donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Perween Kumar Ashk
Poet/Writer
--: Biography of Perween Kumar Ashk :--

 

 Parween Kumar Ashk 

Name:- Parween Kumar Ashk

Date of Birth: 1st November, ,1951, Ludhiyana,

Engagement: Attachment with Film and TV

Genres: Shayari,

Books: Darbadar, Chandni ke Khotoot, Ghazal tere Shahar mein, Doa Zameen

Award: More than one dozen

Mobile: 09855653990

Address: T-4/161, Shahpur Kandi, T/Ship, Near Pathankot- 145029 (Punjab)

 

 

ناصر شہزاد ،پاکستان
 
دعا زمین کا مسا فر پروین کمار اشکؔ
 
ہندوستان اور پاکستان کی سرحد پر لوہے کی باڑ اور بند وقوں کی دہاڑ نے اور تو یقیناً سب کچھ روک لیا ہوگا مگر کچھ چیزوں کو یہ کڑے پہرے اور سنگلاخ کٹہرے نہیں روک سکے پرندوں کی آوازیں سرکا اعجاز اور شعر کا انداز اسی طرح ان دونوں ملکوں کی جاگیر میں تنویر ہو رہا ہے جیسے کہ وہ بٹوارے سے پہلے تھا!آج بھی سرحدوں کے آرپار بولتے ہوئے پنچھیوں کی چہکار وہی مہکار استوار کرتی ہے جو ان دونوں ملکوں کی تقسیم سے پہلے تھی ! لتا جی کے سر کے ’’سمپت ‘‘اور بلمپت‘‘ ادھر بھی وہی اثر چھوڑ تے ہیں جو ادھر میڈم نور جہاں کی گائیکی کے گر سے منور ہوتاہے ، فراق گورکھپوری کیلئے ادھر بھی وہی پیار ہے جو ادھرمجید امجد اور فیض احمد فیض کیلئے روبہ کار ہے۔ ملک بٹ چکا ہے بہت ساری رسمیں اور رواج ایک دوسرے سے کٹ کر درگھٹ ہوگئے ہیں مگر انسانیت سے محبت کرنے والوں کی صدا آج بھی اسی طرح خوش نواہے۔ جیسے کہ پہلے کبھی تھی۔
 
تم نے کیوں بارود بچھادی دھرتی پر
میں تو دعا کا شہر بسا نے والا تھا
 
یہ آواز پروین کمار اشک کی آواز ہے جس نے اُردو غزل کو ایک نئے عجاز سے سرفراز کیا ہے! پروین کمار اشک ہندوستان کے ان چند شعرأ میں سے ایک ہیں جنہوں نے ادھر اردو غزل کے جمال کو روبہ زوال نہیں ہونے دیا۔پروین کی غزل میں جدید انداز کی نئی نئی جہتیں اور نئی نئی رہتیں ہیں غزل میں وہ اپنی بات بڑی آسانی اور بڑی کامرانی سے صراط کررہاہیں۔ سرزمین پاک و ہند کے بٹ جانے کا دردان کے رگ وپے میں ہر شے سے زیادہ سرائت کررہاہے۔ وہ اس دکھ سے نراس اور اداس ہیں اس کے اندر کا انسان ٹوٹ پھوٹ کر ان کے ہاتھ سے چھوٹ رہاہے۔
 
زمین کو اے خدا! وہ زلزلہ دے
نشاں تک سرحدوں کے جو مٹادے
+++
محبت میں بدل جائے سیاست
خدا لاہور دلی سے ملا دے
 
پروین کمار اشک نوجوان شاعر ہیں !یقیناً ان کی جنم بھومی ہندوستان کا شہر پٹھا نکوٹ رہی ہوگی۔پتہ نہیں ان کے اندر روگ اور ویوگ کایہ سنیاس کیسے اقتباس ہوا۔
 
اب میں اس سرحد سے ٹکراتا ہوں سر
پار جس کے میرا بازو رہ گیا
+++
اس کو دیکھوں سرحد پار
اور بے قابو ہو جائوں
 
ممکن ہے پروین کمار اشک کے اجداداس دھرتی پر آباد رہے ہوں جو آج پاکستان کے منطقے کی رئو دادہے ممکن ہے پروین کمار اشک نے ان کی زبانی وہ ساری کہانی سنی ہو جو آج اس خطہ کی ضوفشانی اور جاودانی کی ترجمان کرتی ہو۔
 
باغ انگور کے چھوڑ آیا تھا سرحد پار جوانی میں
پاگل بوڑھا پل پل کشمش کشمش کر تا رہتا ہے
 
پروین کمار اشک کو اس خطہ کے انسان کے تقسیم ہو جانے کا بہت اندوہ ہے وہ اس اندوہ کو شعر کی گوہ کے ہمراہ صفحہ قرطاس پر نمو نو اس کر تاہے۔
 
وہ وہاں سے یہاں نہ آپائے !
میں یہاں سے وہاں نہ دیکھ سکوں!!
 
برصغیر کی تقسیم اگرچہ حقیقت ہے اور اس حقیقت کو تبدیل یا تحلیل نہیں کیا جا سکتا مگر پروین کمار اشک سچی سعادتوں اور پکی ارادتوں کا شاعر ہے وہ کسی کے مال پر حق جتلا نا اپنے لئے گناہ کا ایک تازیانہ سمجھتا ہے وہ اس بد دعا اور ریا سے ڈرتا ہے جو اسے انسانیت کی معراج سے بے سراج کردے!!
 
مہاجر کا مکاں خالی ہے لیکن !
میں در کھولوں تو کوئی بددعا دے!!
 
وہ اپنی جیون یا ترا کو اپنے سپھل اور سچے کشٹ سے سدا پوتراور سدا پاک رکھنا چاہتاہے۔ ان کے ارادے آباد ہیں اور جادے شاد وہ سلوک کی صادق منزلوں کا مسافرہے جس کے اسرار دھیرے دھیرے اس پر واگزار ہورہےہیں۔
 
دل کی کتاب سے سوکھا پھول اٹھا تا ہوں
رو رو کے خوشبو خوشبو چلا تا ہوں
+++
شہر دعا کو رستہ کہاں سے مڑتاہے 
نقشہ دے یہ نکتہ میں سمجھا تا ہوں
+++
ہر دیوار کے پیچھے سو دیواریں ہیں 
کتنی دیواریں میں روز گراتا ہوں
+++
خوشبو کو ناراض نہیں میں کرسکتا
پھول کو ڈرتے ڈرتے ہاتھ لگا تا ہوں
+++
یہ میری روح میں کیسی اذان روشن ہے
زمین چمکتی ہے کل آسمان روشن ہے
+++
خدا کے فضل سے روشن مری دعا کا گھر
مری دعا سے خدا کا مکان روشن ہے
انسان سے محبت کرنے کا عمل گوتم یا بھگت کبیر کی طرح پروین کمار اشک کے اندر وافر مقدار میں موجود ہے۔ ’’من وتو‘‘ کی دوریاں ان کیلئے مجبوریاں نہیں رہتیں!! جب وہ اپنی روح کی حضوریوں کے سامنے حاضر ہوتا ہے۔
 
