donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Naqi Ahmad Irshad
Poet/Writer
--: Biography of Naqi Ahmad Irshad :--

 

 نقی احمد ارشاد 
 
 
 سید نقی احمد (تخلص ارشاد ابن سید حسین خاں شاد عظیم آبادی کے پوتے تھے۔پٹنہ سیٹی ( عظیم آباد ) کے آبائی مکان ، شاد منزل میں ۵؍ جولائی ۱۹۲۰ء کو پیدا ہوئے۔ والدہ کا نام حسن آراء بیگم ہے۔ موصوف کی کتاب’’ شاد کا عہد اور فن‘‘ (اشاعت اول ۱۹۸۲ئ) کی ابتداء میں ان کے سوانحی حالات خاصی تفصیل سے لکھے گئے ہیں۔جن کا خلاصہ یہ ہے کہ ۱۹۳۶ء میں انہوں نے پٹنہ سیٹی ہائی اسکول سے اول درجے میں میٹرک پاس کیا۔ ۱۹۳۸ء سے حکومت بہار میں سب ڈپٹی کلکٹر ہوئے۔ ترقی کرتے ہوئے اے ڈی ایم کے عہدہ تک پہنچے اور اعلیٰ کارکردگی کے صلے میں ۱۹۷۷ء میں جوائنٹ سکریٹری محکمہ امداد باہمی بنائے گئے۔ اگست ۱۹۷۸ء میں ریٹائر ہو کر مستقل طور پر پٹنہ میں مقیم رہے۔ ۱۹۴۰ء میں لاڈلی بیگم بنت نقی نواب خلف جناب محمد تقی خاں دیوان محلہ پٹنہ سیٹی سے عقد ہوا جن کا سلسلہ نصب عہدِ اورنگ زیب کے معروف ادیب اور عالم ملا نصیر سے ملتا ہے۔ دو صاحبزادے ڈاکٹر سید نثار احمد اور سید شکیل احمد ہیں۔ چار بیٹے ایام طفلی میں ہی فوت ہو گئے۔
 
نقی احمد ارشاد ایک خلیق اور درد مند شخصیت کے مالک تھے۔ ان کا حافظہ قوی تھا اس لئے وہ ایک خاص عہد کے معتبر راوی قرار دئیے جا سکتے ہیں۔ گرچہ سرکاری ملازمت کے سبب آپ مختلف شہروں کا چکر کاٹتے رہے مگر علمی و ادبی ذوق میں کمی نہیں آئی۔ اپنے جد امجد شاد عظیم آبادی کے نام اور کام کو روشن رکھنے اور شاد کے سلسلے میں پھیلائی جانے والی بعض غلط فہمیوں کا جواب دینے میں انہوں نے کبھی کوتاہی نہیں برتی۔ زندگی کے آخری ایام تک وہ ذہنی طور پر خاصے بیدار اور علمی و ادبی سرگرمیوں میں فعال رہے۔ ۴؍ مارچ ۲۰۰۸ء کو ان کا انتقال ہوا اور افضل پور قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔ ان کی مختلف کتابوں پر اردو اکادمیوں نے انعامات دئیے اور اردو کے علاوہ سنتھالی بنگلہ اور ہندی زبانوں میں مہارت حاصل کرنے کے لئے حکومت نے بھی انعام سے نوازا۔ انگریزی، فارسی اور عربی زبانوں سے بھی ان کی اچھی واقفیت رہی ہے۔
 
