپھی زاد بھائی تقریباً ایک ہی گھر کے مختلف حصوں میں رہتے تھے۔ سب نے مل کر ایک انجمن بنائی اور اس میں پندرہویں مشاعرے ہونے لگے کیوں کہ ہم میں دو تین لڑکے شعر کہنے لگے تھے اور مشاعرے اگرچہ دیکھے نہ تھے مگر اکثر اپنے بڑوں سے ان کا ذکر سنتے رہتے تھے جو شہر میں مختلف مقامات پر ہوا کرتے تھے۔ ہماری انجمن کے مشاعروں میںمیری غزل پسند کی جاتی تھی۔ میرے چچازاد بھائی جو ہم سب میں بڑے اور ہم سب سے زیادہ تعلیم یافتہ تھے میری غزلوں پر شک کیا کرتے تھے حالاں کہ بعد میں وہ قبولے کہ ہ خود اپنے والد مرحوم کی غزلیں تخلص بدل کر پڑھاکرتے تھے۔ میری اس زمانے کی غزلیں ایسی ہوتی تھیں کہ کوئی بھی شاعر انہیں اپنی طرف منسوب کرتے ہوئے شرمائے گا۔ مگر ان کی طنز آمیز پہلو دار داد کا مجھ پر بڑا شدید رد عمل ہوا اور میں نے اپنا معمول بنا لیا کہ میرا شعر اگر کسی کے شعر کا ہم مضمون ہوتا تو میں اپنا شعر کاٹ دیا کرتا۔ پھر ایک عرصے بعد کچھ واقف فن حضرات نے مجھے سمجھا یا کہ اگر تمہارا شعر ہم مضمون ہونے کے باوجود دوسرے کے شعر سے اچھا ہوا اور اس میں ترقی کا کوئی پہلو ہوا تو اسے کاٹنا نہ چاہئے۔ میرا عمل اب تک اسی پر ہے۔ پھر بھی متقدمین کے شعر سے اگر مضمون لڑ جائے تو میں اپنا شعر کاٹ دینا ہی اچھا سمجھتا ہوں ان کے تقدم اور احترام کا تقاضا یہی ہے کہ اس ضمن میں بعض موقع ایسے بھی آئے کہ بعض نامور اور مشاہیر شعراء نے میرے کسی شعر کو سن کر یہ اعتراف کیا کہ یہ مضمون نیا ہے۔ اور پھر تھوڑے دن بعد ہی وہی مضمون ان حضرات نے اپنے شعرمیں باندھ کر مجھے سنایا۔ غالباً یہ حضرات اس کو جائز سمجھتے ہوں مگر میں اسے جائز نہیں سمجھتا اور سخت معیوب سمجھتا ہوں ۔ مشاعروں میں شریک ہونے اور دوسرے کو اپنے شعر سنانے کا مجھے کبھی شوق نہیں ہوا۔ مولانا سیماب اکبر آبادی مرحوم نے میری اس عادت کا تذکرہ شاعر آگرہ نمبر میں افسس اور شکایت کے ساتھ کیا ہے۔ اور مولانا حمد حسن قادری مرحوم نے نقد و نظر میں لکھا ہے ۔
 