پار کے منظر نے موقعے پر آنکھیں دیں!
میں اندھا دیوار اٹھا نے والا تھا !!
پروین کمار اشک کی شاعری مہجور روایتوں کا بین اور اس بین کا سنگت سین ہے۔
بزرگوں کا بس اک کمرا بچاکر!
تو جب چاہے پرانا گھر گرادے!!
وہ پرانے زمانے کی کہانیوں اور قصوں میں بہتا بھی ہے اور ان میں رہتا بھی ہے۔ملاپ جاپ اور اپنی آشائوں کے الاپ کے ساتھ
خصوط لکھنا تو پہلے ہی کرچکا تھا ترک!
کبوتروں کو بھی چھت سے اڑادیا اسنے!!
اور کہیں کہیں جب وہ اپنے بچپنے کے مہان دنوں میں اترتا ہے تو بڑے بلوان تحفے ساتھ لیکر ابھرتا ہے رنگوں اور روشنیوں سے بھرپور اور مسرور پرانی روایتوں کے نشہ سے چور اور مسحور۔
یاد ہے بچپن کا وہ کھیل؟
میں صیاد توُ آھو تھا
+++
کبھی ہم جس کی چھت پر کھیلتے تھے
سنا ہے آج وہ گھر ڈھے گیا ہے
پروین کمار اشک کے سینے میں یادوں کے دیس آباد بھی ہیں اور شادباد بھی نت نئے سندیس اور بھیس کے ساتھ۔
بچپن کس دھلیز پہ مجھ کو چھوڑ گیا
یہ کہہ کر’ٹھہرئو‘ میں کھلونے لاتاہوں
+++
کھلونے دیکھتا ہے چیختا ہے
وہ بچپن ہی میں بوڑھا ہوگیا ہے
اردو غزل کو شاہ حاتم اور ولی دکنی نے سب سے پہلے ازمایا۔ پھر میر تقی میر نے اسے اپنی عظیم شعر ی پہچان کا جامعہ پہنایا! غالب تک پہنچتے پہنچتے اسرار ومعانی کے ہزاروں جہان اس نے اپنے اندر براجمان کرلئے فراق گورکھپوری کی یہ عطا ہے کہ انہوں نے اد ھرتی کی ہردشا سے اس کو آشنا کیا بحور سے لیکر اسکے ظہور تک پرانے ماجروں اور اس کے قدیم تاجروں کے ہاتھ سے اس کو چھڑا کر نئے سرے سے دستور کیا فیض احمد فیض نے اسے غنائی اور کبریائی کا نتا کے حوالے کر کے اس میں کیفیت اور خواب کے اجالے بکھیر دیئے، مجید امجد کے پاس آکر اس کے رنگ نہنگ اور خوش ترنگ ہوگئے یہ شعری مکانوں کی محرابوں اور قتل گہوں کے خرابوں سے نکل کر راوی اور چناب کے دوآبو میں آگئی!جہاں اس کے سواگت کیلئے پرندوں کی چہکار اور بھینی بھینی ہوائوں کی مہکار کھڑی تھی اپنی پوری دلریائی اور خود نمائی کے ساتھ مجید امجد کے بعد آب رواں کے ذریعے سے ایک نیا جہاں اس کیلئے ظفر اقبال اور شہزاد احمد نے غزل کی زمین کو اس خوبصورتی سے تزئین کیا ہے کہ ان کی بوئی ہوئی فصل اب تک کاٹی اور باٹی جارہی ہے اب اس میں متعدد نام ہیں جو غزل کو اپنے اندر کی جو الااور اجالا دے کر روشن کر رہے ہیں پروین کمار اشک انہیں ناموں میں سے ایک منفرد اور معتبر نام ہے جو آہستہ آہستہ دو ام کی طرف بڑھ رہاہے وہ وفائوں دعائوں اور انسانی محبتوں کی انتہائی کا شاعر ہے وہ نہیں چاہتا کہ کہیں بھی بمباری یاانسانی اقدار کی خواری ہو۔
مرے خدا! تری مخلوق سب سلامت ہو!
دعا یہ مانگوں جب اخبار سامنے آئے !!
پروین کمار اشک معاشرہ کی غیر مساوی تقسیم اور بیجا تنظیم کو پسند نہیں کرتا ، وہ انسان کے ازلی وقار اور اقدار کو اس کے اختیار میں دیکھنا چاہتا ہے اس کے آگے انسانی عفت اور رفعت پوری طرح منظر نما اور نظر کشا ہے۔
سمندر والے جس کو لے اڑے ہیں!
وہ بادل دشت سارے کیلئے تھا!!
وہ اس ناانصافی کی تلافی پھر اس طرح کرتا ہے
نہ تیغ پھینکنا گھبرا کے ظلمت شب سے!
زمین حق پہ لہو کا نشان روشن ہے!!
پروین کمار اشک پیغمبروں کی پیروی میں آگے بڑھ رہاہے انسانیت کی معراج اور سراج کو کھو جنا اس کی زندگی کا پیرایہ بھی ہے اور سرمایہ بھی وہ پہلے انسان ہے پھر کسی مذہب کا پاسبان بابا گورونا نک نے ایک جگہ کہا تھا، کلمہ پڑھاتاں کل پوے بن کلمے کل ناں پروین کمار اشک بھی اسی ظہور کو منور کرتا ہوا دکھائی دیتاہے۔.
کیا یہ مسجد ہے صرف مومن کی!
کیا یہ کافر ہیں سب خدا کے بغیر !!
+++
صحیفے ہوگئے ناراض اشک سب مجھ سے!
یہ مجھ کو کون سا کلمہ پڑھا دیا اس نے !!
وہ مذہب کی اس سچائی اور پارسائی کا مقلد ہے جہاں آقا اور غلام کے مابین فرق مٹ جاتاہے جہاں اقراراور پیار کے رشتے نوشتے بنتے ہیں جہاں قدم قدم پر سہانی رنگتیں ہیں اور جاودانی سنگین سداتازہ اور سدا بے خمیازہ۔
مری پسند کے افراد جس میں رہتے ہوں!
زمیں پہ ایسا کوئی خاندان بھی ہوگا !!
سلطان العارفین حضرت سلطان با ہوکا یہ کہنا کہ ’’الف اللہ چمبے دی بوٹی مرشد دل وچ لائی ھو!! پروین کمار اشک بھی اس ڈگر پر سفر کرنے کیلئے مصر ہے۔ 
الف سے آشنا اسکول کوئی 
مرے بچوں کو جو پڑھنا سکھادے!!
وہ گیا ن اور نروان کے اتھاہ ساگر میں اترے ہوئے انسانی شکتی اور بھگتی کو بھی گواہ بنا تا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
میں سورج توڑ لائوں گا نہیں تو !
مجھے اے روشنی اپنا پتا دے !!
وہ روشنی کی اصل حقیقت اور طریقت تک پہنچنا چاہتا ہے اپنی لامتناہی پتسیا اور تیج کے حوالہ سے
مسلسل محنت کرنا اس کا سامان بھی ہے اور اس کی پہچان بھی کہ یہی سب کچھ گوروئوں اور گیانیوں
 
