donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Mubarak Azimabadi
Poet
--: Biography of Mubarak Azimabadi :--

 

مبارک عظیم آبادی
 
 
شاہ مبارک حسین ولد مولوی سید فدا حسین۲۹؍ اپریل ۱۸۶۹ء بروز جمعہ پیدا ہوئے۔ والد بھی شاعر تھے اور وامق تخلص کرتے تھے۔ یہ دراصل باہر سے پٹنہ آنے والے رئیسوں کے ایک گھرانے سے تعلق رھتے تھے جس نے انیسویں صدی کے اواخر میں پٹنہ کے لودی کٹرہ میں ایک عالیشان حویلی تعمیر کروائی تھی۔ اس میں نوکر پیشہ ملازمین کے لئے الگ مکانات تھے اور خاص حویلی میں دیگر تقریبات کے علاوہ پابندی کے ساتھ شعری نشستیں منعقد ہوئی تھیں۔ بقول سید بدر الدین احمد اس عہد میں شاعروں کے کئی گروہ بن گئے تھے مگر مبارک کسی سے وابستہ نہ تھے اور سبھوں کی قدر دانی میں آگے رہتے تھے۔ویسے رئیسوں کے سارے شوق ان میں موجود تھے مگر غریبوں کا بھی خیال رکھتے تھے۔ ۱۹۵۳ء میں حکومت ہند نے آپ کی ادبی خدمات کے اعتراف میں سو روپے ماہوار وظیفہ مقرر کر دیا تھا جو تا عمر ملتا رہا۔ ۱۲؍ اپریل ۱۹۵۸ء (بمطابق ۱۳۷۷) کو پٹنہ سیٹی میں انتقال ہوا اور خواجہ کلاں پٹنہ سیٹی میں ڈاکٹر عظیم الدین احمد کی بائیں جانب مدفون ہوئے ۔ پروفیسر عطا کاکوی نے سال وفات اس طرح نکالا۔
 
 از روئے الم دل نے کہا حیف کے ساتھ
 سنتے ہو عطا ’’ چلا گیا داغ بہار ‘‘
۱۳۷۷=۱+۹۸+۱۲۷۷
 
مبارک کی شعر گوئی کا آغاز نوجوانی کے دنوں میں ہی ہو گیا تھا۔ یہ امر بھی تسلیم شدہ ہے کہ انہوں نے ابتداء میں اپنی ایک غزل داغ دہلوی کے پاس اصلاح کے لئے بھیجی تھی مگر اس بات میں اختلاف ہے کہ انہوں نے باضابطہ کس کی شاگردی اختیار کی تھی۔ پروفیسر وہاب اشرفی نے لکھا ہے کہ وہ ابتداء میں مولوی حسن جان خاں حسن سہسرامی اور بعد میں حکیم عبد الحکیم پریشاں کے شاگرد رہے تھے۔سید بدر الدین احمد، جو مبارک کے ہم عصر بھی ہیں انہیں وحید الہ آبادی کا شاگرد قرار دیتے ہیں اور یہ اطلاع بھی بہم پہنچاتے ہیں کہ وحید الہ آبادی اکثر پٹنہ تشریف لاتے اور ڈاکٹر مبارک کے ساتھ قیام کرتے تھے۔ عطا کاکوی صاحب نے بھی اپنے ایک مضمون میں وحید الہ آبادی کے پٹنہ آنے ( ملاحظہ ہو حکایت ہستی مجموعہ کلام بسمل عظیم آبادی) اور مبارک کی اصلاح سخن کی طرف اشارہ کیا ہے۔ڈاکٹر مظفر اقبال نے مبارک سے متعلق اپنے مقالے (مطبوعہ رسالہ آج کل۔ دہلی ستمبر ۱۹۵۹ء ) میں لکھا ہے۔
’’ اس امر سے ہر صاحب ذوق واقف ہے کہ مبارک داغ کے نہ صرف ارشد تلامذہ میں تھے بلکہ صحیح معنوں میں داغ کے جانشیں تھے۔
 
 ایسے میں یہ معاملہ خاصا الجھا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ۱۹۰۵ء میں پریشاں اور داغ دونوں کی وفات کے بعد انہوں نے وحید الہ آبادی سے مشورہ سخن کیا ہوگا۔ مگر یہ ایک نا قابل تردید سچائی ہے کہ ان کی غزلوں پر داغ کے رنگ سخن کے اثرات نمایاں ہیں۔ وہی شوخی اور زندہ دلی، وہی لطافت بیان اور روز مرہ اور زبان کی وہی تراش خراش جو داغ کی پہچان ہے مبارک کے یہاں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ یہ اشعار ملاحظہ ہوں۔
 
 گھٹا اٹھی ہے کالی اور کالی ہوتی جاتی ہے
 صراحی جو بھری جاتی ہے خالی ہوتی جاتی ہے
خدا جانے کہاں سے کھینچ کے میخانے میں آتی ہے
خبر اتنی تو ہے شیشے سے پیمانے میںآتی ہے
 دنیا کے غم کدے میں مبارک خوشی کہاں
غم کو خوشی بنا کر کوئی پہلو نکال کے
 جو دل پہ گذرے کھنچے اس کی صفحے پر تصویر 
 قلم اٹھے نہ مبارک خیال بندی پر
 اس طرف وہ ہاتھ میں خنجر بھنویں تانے ہوئے
 اس طرف ہم سرنگوں بیٹھے ہیں کچھ ٹھانے ہوئے
 لالہ رخوں میں عمر گذاری اور بہاریں بھی لوٹیں
 آج بھی گل سے گالوں والے ہم کو مبارک پیارے ہیں
 
مبارک کے سلسلے میں ایک اور غلط فہمی کا ازالہ ضروری ہے۔ ان کے بعض معاصرین کے بیان کے سبب ( جن میں سید بدر الدین احمد بھی شامل ہیں) یہ مشہور ہو گیا ہے کہ مبارک کا دیوان مرتب تو ہوا تھا مگر شائع نہ ہو سکا۔ واقعہ یہ ہے کہ ان کے دو مجموعہ کلام ’’ مرقع سخن‘‘ اور جلوہ داغ کے نام سے شائع ہو چکے تھے۔ اگست ۱۹۹۹ء میں ان کے نواسے سید ریاض الدین احمد کے زیر اہتمام پاکستان سے ان کا کلیات بھی منظر عام پر آیا ہے۔
 
(بشکریہ: بہار کی بہار عظیم آباد بیسویں صدی میں ،تحریر :اعجاز علی ارشد،ناشر: خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری، پٹنہ)
 
*****************
 
You are Visitor Number : 1808