نقی احمد ارشاد کی ادبی زندگی کا آغاز ۱۹۳۶ء سے ہوا۔ ۱۹۴۰ء میں ان کا پہلا افسانہ زمانہ کا نپور میں شائع ہوا۔ مراثی کہنے کا سلسلہ بقول خود ۱۹۵۳ء سے شروع کیا۔ انہوں نے شاعری کی مختلف اصناف پر طبع آزمائی کی ہے۔ علمی و تحقیقی مضامین لکھے ہیں اور تخلیقی نثر کے بھی نمونے پیش کئے ہیں ان کی شعری و نثری تخلیقات و ہندو پاک کے اہم رسائل مثلاً شاعر ( ممبئی) آج کل ( دہلی) نگار( کراچی) صبح نو ( پٹنہ) ندیم( گیا) سہیل( گیا) تاج العرفان(کلکتہ) اور زبان و ادب( پٹنہ) میں شائع شدہ ہیں۔ ان کی بعض کتابوں کے دوسرے اور تیسرے ایڈیشن شائع ہوئے ہیں۔ اس طرح وہاب اشرفی کا یہ کہنا غلط نہیں ہے کہ وہ متنوع ادبی جہتوں پہ کام کرتے  رہے ہیں۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ ان کا بنیادی اور اہم کام شاد اور عہد شاد کی بازیافت سے تعلق رکھتا ہے۔ اس سلسلے میں ان کی کتاب ’’ شاد کا عہد اور فن‘‘ بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کی دوسری اہم نثری کتاب میرے خیال میں’’ کاروان رفتہ‘‘ ہے جو خدا بخش لائبریری سے شائع ہوئی ہے۔ انہوں نے شاد کی بعض فراموش کردہ تخلیقات کو ادبی دنیا سے متعارف کرانے میں بھی کامیابی حاصل کی ہے۔ مختلف ذرائع سے یہ علم ہوتا ہے کہ انہوں نے شاد کی کم و بیش ایک درجن سے زیادہ کتابیں اپنے طور پر شائع کروائیں جو درج ذیل ہیں۔
 
٭ مراثی شاد۔ جلد اول۱۹۵۲ئ، جلد دوم۔ ۱۹۵۴ئ، ٭ کلام شاد ( ہندی ایڈیشن ) ۱۹۵۴٭ سروش ہستی( قطعہ) ۱۹۵۵٭ فروغ ہستی ( مسدس) ۱۹۵۶٭ زبور عرفاں (غزلیات ) ۱۹۶۳، کلام و شرح کلام (غزلیات شاد مع شرح)۱۹۶۷ء ٭ شاد کی مثنویاں۔۱۹۷۱ئ،٭بدھاوا (ناولٹ) ۱۹۶۵ء ٭افیونی(ناولٹ) ۱۹۶۸ئ٭ فکر بلیغ جلد دوم۔۱۹۷۴ء ،پیمبران سخن۔۱۹۷۴٭ پیر علی بزبان شاد۔ ۱۹۷۰
 
 نقی احمد ارشاد کی ذاتی تصنیفات و تالیفات کی مختصر فہرست اس طرح ہے۔
٭ سرود سحر (طبع اول مئی ۱۹۸۴ئ)، طبع دوم اکتوبر۔۲۰۰۲ئ، نظمیں ، غزلیں اور رباعیات ، شریک اشاعت ہیں۔ ٭ زبور اخلاق ( اشاعت اول ۱۹۹۶ئ) نظموں، غزلوں، سلام اور مرثیوں پر مشتمل ہے۔ ٭ شام غریباں (مرثیہ مع احوال کربلا) ۲۰۰۵ء ، ٭زبور عرفان (مراثی کا مجموعہ ٭ مجموعہ مراثی شاد (۱۹۹۷ء )٭شاد کا عہد اور فن ( تین جلدوں میں )٭ سچی کہانیاں ۲۰۰۵ئ٭ مرازا غالب ( مطبوعہ اردو مرکز عظیم آباد)حسن عسکری، ایک مختصر خاکہ۔۲۰۰۲ء ٭ کاروان رفتہ (عظیم آباد کے قدیم خاندانوں کا تذکرہ) اشاعت اول۔ ۱۹۹۵ء ٭ اندیر (ہنگم چندر کے ناولٹ کا ترجمہ) ۱۹۶۷ء ٭ یاد گارِ شاد۔ ۱۹۵۸ء
میری معلومات کے مطابق ارشاد کی بہت ساری نثری و شعری تخلیقات اب تک غیر مطبوعہ ہیں۔ کچھ مطبوعہ کتابوں کی بھی نئی سرے سے اشاعت کی ضرورت ہے۔تب ہی نقی احمد ارشاد کے صحیح مطالعے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ بہر حال عہد شاد کے معتبر مورخ اور شاد کے شارح کی حیثیت سے ان کی تاریخی اہمیت ہمیشہ رہے گی۔
 
(بشکریہ: بہار کی بہار عظیم آباد بیسویں صدی میں ،تحریر :اعجاز علی ارشد،ناشر: خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری، پٹنہ)
 
*************************
 
You are Visitor Number : 1807