کاپرہیوہ بھی بنا اور ان کے امرملن کامیوہ بھی
تجھے سکول میں بھیجا ہے جس کتاب کے ساتھ !
بغور پڑھنا ترا امتحان بھی ہوگا!!
پروین کمار اشک کی شاعری شاعرانہ تعلی سے نہیں بلکہ فنکارانہ تجلی سے گزررہی ہے وہ اپنے لئے اپنے علاحدہ شعری واسطے اور سخن راستے بنا تا ہوا آتے بڑھ رہاہے اس کیلئے ایک جگہ پر رکنا وبال بھی ہے اور محال بھی اس کا سفر جاری اور غیر شماری ہے ہر دشواری اورکٹھن کاری میں۔
بھیڑ کو چیرنا ہی پڑتا ہے
بھیڑ میں راستا نہیں ہوتا
اردو غزل کو مزید سنوار نے اور سنگھار نے کیلئے پروین کمار اشک علیحدہ آدرش اور ورش سے گزر رہا ہے انوکھی بحور کے دستور اور چو کھے ظہور کے ہمراہ۔
جنگل میں گم رانی ہوگئی
راجا ختم کہانی ہوگئی
پروین کمار اشک اردو غزل میں بڑے مترنم اور مصمم شعر کہہ رہا ہے جن میں حیات جاوداں بھی ہے اور کائنات بے کراں بھی۔
جا پڑوسی کے گھر کی آگ بجھا
آگ کا کچھ پتا نہیں ہوتا
پروین کمار اشک اردو غزل کی قدیم روایت اور حکایت کا سنجو گی بھی ہے اور جو گی بھی اس کے اندرغزل کہنے کی پیاس اور اساس دونوں چیزیں سربند لباس ہیں وہ غزل میں اپنے شخصی لہجے کی باس اور مٹھاس بھرتا چلا جا رہاہے اپنے مسلسل کشٹ اور کا مرانی کی بدولت۔ 
 
وہ پیش رو ہے مگر راستا نہیں دیتا!!
بزرگ ہوکے بھی دیکھو دعا نہیں دیتا !!
+++
کسی کسی کو تھما تا ہے چابیاں گھر کی !
خدا ہر ایک کو اپنا پتا نہیں دیتا !!
+++
وہ میرے پھول مری تتلیاں کہاں دے گا !
جو ننگی شاخ کو پتہ ہرا نہیں دیتا !!
+++
جدید کپڑے اُسے کیا جوانیاں دیں گے !
جو بوڑھی سوچ کو چہرا نیا نہیں دیتا !!
پروین کمار اشک نے جدید سوچ کو ایک نئی تمہید اور کلید کے ساتھ کھولا ہے جہاں غزل کے نئے جمال کے ساتھ اس کی پرانی اشکال کے خیال پوری طرح روبہ کمال ہو رہے ہیں۔ وہ بڑا منجھا ہوا ظاہر و طاہر شاعر ہے! بے راہ جدت اور گمراہ شدت کی طغیا نیوں سے پاک اور اپنی طرز میں تاک۔ 
نہ پکڑی قافلے کی جس نے انگلی !
وہ بچہ سب سے آگے چل رہا تھا!!
پروین کمار اشک نے اپنی غزل کیلئے اپنے راستے خود بنائے اور سجائے ہیں، اسی لئے موجودہ بیشتر غزل نگاروں کی بھیڑ میں اس کا انداز اور اس کی آواز انتہائی تازہ کار اور دل بہار محسوس ہوتی ہے۔
ہوا سے عشق کر بیٹھا ہے ظالم!
مثال گل بکھرتا جارہا ہے !!
+++
محبت کو سنا ہے دل کے بدلے!
عجائب گھر میں رکھا جارہاہے !!
پروین کمار اشک کی غزل میں جدید ترین غزل کی بڑی انوکھی اترا ہٹیں اور جگمگا ہٹیں ہیں، استعارے امر اور ابلاغ باثمر منہ زور جوانیوں اور نرم روکہا نیوں کی طرح شعر میں شانتا ہے اس کے اظہار میں سہانتا رسیلے چندر یلے اور مہکیلے سندیش اور اپدیش کی طرح۔
خوشی اک بے وفا لڑکی ہے پیارے !
یہ شے گھر میں نہ رکھ بازار والی !!
+++
دوکاں پر چاند بھی بکتے تھے لیکن !
بضد بچہ غبار کیلئے تھا !!
+++
تونے میری گا گرریت سے بھردی میر ادوش تھا کیا !
میں تو پانی میں اترا تھا دریا تیرے کہنے پر !!
پروین کمار اشک نے غزل میں نت نئی تازہ نیک اندازہ مورتوں کو مکھ مہورت کیا ہے اور اس سے انکار کرنا دشوار ہے۔
رات خدا بھی سو نہ سکا
چشم دعا میں آنسو تھا
+++
درد میرا ہے یوں دوا کے بغیر
جیسے بچہ کوئی دعا کے بغیر
+++
کتنے بھاری ہیں بستے بچوں کے
ان میں کچھ پھول ڈال رکھا کرو
+++
خوش لباسوں کی صحبتوں میں میاں 
اپنی چادر سنبھال رکھا کرو
+++
جب سے فوت ہوا ہے بوڑھوں کا کردار
بچوں کو سمجھانے والا کوئی نہیں
+++
غیر کے گھر کی لاج ہے وہ 
میں بھی بچوں والا ہوں
+++
دل کے مہماں خانے میں
صرف اک کرسی رکھتا ہوں
پروین کمار اشک نے انتہائی آسان اور معجز بیان زبان میں شعر کہے ہیں اوریہ اس کا اصل شعری عرفان ہے پروین کمار اشک کا نام پر وین اور کمار اور اشک اس بات کا متقاضی ہے کہ وہ اسی طرح دعا زمین کا نیک مسافر بن کر زندگی کی گونا گوں سچائیوں اور عنائیوں کی غمازی کرتا چلا جائے۔
دل کو پھو ل بنا یا کر 
پھر درگاہ میں جایا کر
+++
کوئی دعا کا پیڑ لگا
ننگے سروں پر سایا کر
+++
تیری خیر اسی میں ہے 
سب کی خیر منایا کر
+++
ملنا ہو تو اندر کے 
دروازے سے آیا کر
+++
آنکھیں مر جاتی ہیں یار
اتنی دور نہ جایا کر
پروین کمار اشک ایسے اچھوتے اور خلاق شاعر جب تک سر زمین ہندوستان میں پیداہوتے رہیں گے وہاں اردو شاعری کا مستقبل دائم بھی ہے اور قائم بھی۔
+++
 
