donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Moinuddin Dardayee
Writer
--: Biography of Moinuddin Dardayee :--

 

 معین الدین دردائی 
 
 
 معین الدین دردائی ابن حکیم سراج الدین بہار شریف کے قریب موضع سرتھوا، اسلام پور ( موجودہ ضلع نالندہ)میں پیدا ہوئے۔ ان کے سال پیدائش میں اختلاف ہے۔ سید حسن مثنیٰ ندوی نے مہر نیمروزکراچی کے اختر اورینوی نمبر میں ۱۹۹۲ء لکھا ہے جس کی تائید پروفیسر وہاب اشرفی نے تاریخ زبان اردو جلد دوم میں کی ہے۔ مگر محمد ظفر علی خاں ( ملاحظہ ہو زبان و ادب ، پٹنہ جون تا ستمبر ۲۰۰۵، ۱۹۱۳ء بتاتے ہیں) قرینہ یہی ہے کہ وہ ۱۹۱۲ء میں پیدا ہوئے تھے چوں کہ مہر نیمروز میں جو تعارف شریک اشاعت ہے وہ ان کی زندگی میں اور غالباً ان کے مشورے سے لکھا گیا تھا ۔ ان کے نام کے ساتھ ’’ دردائی ‘‘ کا جو لفظ ہے وہ مشہور صحابی حضرت ابو دردائؓ کی طرف نسبت ہے۔ ان کی نسبت مشہور صوفی اور بزرگ حضرت مخدوم شرف الدین یحیٰ منیری کے خانودے سے بھی ہے۔
 
دردائی کا خانوادہ نہ صرف مذہبی تھا بلکہ زہد و تقویٰ کے اعتبار سے ایک نمایاں مرتبے کا بھی حامل تھا۔ اس لئے انہیں گھر پہ عربی و فارسی اور دینیات کا بنیادی درس دینے کے بعد مزید تعلیم کے لئے ندوۃ العلماء بھیج دیا گیا۔ معاشی پریشانیوں کے سبب وہاں سے کچھ ہی دنوں بعد واپس آکر مدرسہ شمس الہدیٰ میں داخلہ لیا۔ وہاں سے اردو آنرز اور ایم اے کے امتحانات پاس کرنے کے بعد چند برسوں تک انجمن ترقی اردو ( ہند) میں ریسرچ اسکالر کی حیثیت سے ہندستانی ڈکشنری مرتب کرتے رہے۔ پھر ۱۹۴۶ء میں پٹنہ یونیورسٹی سے فارسی زبان و ادب میں ایم اے کرنے کے بعد کئی کالجوں میں درس و تدریس کے فرائض انجام دیئے۔ قیام پاکستان کے بعد ۱۹۴۸ء میں مشرقی پاکستان ( اب بنگلہ دیش) کے ایڈورڈ ڈگری کالج میں صدر شعبہ اردو ہوئے۔ ایک چھاپہ خانہ اور دار الاشاعت بھی قائم کیا اور ہمہ دم علمی و تحقیقی کاموں میں مصروف رہے۔ اسی دوران ۱۹۵۰ء میں ان پر فالج کا حملہ ہوا۔ تقریباً دو سال تک ذی فراش رہے۔ کچھ دنوں کے لئے اپنے آبائی وطن بہارشریف چلے گئے۔ وہاں بھی جسمانی طور پر زیادہ فعال نہیں رہے۔ مگر ان کا قلم رواں دواں رہا۔ کراچی میں ہی ۴؍ اپریل ۱۹۷۹ء کو وفات پائی۔ ان کے پانچ بیٹے خالد ، شاہد، راشد ، ماجد اور زاہد کراچی میں ہیں اور ما شاء اللہ خوشحال زندگی گذار رہے ہیں۔ ایک بھائی مظفر الدین دردائی اسلام پور نالندہ میں بقید حیات ہیں۔
 