 ’’ غزل سنانے کا کوئی اصرار کرتا ہے تو تین یا چار شعر پڑھ دیتے ہیں پوری غزل شاید ہی کبھی سنائی ہو۔ مولاناسیماب محروم نے مجھے سمجھایا کہ یہ شعر عاقبت میں تو کام آئیں گے نہیں انہیں چھپا کر رکھنے سے کیا فائدہ ہے۔ اس کے بعد سے میں نے مولانا کے رسالے’’ پیمانہ‘‘ میں کلام دینا شروع کر دیا اور پھر دوسرے رسالوں میں بھی چھپنا شروع ہو گیا۔ لیکن اچھے شعر سن کر اچھے شعر کہہ کر اور انہیں معیاری رسائل میں شائع کراکر اور اسی طرح دانشمندوں سے اپنے اشعار کی داد پاکر مجھے خوشی ہوتی ہے۔ ۱۹۴۰ء میں میرا سیدھا ہاتھ کندھے کے پاس سے ٹوٹ گیا اور مجھے شفا خانے میں داخل ہونا پڑا۔ کہنی میں سوراخ کراکے اک لوہے کی کیل ڈال دی گئی اور اس میں لوہے کا وزن باندھ کر میرا ہاتھ لٹکا دیا گیا۔ دوسرے روز صبح ایک صاحب تشریف لائے یہ میڈیکل کالج میں پڑھتے تھے اور میرے شناسا تھے۔ مجھے دیکھتے ہی فرمانے لگے ارے صاحب میں تو تلاش کرتا ہوں آپ کے دولت خانے پر گیا وہاں ملاقات ہی نہ ہوئی ۔ میں نے عرض کیا میں خود ہی آپ کے ہسپتال میں حاضر ہو گیا۔ فرمائیے کیا خدمت ہے۔ کہنے لگے بات یہ ہے کہ ہمارے پرنسپل صاحب جا رہے ہیں ہم انہیں رخصتی پارٹی دے رہے ہیں ان کے متعلق ایک نظم لکھ دیجئے۔
جس ہاتھ سے نظم لکھتا وہ تو یہ آپ کے سامنے لٹکا ہوا ہے۔ میں نے عرض کیا۔
 صاحب آپ بولتے جائیے میں لکھتا جائوں گا۔
 آپ نے فلاں صاحب سے نظم کیوں نہیں لکھوالی وہ بہت اچھے شاعر ہیں
 میں پہلے ان کے ہی پاس گیا تھا مگر وہ تو معاوضہ مانگتے ہیں
 اس زمانے میں ایک اینگلوانڈین نرس نے میری پیٹھ پر اسپرٹ پائوڈر ملتے ہوئے کہا :
 میں نے سنا ہے آپ بڑے فیمس پوئٹ (Famous Poet ) ہیں۔
 پوئٹ  تو ضرور ہوں ، فیمس ہوںیا نہیں یہ نہیں معلوم۔
تو پھر آپ لیٹے لیٹے کیا کرتے ہیں نرس پر ایک نظم لکھ دیجئے نا!
اور میں نے نرس پر ایک نظم لکھ دی یہ نظم حرفِ تمنا میں شامل ہے۔
حضرت سراج السالکین شاہ محی الدین احمد نبیرہ حضرت شاہ نیاز احمد بریلوی کا ذکر نہ کرنا بڑی حق نا شناسی اور کفران نعمت ہوگا۔ کیوں کہ حضرت کے فیض تعلیم ہی سے میں کفر و اسلام کی حقیقت سے آشنا ہوا اور مذہبو تصوف ے بہت سے نظریوں سے مجھے رہائی حاصل ہوئی۔ کشف و کرامات کی حقیقت معلوم ہو کر دل سے ان کی تمنا جاتی رہی اور انسان کے مقام اور کائنات کی حقیقت سے روشناسی حاصل ہو گئی کیوں کہ میں نے حضرت کی صورت میں انسان کامل کی زیارت کر لی۔ یہ ضرور ہے کہ اپنی بے عملی کی وجہ سے میں علم کی حدود سے آگے نہ بڑھ سکا لیکن یقین کی وہ دولت جو مجھے ان کی خدمت میں حاصل ہوئی میرے لئے کافی ہے۔
 
تیرے میخانے کی تلچھٹ بھی ہے کافی ساقی
 بھر دے چُلّو میں جو شیشے میں ہے باقی ساقی
 
میں جب حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا تو میری عمر۱۲۔ ۱۳ سال کی ہوگی اور میں ٹونک کے ایک نیم غیر مقلد مولوی سے مشکوۃاور تفسیر جلالین پڑھتا تھا۔ اور تمام صوفیوں اور تصوف سے بد ظن ہو چکا تھا۔ یاکردیا گیا تھا۔ اس لئے حضرت کی حرکت و سکون کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھتا تھا۔ پھر میں نے حضرت سے چند مختصر رسالے تصوف کے پڑھے۔ چند تقریریں سنیں اور حضرت کا کردار و عمل دیکھا میں اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ بایزید جنید شبلی و رومی ابن سینا و فارابی کے کرامات و مقامات اور علم و دانش کے افسانے کتابوں میں پڑھے تھے وہ ان آنکھوں سے دیکھے اور سمجھے۔ میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ میں ان کے کشف و کرامات سے متاثر نہیں ہوا۔ لیکن مجھ پر سب سے زیادہ اثر ان کے خارج از انداز و قیاس علم و دانش اور ان کے کردار و عمل کا ہوا۔ ان کی خدمت میں گذرے ہوئے چند لمحے میری ساری عمر کا حاصل ہیں۔
 
 وہ چند لمحے جو گذرے ہیں ان کی صحبت میں 
 نہ ہوتے یہ بھی تو اس زندگی کا کیا کرتے
 
 اتنے سرد و گرم دیکھنے کے بعد ان واقعات کا لکھنے والا ذی ہوش اور پختہ کار ہوگیا ہوگا تو یہ غلط ہے۔ اب تک وہی بچوں کا سا سادہ مزاج قائم ہے سب کی بات کا یقین اور سب سے خلوص جو آدمی ایک مرتبہ دھوکا دے چکا ہو وہ پھر جب چاہے دے لے۔ جو ابھی نا خوش کر چکا ہوں وہ ذرا سی دیر میں پھر خوش کر لے ۔ حسن اور اچھی چیزوں میں وہی جذب و کشش جو بچپن سے شروع ہوئی تھی۔ علمی صحبتوںکا وہی شوق اور ذی علم حضرات سے وہی محبت جو ابتدائے طالب علمی میں تھی۔غرض دیکھا بہت کچھ سمجھا بہت کم اور عمل کچھ نہ کیا۔ اب کبھی امنگ اٹھتی بھی ہے تو یہ سوچ کر رہ جاتا ہوں۔
 
 چراغ کشتہ لے کر ہم تری محفل میں کیا آتے
 جو دن تھے زندگی کے وہ تو رستے میں گزار آئے
 
میکش اکبر آبادی
 
**************************************
 
You are Visitor Number : 2606