  پروفیسر حامدی کشمیری
(سرینگر)
 
 لفظ کار مزشناس پروین کمار اشکؔ 
 
موجودہ عہد میں بعض نقادوں اور خود شعرأ کے غزل مخالف رویوں کے باوجود غزل ایک مقبول ومحبوب صنفِ سخن رہی ہے اور اس کی مقبولیت میں برابر اضافہ ہوتا جا رہا ہے یہ در اصل اس کا فرصنف کی بعض خاصیتیں Pecularitiesہیں جو اسے قبول عام عطا کرتی ہیںلیکن عموی قبولیت اس کے کھرے پن اور دوام کی ضامن نہیں ہو سکتی اس کی مقبولیت اور متعدد غزل گو شعرأ کی موجودگی کے باوجود اسکی تخلیقی حیثیت کو معرض سوال میں لیا جا سکتا ہے کیوں کہ غزل کا وافر ذخیرہ تخلیقی آب ورنگ سے عاری ہے اور ایسا دکھائی دیتا ہے کہ غزل Euphoriaہو گیا ہے اس میں غزل کی صنعتی خصوصیات یعنی اسکی لفظیات۔ (اختصاریت) آہنگ ردیف وقافیہ اور مانوس تراکیب وغیرہ کے ساتھ مروجہ خیالات بھی نمایاں حصہ دار کرتے ہیں شعرأ متقدمین کے موضوعات مثلاً عشق غم دوراں تصوف اور اخلاق کے ساتھ ان کی مسلمہ زبان کے جملہ حقوق اپنے حق میں محفوظ سمجھتے ہیں! سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایسی شاعری روح شعر سے کتنی قریب ہے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ایسی شاعری روح شعر سے عاری ہوتی ہے نتیجے میں اسے طاق نسیاں میں جگہ ملنے میں دیر نہیں لگتی موجودہ عہد میں جگر حسرت فانی یا فراق کو لیجئے وہ بلا شبہ امتیاز اور اعتبار کے درجے پر فائز ہیں مگر وہ تخلیقی Urgeرکھنے کے باوجود اور کئی تخلیقی اشعار رقم کرنے کے باوجود اس بلندی تک نہیں پہنچ سکے ہیں جو میر یا غالب سے مخصوص ہے۔
اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ روایت کے غلبے سے چھٹکا رہ نہ پاسکے اور کم وبیش ایسی ہی صورت حال تقسیم کے بعد کے نمائندہ شعرا کے ہاں بھی ملتی ہے روایت کا شعور ایک بات ہے اور روایت کی تقلید دوسری بات!بعض شعراء ایسے ضرور ہیں جو تقلید سے حتی الامکان منہ موڑ کر اپنی تخلیقی حیثیت کو دریافت کرنے میں جٹے ہیں ان میں پروین کمار اشک بھی شامل ہیں! یہ شعرا روایت کی آگہی رکھتے ہیں اور اس سے بقدر ضرورت استفادہ بھی کرتے ہیں یہ ضرور ہے کہ ان کے ہاں بعض موقعہ پر روایت پسندی روایت پرستی میں بدل جاتی ہے!
 
بہرحال پروین کمار اشک کی غزلوں میں ایسے بے شمار اشعار ملتے ہیں جو روایت زدگی اور اتباعیت سے نجات پا کر اپنی تخلیقی صورت کو برقرار رکھتے ہیں اور قاری کی حیرت کو انگیز کرتے ہیں ایسے اشعار میں ایک فرضی کر دار سامنے آتاہے جس کی اپنی حسیاتی شخصیت ہے جو چشم نگر اں رکھتا ہے جس کے سینے میں درد مند دل ہے جو اقدار کا حامی ہے جو ایک پا کیزہ اور خوبصورت دنیا کے خوابوں کا مترددہے اور خود خوف اور وسواس کا شکار ہے ایسی صورت میں وہ بزرگوں کی دعائوں کا طلب گار ہے وہ بیان کنندہ بھی ہے اور خود اس بحرانی صورت حال سے گذرتا بھی ہے اور ان سب موافق ومتضا د صفات کا  Epitone   بن جاتا ہے مثلاً۔
 
رات کی چھت پر اندھی ماں رستہ دیکھے
چاند کو لیکر بالک کب گھر آتا ہے
+++
اس نے بھی آنکھوں میں آنسو روک لئے
میں بھی اپنے زخم چھپا نے والا تھا
+++
ہر دیوار کے پیچھے سو دیواریں ہیں 
کتنی دیواریں میں روز گراتا ہوں
+++
زمیں کو اے خدا وہ زلزلہ دے
نشاں تک سرحدوں کے جو مٹادے
+++
مرے خدا تری مخلوق سب سلامت ہو
دعا یہ مانگوں جب اخبار سامنے آئے
+++
یہ ہو سکتا ہے وہ آجائے مڑکر 
مگر ایسا کبھی ہوتا نہیں ہے
++++
یہ میری روح میں کیسی اذان روشن ہے
زمیں چمکتی ہے کل آسمان روشن ہے
جیسا کہ کہا گیا پروین کمار اشکؔ کے اشعار میں شاعر کے بجائے متکلم دیدہ وشنیدہ کا بیان کنندہ بھی ہے اور اس کا خود سامنا بھی کرتا ہے اور شعر کے تخلیقی ہونے کیلئے بنیاد فراہم کرتا ہے ۔بے شک ان کے ہاں یہاں ایسے متعدد اشعار بھی ہیں جن میں شاعر خود قارئین سے بلا واسطہ مخاطبت کا رابطہ قائم کرتاہے اور اشعار کو نثری سطح پر لے آتاہے با ایں ہمہ یہ دیکھ کر اطمینان ہوتا ہے کہ وہ کئی اشعار میں اپنے تداخل کا ارتکاب نہیں کرتے وہ کرتے یہ ہیں کہ لفظوں کے Nauncesان کے آہنگ تحرک، انسلاکیت اور حسیاتی رنگوں کو اپنا وجود منوانے کیلئے آزاد چھوڑدیتے ہیں اس طرح سے اشعار کسی نظریاتی حد بندی سے ماور ااپنی دنیا آپ پیدا کرتے ہیں ظاہر ہے اس نوع کے اشعار موضوعیت کی شکست کے داعی ہیں اور ڈرامائی فضا بندی کا احساس دلاتے ہیں اس طرح سے ان میں معنی خاص کروحدانی یا Superimposed معنی کی بے دخلی واقع ہوتی ہے! 
 
