donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Masood Hussain
Poet/Writer
--: Biography of Masood Hussain :--

 

 مسعود حسین 
 
خودنوشت
 
 میرا تعلق قائم گنج، ضلع فرخ آباد ( یو پی) کے ایک آفریدی پٹھان گھرانے سے ہے جو سیف و قلم دونوں کے لئے مشہور رہا ہے۔ میرے مورثِ اعلیٰ حسین خاں، معروف بہ مداخون( بڑا استاد)محمد شاہ کے عہد میں دیگر آفریدی خیلوں کے ساتھ تیرہ کے آزاد علاقے سے تلاش معاش میں محمد خاں بنگش کے آباد کردہ قصبے قائم گنج آکر ’’ مول خیل‘‘ میں آباد ہو گئے۔ دیگر پٹھان گھرانوں کے بر خلاف انہوں نے تلوار کے مقابلے میں قلم کو ترجیح دی۔ اور نوار د پٹھانوں کے بچوں کی تربیت و تدریس کا پیشہ اختیار کرکے’’ بڑے استاد ، کی عرفیت حاصل کی۔ ان کے بعد تین نسلوں تک پیشہ آبا سپہ گری رہا تا آں کہ میرے دادا فدا حسین خاں نے حیدر آباد میں سکونت اختیار کی اور وکالت کا پیشہ اختیار کیا۔وہ اس پیشے میں نہایت کامیاب رہے لیکن عمر نے وفا نہ کی اور ۳۹ سال کی عمر میں ۱۹۰۷ء میں انتقال کیا۔ میرے والد مظفر حسین خاں نے اپنی والدہ کے ساتھ شمالی ہند واپس آکر اٹاوہ اور علی گڑھ میں اپنی تعلیم مکمل کی اور لوٹ کر ریاست حیدر آباد میں سب ججی کے عہدے پر فائز ہوئے۔ ان کی عمر نے بھی وفا نہ کی اور ۲۹ برس کی عمر میں ۱۹۲۲ء میں انتقال کر گیا۔ ان کے انتقال کے وقت میری عمر چار سال تھی۔ دو سال بعد میری والدہ فاطمہ بیگم نے بھی انتقال کیا جو قائم گنج کے رئیس اعظم جان عالم خاں کی دختر تھیں۔ میری ابتدائی پرورش ننھیال میں ہوئی۔ دس برس کی عمر میں جامعہ ملیہ اسلامیہ جا کر دوسرے درجے میں داخلہ لیا۔ بچپن میں اپنی نانی بی کی شخصیت سے بہت متاثررہا۔ بڑی شاندار رکھ رکھائو کی خاتون تھیں۔ ۶ سال تک جامعہ کا طالب علم رہنے کے بعد ۱۹۳۳ء میں اپنے چھوٹے چچا ڈاکٹر محمود حسین کے ہمرا ہ ڈھاکہ چلا گیا جہاں ان کا ریڈر شعبہ تاریخ کی حیثیت سے تقرر حال میں ہی ہوا تھا۔ ڈھاکہ بورڈ سے میں نے ۱۹۳۵ء میں ہائی اسکول اور ۱۹۳۷ء میں انٹر میڈیٹ اعزازاتکے ساتھ پاس کئے۔ بی اے کے لئے پھر دہلی مراجعت کی اور اینگلو عربک کالج ( دہلی یونیورسٹی سے بی اے کی ڈگری لی۔ ۱۹۳۹ء میں ایم اے اردو میں جاکر مسلم یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور ۱۹۴۱ء میں پہلے درجے میں کامیاب ہوا۔ اس کے بعد کچھ عرصے تک آل انڈیا ریڈیوکے دہلی اسٹیشن پر ہندی ۔ اردو ٹاکس انچارج کی حیثیت سے کام کیا۔ دل نہ لگا تو پھر علی گڑھ مراجعات کی اور پی ایچ ڈی میں داخلہ لے لیا ۔ سال بھر کے اندر شعبہ اردو میں عارضی لکچرر ہو گیا اور پھر مستقل ۱۹۵۰ء میں بغرض اعلیٰ تعلیم یورپ کا سفر کیا۔ لندن میں 9 ماہ کے قیام کے بعد بالاخر پیرس یونیورسٹی منتقل ہو گیا جہاں سے ڈی لٹ (دکترا دو یونیورستے) کی ڈگری حاصل کی۔ ۱۹۵۳ء میں علی گڑھ واپس آکر ریڈر ہو گیا۔ جہاں سے ۱۹۶۲ء میں پروفیسر صدر شعبہ اردو کی حیثیت سے عثمانیہ یونیورسٹی چلا گیا۔ اس سے قبل ۶۰۔۱۹۵۸تک امریکہ میں قیام کیا۔ پہلے سال ایسوسی ایشن آف ایشین اسٹڈیز کے سنیئر فیلو کی حیثیت سے اور دوسرے سال کیلی فورنیا یونیورسٹی ( برکلے) میں استاد کی حیثیت سے عثمانیہ یونیورسٹی میں چھ سال تک قیام کرنے کے بعد بحیثیت صدر شعبہ لسانیات پھر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی آگیا۔ ۱۹۷۳ء میں جامعہ ملیہ اسلامیہ وائس چانسلر ہو کر چلا گیا۔ ۱۹۷۸ء میں ایک بار پھر علی گڑھ کا رخ کیا۔ بالآخر ۱۹۸۰ء میں وہاں سے ریٹائر ہو گیا۔ اس کے بعد سوا سال تک کشمیر یونیورسٹی کے اقبال انسٹی ٹیوٹ میں بحیثیت وزٹنگ پروفیسر کام کیا اور وہیں ’’ اقبال کی عملی و نظری شعریات‘‘ تصنیف کی جس پر ساہتیہ اکیڈمی نے ۱۹۸۴ء کا ایوارڈ دیا۔ ۱۹۸۲ء سے ۱۹۸۵ء تک ترقی اردو بیورو کی اردو لغت کا چیف ایڈیٹر رہا۔ ۱۹۷۳ء سے جامعہ اردو کے اعزازی شیخ الجامعہ کی حیثیت سے کام کر رہا ہوں۔
میں نے اپنے تعلیمی کیریر میں ایک درجن سے زائد کتابیں شاعری، تدوین ، متن لسانیات اور لغات پر لکھیں اور تقریبات چار درجن مضامین اور خطبات جن میں سے بعض مجموعوں کی شکل میں شائع بھی ہو چکے ہیں۔ ۱۹۴۲ء سے ۱۹۵۶ء تک انہماک کے ساتھ شاعری بھی کی۔ ’’ دو نیم‘‘ کے نام سے میرا مجموعہ کلام پہلے۱۹۵۶ء اور طبع ثانی کے طور پر ۱۹۸۶ء میں بہ اضافہ شائع ہو چکا ہے۔ اس میں گیت بھی ہیں، نظمیں بھی ہیں اور غزلیں بھی ۔ 
 
****************************
 
You are Visitor Number : 2247