دردائی اسکول کی طالب علمی کے زمانے سے ہی علم و ادب کی طرف مائل رہے۔ بقول محمد ظفر علی خاں ان کے دو مضامین ۱۹۳۱ء میں ہی ’’ عورت سے خطاب ‘‘ اور عورت کا جواب ‘‘ کے عنوان سے رسالہ ندیم گیا میں شائع ہوئے۔ پھر انٹر کی تعلیم کے دوران ایک تحقیقی مضمون احقر بہاری نومبر ۱۹۳۴ء میں معارف میں منظر عام پر آیا جس نے ان کے اساتذہ کو ان کی حوصلہ افزائی اور سرپرستی کی ترغیب دی ۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں حصول تعلیم کے دوران وہ مختلف ادبی انجمنوں اور رسالوں سے وابستہ رہے۔ یہ سلسلہ بعد میں بھی جاری رہا۔ جس کے سبب قاضی عبد الودود ، احسن مار ہروی اور مولوی عبد الحق جیسے مشاہیر نے ان کی پذیرائی کی۔ گرچہ ان کی ذاتی زندگی خوش حال نہیں گذری اور ان کی علمی و ادبی صلاحیتوں کو پوری طرح منظر عام پر آنے کا موقع نہیں مل سکا۔ اس کے باوجود انہوں نے اردو زبان و ادب اور تصوف سے متعلق جو کتابیں لکھیں وہ ان کی تحقیقی و تنقیدی بصیرت کا واضح ثبوت ہیں۔ ان تصنیفات کی ایک فہرست ’’ مہر نیمروز ‘‘ کے اختر اورینوی نمبر میں موجود ہے۔ دوسری فہرست محمد ظفر علی خاں نے اپنے مذکورہ بالا مضمون میں مرتب کی ہے۔ ان دونوں کے موازنے و مقابلے کے بعد تاریخ اشاعت کے اعتبار سے ایک جامع فہرست اس طرح مرتب کی جا سکتی ہے۔
 
۱۔ بہار اور اردو شاعری ۱۹۴۷۔ ۲۔ ہندستان کی قومی زبان اور رسم الخط ۱۹۴۷ء ، ۳۔ تحقیقی مقالے۔۱۹۵۰ء  کے آس پاس۔۴۔ جلوے۔ ۱۹۵۸ء ، ۵۔تاریخ سلسلہ فردوسیہ ۔۱۹۶۲ء ،۶۔ لسانی مطالعے ( لاہورسے) ۱۹۷۰ء ۔۸۔ صوفیائے سند ھ اور اردو۔ ۷۴۔۱۹۷۳ء ، کلیلہ دمنہ کی سبق آموز کہانیاں (لاہور سے) ۱۹۷۷ کے آس پاس۔ ۱۰۔مجلس صوفیا ۱۹۷۸ء ۔ ۱۱ ۔ اسرار الاولیاء (ملفوظات حضرت بابا فرید الدین گنج شکر) ترجمہ۔ ۱۲۔ خاتمہ ( ملفوظات خواجہ گیسو دراز سید محمد حسینی۔ ترجمہ۔ ۱۳۔ سیر الاقطاب (ملفوظات حضرت الہدیہ ابن شیخ عبد الرحیم) ترجمہ۔ ۱۴۔ جوامع الکلم ۔ غیر مطبوعہ۔۱۵ زبدۃ المقامات ۔ غیر مطبوعہ۔
۱۶۔ اردو بنگلہ ڈکشنری۔ غیر مطبوعہ۔
دردائی سے متعلق بعض مضامین ہند و پاک کے ادبی رسالوں میں چھپتے رہے ہیں مگر میں سمجھتا ہوں کہ دردائی کی تمام تصنیفات کے ایک تفصیلی مطالعے کی گنجائش اب بھی باقی ہے۔ اس کے بعد ہی ایک پر آشوب دور میں زبان و ادب کے اس خاموش خدمت گار کا صحیح ادبی مقام متعین ہو سکے گا۔ تازہ اطلاعات کے مطابق پروفیسر محمد ابوذر حسینی کی ایک کتاب ’’ پروفیسر محمد معین الدین دردائی: حیات اور ادبی خدمات‘‘ کے عنوان سے ( مئی ۲۰۰۸ئ) منظر عام پر آگئی ہے۔
 
(بشکریہ: بہار کی بہار عظیم آباد بیسویں صدی میں ،تحریر :اعجاز علی ارشد،ناشر: خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری، پٹنہ)
 
**********************
 
 
You are Visitor Number : 1704