پروین کمار اشک روایتی لفظ وپیکر کو اپنے قریب پھٹکنے نہیں دیتے وہ مستقلاً روز مرہ زندگی سے الفاظ لیتے ہیں اور انہیں سوز نفس سے مر تعش کرتے ہیں یہ الفاظ حقیقی زندگی سے لئے جانے کے باوجود فرضیت کی تشکیل کرتے ہیں اس سے اولاً تخلیقی اشعار خیالات کے اشعار سے ممیز ہو جاتے ہیں دوئما شعر کی قدر سنجی کے مسئلے کو آسان کرتے ہیں اس ضمن میں ذیل کے اشعار پر توجہ کی جاسکتی ہے۔
 
یہ کس نے قتل کیا شہر خوش کلام مرا
میں جس سے بات کروں بے زباں نکلتا ہے
+++
وہ لڑکی تو کب کی مر گئی یاد آیا
میں کس کو آواز لگا نے والا تھا
+++
ندی دامن چھڑا کر جا رہی ہے
کہ دریا خشک ہوتا جارہا ہے
+++
جہاں مری کشتی ڈوبی بھی
دریا وہیں پہ رکا ہوا ہے
+++
پرندوں کو وشائیں دینے والا
کوئی ہوتا دعائیں دینے والا
 
شعر(ا )میں مرکزی کردار شہر جو اس کے لئے شہر خوش کلام ہے میں ایک وقفے کے بعد واردہوتا ہے وہ یہ دیکھ کر مستفسرانہ لہجے میں اظہار کرتا ہے تاسف اور تعجب کے ساتھ کے عالم میں سوچتا ہے کہ اس کے شہر کو کس نے قتل کیا ہے اس کے نزدیک لوگوں کی زبانیں کٹنے کو ارتکاب قتل پر محمول کیا جاسکتا ہے اور وہ شہر خوش کلام کی بات کرتے ہوئے اپنی تہذیبی زندگی کی قدروں کی یاد دلا تا ہے متکلم کی خود کلامی یا بے زباں ہمو طنوں سے مخاطبت ایک غیر معمولی واقعہ ہے جو وقوع پذیر ہونے کے ساتھ ہی تمام نہیں ہوتا بلکہ اس کے نامعلوم اطراف میں جانے کے امکانات کو ابھارتاہے۔ اس موقع پر غالب کا یہ شعر۔
 
بات پرواں زبان کٹتی ہے
وہ کہیں اور سنا کرے کوئی
 
یاد آتاہے مگر دونوں اشعار اپنی اپنی دنیا امکانات پر محیط ہیں بس اشک کا شعر ایک پہلو دار وقوعہ ہے اور ہاں جہاں تک اس کے معنی کا تعلق ہے اس کا اسخراج مشکل نہیں ہے فوری طورپر یہ سیاست گری اور اقتدار پرستی کی ہوس کی مکروہ اور عامرانہ صورت ہے یہ وہ چنگیزیت ہے جو تمذنی اقدار کو تہس نہس کرتی ہے یہ انسان کے بنیادی حق یعنی آزادی اظہار کے چھن جانے کا المیہ ہے اور نہ جانے اس سے اور کیا کیا معنیٰ نکالے جاسکتے ہیں۔
 
شعر ۲۔ میں ایک حیرت انگیز تخیلی فضاابھرتی ہے۔ متکلم کایہ کہناکہ وہ اس لڑکی جو اس کے دل میں بس چکی تھی کو آواز دینے ہی والا تھا کہ اسے اسکی موت کا واقعہ یاد آیا بظاہر یہ کسی شنا سایہ شنیدہ لڑکی کا ایک عمومی واقعہ ہے ایک طے کردہ خیال جو ظاہری طور پر شعری حیثیت سے عاری ہے لیکن شعر کو اتنی آسانی سے تہہ نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ یہ ماورا ئے سخن بھی ایک بات کہہ رہا ہے یہ اس محبت حیرت، محویت اور دُکھ کا اشاریہ ہے جو اسکی ڈرامائی صورتِ حال میں غور کرتاہے متکلم کا اس لڑکی کو آواز لگانے کا ارادہ کرنا جو مرچکی ہے شعر کے تخیلی ماحول پر صادہے لڑکی کو آوازلگا کر اس سے ممکنہ طور پرملاقی ہونے سے ظاہر ہو تاہے کہ وہ کسی ذاتی وجہ سے روپوش ہوگئی ہے متکلم اس سے اس زندہ جذباتی اور روحانی رشتہ رکھتا ہے وہ اسے پکار نے کی ٹھان لیتا ہے تو اسے اس کی موت یاد آتی ہے اور وہ میں کس کو کہہ کر اپنے دکھ کا اظہار کرتا ہے بین السطور لڑکی کی بے وقت موت ایک سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔کیا وہ فطری موت تھی یا اقدام خود کشی اور خود متکلم کا جذباتی رویہ جو سرمستی کا زائدہ ہے اور عالم ہجراں میں بھی برقرار ہے کہانی کو ایک اور موڑ دیتا ہے وہ لڑکی کی موت کو یاد کرنے سے اسے بھول جانے پر آمادہ نہیں یہ عشق کا متضاد جذبہ ہے جو شعر کی اک نئی جہت کو ابھار تا ہے اور معنوی امکانات کیلئے راستا کھو لتا ہے خود لڑکی اور اس کی موت علامتی جہات رکھتی ہے لڑکی پاکیز گی معصومیت اور جمال وزیبائی کار مزہے۔
 
شعر۳:۔ناظر دیکھتا ہے کہ دریا خشک ہوتا جارہاہے اور ندی جس کا دریا سے ایک فطری اورقریبی رشتہ ہے اس سے اپنا رشتہ ختم کرتی ہے شاید اس لئے کہ دریا اپنے آبی ذخائر سے محروم ہو رہاہے شعر میں دریا اور ندی کی تجسیم دونوں کے باہمی رشتے اور اس کی شکست ایک فکر انگیز صورت حال کو ابھارتی ہے متکلم خود کلامی سے اپنے مشاہدے کو بیان کر تاہے یا اسے دوسرے تما شبینوں کو سنا تاہے ۔ اور بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر تا ہے اور معنی کی کئی پر تیں کھل جاتی ہیں۔
 
شعر۴۔ میں ایک حیرت ناک واقعہ سامنے آتاہے جو خود کردار پر گزرتا ہے وہ اشاروں اشاروں میں اسے بیان کرتا ہے اور یہ ایک کہانی میں منقلب ہوتا ہے کہانی لفظوں کی کفایت رمزیت اور Gaps کی مدد سے آگے بڑھتی ہے وہ بہتے دریا میں کشتی پر سوار تھا کہ کشتی پانی کے بہائو میں ڈوب جاتی ہے وہ بچ نکلتا ہے مگر اسے یہ دیکھ کر تعجب ہو تاہے کہ جس مقام پر کشتی ڈوب چکی تھی دریا وہیں پر رک گیا تھا دریا کا صاکت ہونا شعر کی فرضیت کی تشکیل کر تاہے کشتی کے ڈبو نے میں خواہ کشتی بان کا ہاتھ ہو یا منہ روز پانی کے بہائو کا یا خود کردار کی شومئی قسمت کا یہ ایک انوکھے منظر یہ کو سامنے لا تا ہے اور دروزیاں علمداری فطرت کے پچھتا وے یا احتجاج کی تمثیل بن جاتاہے۔
 
شعر۵۔ میں متکلم ایک  
Omnipresent ناظر کی طرح سامنے آتا ہے وہ دیکھتا ہے کہ پرندے اپنی دشائیں بھول گئے ہیں یا کھوگئے ہیں نتیجتاً وہ انتشار کشمکش اور گم شدگی کے کرب سے دو چار ہیں ان کی اس حالت کو دیکھ کر راوی تمنائی لہجے میں کسی ایسے رمز شناس شخص کی آرزو کرتا ہے جو انہیں اپنے اطراف کا راستاد کھاتا ہے مگر وہ فوراً محسوس کر تاہے کہ کسی ایسے صاحب کرامات کا ہونا ناممکن ہے مایوسی کے عالم میں وہ کسی ایسے شخص کی آرزو کر تاہے جو پرندوں کے حق میں دعائیںدیتا!!
شعر کی تخلیقیت اس بات میں پوشیدہ ہے کہ اس میں نہ شاعر مداخلت کر تاہے نہ کوئی  Comment  کرتا ہے نہ کسی خیال یا نظریئے کا اظہار کرتا ہے اس میں الفاظ کی بھر مار ہے نہ تکرار اس میں کسی نوع کی تحدید کا احساس نہیں ہوتا ہے احساس ہوتا ہے تو ایک ایسے بصری وقوعے کا جو حیرت خیز اور غم انگیز ہے اور آغاز واختتام کی حد بندیوں سے آزادہے۔
 
++++
 
منشیاد
(اسلام آباد۔ پاکستان)
 
خدا کے گھر کی چابی 
 
پروین کمار اشک بر صغیر پاک وہند میں آزادی کے بعد پید ہوانے والی نسل کے پہلے چند ممتاز شعراء میں شمار ہوتے ہیں، ان کا گزشتہ مجموعہ غزل چاندنی کے خطوط جس کا دیبا چہ ڈاکٹر وزیر آغا نے تحریر کیا تھا، ادبی حلقوں میں غیر معمولی پذیرائی حاصل کر چکاہے۔ کسی مجموعہ غزل کا چاندنی کے خطوط،کتنا خوبصورت نام ہے ان کا کلام تو دل آویز ہوتا ہی ہے مگر انہیں کتابوں کے عمدہ اور شاعرانہ نام رکھنے میں بھی کمال حاصل ہے، نئے مجموعے کا نام دعا زمین بھی اپنے مندر جات کے حوالے سے نہایت مناسب اور موزوں ہے، خود ان کا اپنانام بھی کم متاثر کن نہیں جوتین زنانہ اور مردانہ رومانی ناموں کو ملا کر بنایا گیا مگر وہ اس نام کی اپنی الگ شناخت مستحکم کرنے میں کامیاب ٹھہرے اب ممکن ہی نہیں کہ کوئی شخص یہ نام پڑھے یا سنے اور بھول جائے اس شیریں سخن شاعر پروین کمار اشک سے میں اول اول مجلہ اوراق ، لاہور کے صفحات میں تعارف ہواتھا، ان کے بعض اشعار نے لطف دیا بعض نے چونکا یا اور ان کے تنقیدی وژن نے متاثر کیا، خاص طور پر ایک شعر تو میری یادداشت کا حصہ بن گیا۔
کسی کسی کو تھماتا ہے چابیاں گھر کی
خدا ہر ایک کو اپنا پتہ نہیں دیتا
پھر جب انہوں نے مدیر کے نام خطوط میں میرے بعض افسانوں پر اپنی رائے اور پسندیدگی کا اظہار کیا تو قدرتی طور پر ان کا نام مزید اچھا لگنے لگا مگر انسان ناشکر اہے میں بھی تھا سوچنے لگا کاش وہ پروین کمار کی بجائے پروین کماری ہوتے میں نے اپنے اور بالی وڈ کی معصوم صورت ادا کارہ منیشا کوائرالہ کے ناموں کا ذکر کرتے ہوئے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ ان کانام دراصل منشا ہی میں غلط جگہ پر ایک زائد’’ی‘‘ لگ جانے سے بنا ہے پروین کمار اشک بھی بھلے اشک کچھ بھی ہوتے مگر ان میں ایک ’’ی‘‘ زائد ہوتی تو ان کے منھ یا قلم سے اپنے افسانوں کی تعریف اور بھلی لگتی۔
 
بارے اس کے کئی برسوں بعد مجھے جموں سے معروف افسانہ نگار خالد حسین کے توسط سے جن سے میری لاہور میں پنجابی ورلڈ کا نفرنس میں ملاقات ہوچکی تھی، اشک صاحب کے خط کے ہمراہ ان کی نئی کتاب دعازمین کا مسودہ ملا کہ اس کا دیباچہ لکھ دوں اول مجھے کچھ پریشانی ہوئی کہ میں ایک افسانہ نگا ر اور تائب شاعراتنے مستند اور جانے پہنچا نے شاعر کے فن کے بارے میں کیا کہوں گا۔مگر ان کے کلام نے مجھے گرفت میں لے لیا، میں ان کی غزلیں پہلے بھی پڑھتا رہتا تھا اور جانتا تھا کہ انکی شاعری میں جیو اور جینے دو کی اقدار انسانی مساوات بھائی چارے اور زمین کو امن وآشتی کا گہوارہ بنانے کی شدید آرزو وپائی جاتی ہے۔ مسودے کے پہلے صفحہ کے اوپر بسم اللہ درج تھا اور نیچے یہ خوبصورت دعائیہ شعر ۔
 
تمام دھرتی پہ بارود بچھ چکی ہے خدا
’’دعا زمین ‘‘کہیں دے تو گھر بنائوں میں
 
میں نے سو چا ایسے امن پسند، زمین کی سلامتی کے آرزو مند، اور خوب صورت شاعر کی کتاب کا دیباچہ لکھنا تو باعث افتخار وبرکت ہے کیوں نہ میں بھی اس کی دعائوں میں شامل ہو جائوں، چنانچہ میں نے تفصیل سے غزلوں کا مطالعہ شروع کر دیا اور مجھے کتنے ہی اور ایسے دعائیہ اشعار پڑھنے کو ملے جن میں بارود ، خونریزی اور فرقہ پرستی سے پناہ مانگی گئی تھی اور دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان سیاست کی بد اعمالیوں نے جو بد اعتمادی ، نفرت اور نفاق کی فضاپیدا کر رکھی ہے ، اسے بد لنے کی شدید خواہش پائی جاتی تھی۔
 
تم نے کیوں بارود بچھادی دھرتی پر
میں تو دعا کا شہر بسانے والا تھا
+++
 جہاں پر کھوں کے سجدوں کے نشاں ہیں
وہ گلیاں خون سے کیوں دھورہے ہو؟
+++
محبت میں بدل جائے سیاست
خدا لاہور دلی سے ملادے
+++
میں ہمسایہ ہوں تیرا اشک مجھ کو
ذرا سی دھوپ تھوڑی سی ہوا دے
دعا زمین کی غزلوں میں دعا اور زمین کے علاوہ گھر کا ذکر کربار بار آتاہے، جو وطن کی مٹی سے محبت کا استعارہ اور اس کی سلامتی کی خواہش ہے، اکثر غزلوں میں وطن سے دوری گھر کے سونے پن اور ہجرت کا دکھ نمایاں ہے مہاجرت اور موت ان کے ہاں ایک ہی مفہوم رکھتی ہیں۔ ہجرت کے دکھوں کی پرچھائیوں اپنوں کی جدائی کی ٹیسوں اور موت کی پھیلائی ہوئی ویرانیوں کے کتنے ہی رنگ اور کیفیات ان میں جھلکتی محسوس ہوتی ہیں۔
 
سینے پر رکھ ہجرت کا پتھر چپ چاپ
گھر میں رہ اور چھوڑ دے اپنا گھر چپ چاپ
+++
آج مٹی کا دیا بھی نہیں جلتا ان پر
جن منڈیروں پہ کبھی چاند اگا کرتا تھا
+++
بہت رویا میں دیواروں سے مل کر
مکاں خالی ہوا جب ساتھ والا
+++
گھر کے اندر کوئی نہیں تھا
دیواروں پر نام لکھے تھے
+++
وطن سے دور اڑتا جارہا ہے
کوئی رکو پرندا جا رہا ہے
 
گھر اور وطن کے علاوہ بچوں اور بزرگوں کی سلامتی ان کا سب سے بڑا موٹیف ہے۔بچے ہمارا مستقبل اور بزرگ ہمارا ماضی ہوتے ہیں۔ہم منزل پر پہنچنے کی خاطر، حال کی شاہراہ حیات پر چلتے ہوئے ماضی کے ریرویو مرر( Rear  View  Mirror )میں راستے کا تعین کرتے ہیں۔ جو افراد اور قومیں اپنے ماضی کو بھلادیتی ہیں، انہیں مستقبل بھی فراموش کردیتا ہے۔میرے خیال میں بچوں کے ساتھ ساتھ بوڑھوں اور بزرگوں کو اس شدت سے یاد کرنے والے پروین کمار اشک شاید پہلے شاعرہیں۔
 
کتنے بھاری ہیں بستے بچوں کے
ان میں کچھ پھول ڈال رکھا کرو
+++
بزرگوں کا بس اک کمرا بچا کر
تو جب چاہے پرانا گھر گرا دے
 
غزل گو شاعروں کے ہجوم میں اپنی شناخت بنانا کوئی آسان کام نہیں لیکن پروین کمار اشک جلد ہی اپنی الگ پہچان بنانے میں کامیاب ہوگئے ان کی غزل اپنی زمین، اپنے عہداور اپنے وسیب (تمدن)سے جڑی ہوئی ہے۔ ان کی پسندیدہ علامتیں اور استعارے بھی زمین اور مظاہر فطرت سے لئے گئے ہیں جیسے کھیت، پھول، درخت ، پرندے، جگنو، چڑیا، روشنی، خوشبو، بارش، پانی ،دریا بادل اور ہو اوغیرہ۔ جو ان کی زمین اور متعلقات زمین سے گہری وابستگی کا ثبوت ہے انکی شاعری میں انسان کی سلامتی، انسانی اقدار کے فروغ اور بہتر انسانی مستقبل کے لئے بہ کثرت دعائیں بھی اس لئے ہیں۔
 
پرندوں کو دشائیں دینے والا
کوئی ہوتا دعائیں دینے والا
+++
وہ میرے پھول میری تتلیاں کہاں دے گا
جو ننگی شاخ کو پتہ ہرا نہیں دیتا
 
ان کے ہاں فکری اور معاشرتی موضوعات پر بھی بہت اچھے اچھے اور خیال انگیز اشعار ملتے ہیں۔چند متفرق اشعار ملاحظہ کیجئے۔
 
جدید کپڑے اسے کیا جوانیاں دیںگے
جو بوڑھی سوچ کو چہرہ نیا نہیں دیتا
+++
کئی برسوں سے عرضی زندگی کی گم ہے دفتر میں
کبھی افسر نہیں ہوتا کبھی بابو نہیں آتا
+++
توکلمہ پڑھ کے پرندوں کوذبح کرتا ہے
خدا معاف کرے سب عبادتیں تیری
+++
مروت کی تجوری بند رکھنا
یہ سکہ شہر میں چلتا نہیں ہے
+++
کیا یہ مسجد ہے صرف مومن کی
کیا یہ کافر ہیں سب خدا کے بغیر
عشق ومحبت ایک عالمگیر موضوع اور ارفع انسانی جذبہ ہے غزل اس جذبے کے بیان اورموضوع سے تہی ہو تو یہ ایسا ہی ہے جیسا چاند کے بغیر رات کا تصور روایتی اور رومانی شاعری کے برعکس پروین کمار اشک کی شاعری کا محور عشق اور محبت نہیں مگر اس کے ذکر سے یکسر خالی بھی نہیں ہے وہ الگ بات ہے کہ اب یہ قصہ، ماضی کا حصہ بن چکا۔
 
وہ جو اک پیڑ ہے صندل کا کسی کے گھر میں 
اسکی خوشبو سے رہا ہے کبھی رشتہ میرا
+++
میرے دروازے پہ کس کی انگلیوں کے لمس ہیں
جب میں درکھولوں تو میرے ہاتھ کو چھوتا ہے کون
+++
اس نے بھی آنکھوں میں آنسو روک لئے
میں بھی اپنے زخم چھپا نے والا تھا
ان کی اکثر غزلوں میں سہل ممتنع کی خوبی پائی جاتی ہے، چھوٹی اور رواں دواں بحروں میں وہ بہت بے ساختگی اور سہولت کے ساتھ بڑی بڑی باتیں کہہ جاتے ہیں ایک ہی غزل سے چند اشعار پیش ہیں۔
 
جسم کو روح سے ملا دینا
ارے دیوار مت اٹھا دینا
سجدہ کرنا سبھی بزرگوں کو
سارے بچوں کو تو دعا دینا
باغ کے سوکھنے سے پہلے ہی
خوشبوئوں کو کہیں چھپا دینا
 
ان کا اسلوب سادہ مگر خوب صورت ہے اپنے قاری کو لفظیات اور علامات کے گورکھ دھندے میں نہیں الجھا تے اور نہ ہی خود الفاظ وتراکیب کی بند شوں میں الجھتے ہیں فکری لحاظ سے پروین کمار اشک کی زیر نظر غزلوں میں نئے زمانے کی تیز رفتاری اور اقدار کی پامالی کا نوحہ بھی سنائی دیتا ہے مگر مجمو عی طور پر ان کی شاعری مثبت رویوں کی شاعری ہے اور امن ، خیر اور نیکی کا پیغام دیتی ہے۔ اگر میں خدا ہوتا تو یقینا دعائوں،محبتوں اور مثبت رویوں کے اس شاعر کو اپنے گھر کا پتہ ہی نہیں ڈپلی کیٹ چابی بھی دے دیتا۔ کیا پتہ اصلی اور عظیم خدا بھی دے ڈالے کہ بہت ہی انصاف کرنے والا اور دیالوہے۔
 
*****
 
(پروفیسر مغنی تبسم حیدر آباد (بھارت
 
’’دعازمین‘‘ کی شاعری پر ایک نظر
 
پروین کمار اشک نئی نسل کے ایک منفرد اور ممتاز شاعر ہیںَ ہندوستان اور پاکستان کے ادبی حلقوں میں ان کی کافی پذیرائی ہوئی ہے۔ بہت سے نقادوں نے ان کی شاعرانہ صلاحیتوں کا اعتراف کیا ہے۔
پروین کمار نے غزل کی روایت کا مناسب حد تک احترام کرتے ہوئے اپنے اظہار کیلئے نئی راہیں تلاش کی ہیں۔ روایتی استعاروں اور تشبیہوں کو مسترد کر تے ہوئے انہوں نے ایک نیا علامتی نظام تشکیل دیا ہے بعض استعارے معروف ہیں لیکن ان کے تلازمےبالکل مختلف ہیں ان کے علامتی نظام کا تعلق اس دنیا سے ہے جس میں وہ سانس لیتے ہیں ، اس کا ربط زندگی سے ہے جسے وہ بسر کر تے ہیں۔ اسی دنیا میں ہم بھی جیتے ہیں ایسی ہی زندگی ہم بھی جی رہے ہیں ۔آج کا عالمی منظر نامہ ہمارے سامنے ہے۔ سامراجی طاقتیں مل کر ایک ہوگئی ہیں۔ عالمیانے کے نام پر وہ ترقی پذیر اور پچھڑے ہوئے ملکوں کو اپنی تجارتی منڈیوں میں تبدیل کررہے ہیں اور صارفیت کو بڑھاوا دے رہی ہیں، پٹرول کے چشموں پرقابض ہونے کیلئے انہوںنے عراق کو تباہ وتاراج کیا اور اب ان کی نظر ایران پر ہے نئے ایٹمی معاہدے کے ذریعے وہ ہندوستان پر جال ڈال رہے ہیں تاکہ وہ ایران کے خلاف ان کے جارحانہ عزائم کا ساتھ دے فلسطین کے خلاف صیہونیت کا ہم نوا ہو جائے ادھر اندرون ملک سیاسی اور سماجی زندگی کا حال ابتر ہے رشوت ستانی اور کرپشن عروج پر ہے، انکائو نٹر کے نام پر بے گناہوں کا خون بہا یا جاتا ہے۔ معاشی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے فسادات بر پاکئے جاتے ہیں۔ جس میں معمولی کلرک سے لیکر اسمبلیوں کے ممبر، اراکین پارلیمنٹ اور وزرا تک ملوث ہیں ۔غرض ایک نفسانفسی کا عالم ہے، خاندانی رشتے ٹوٹ چکے ہیں۔ اخلاقی قدریں پامال ہوگئی ہیں۔
 
پروین کمار اشک کی شاعری اس پس منظر میں گہری معنویت کی حامل ہو جاتی ہے انہوں نے براہ راست احتجاج سے گریز کرتے ہوئے اظہار کا ایک ایسا اسلوب اپنا یاہے جس میں درد مندی سے مملو طنز کی زیریں لہررواں دواں ہے وہ اللہ سے اپنارشتہ استوار کرتے ہیں، کہ وہی کار ساز عالم ہے وہ دعا کو اعلیٰ اخلاقی اور سماجی قدروں کا استعارہ بناتے ہیں جس میں انسانیت دوستی بھائی چارگی، اخوات، امن، سلامتی، سبھی شامل ہیں۔ اب یہ شعر ملاخطہ کریں۔
 
تم نے کیوں بارود بچھادی دھرتی پر
میں تو دعا کا شہر بسانے والا تھا
+++
کوئی دعا کا پیڑ لگا
ننگے سروں پر سایا کر
+++
چمکتے تھے سروں پر دھوپ خنجر
دعا بر گد تو کب کا کٹ چکا تھا
فسادات ہمارے تہذیبی ورثے کو کس طرح ملیا میٹ کررہے ہیں۔ اس پر تیکھا طنز کیاہے۔
بہاں پر کھوں کے سجدوں کے نشاں ہیں
وہ گلیاں خون سے کیوں دھور ہے ہو
یہ دنیا بے کردار انسانوں کا جنگل بن گئی ہے جن کی کوئی شناخت نہیں ہے۔
کہاں سے آگئے چہروں کے جنگل
ہمارا شہر خالی ہوگیا ہے
اس شہر میں باکر دار انسانوں کی کوئی جگہ نہیں ہے اسی لئے وہ خدا سے دعا کرتاہے۔
مرا کردار بھی کر قتل یارب
مجھے بھی شہر میں جینا سکھا دے
پروین کمار اشک نے پھول، پیڑ اور تتلی کو زندگی کی شاد ابی اور ہما ہمی کی علامت کے طورپر برتاہے سبز ہوائوں والے موسم گزر چکے ہیں،شاخیں برہنہ، پھول مرجھا چکے ہیں، تتلی کے پرٹوٹے پڑے ہیں۔ چمن کی سیرابی جس مالی کی ذمہ داری ہے وہ اسے اجاڑدینے پر تلا ہوا ہے۔ 
وہ میرے پھول مری تتلیاں کہاں دے گا
جو ننگلی شاخ کو پتہ ہرا نہیں دیتا
جدید دور میں سارے رشتے ٹوٹتے بکھرتے جارہے ہیں۔ محبت کوئی ماضی کا افسانہ بن گئی ہے۔
اب لوگ زمینوں میں محبت نہیں بوتے
اس جنس کا کہتے ہیں خریدار نہیں ہے
+++
محبت کو سنا ہے دل کے بدلے 
عجائب گھر میں رکھا جارہا ہے
اب نہ وہ پہلے سے ہمسائے ہیں نہ ہم سائیگی ،گھروں کے ساتھ دلوں کے درمیان میں دیواریں کھڑی ہوگئی ہیںَ ان دیواروں کا گرانا بس کی بات نہیں ہے۔
گراچکا ہوں جو سو بار اپنے ہاتھوں سے
نہ جانے کیوں وہی دیوار سامنے آئے
+++
ہر دیوار کے پیچھے سو دیواریں ہیں
کتنی دیواریں میں روز گراتا ہوں
اس ماحول میں فرد تنہائی کے کرب میں مبتلا ہو جاتاہے کوئی ایسا نہیں جسے وہ اپنے کہہ سکے۔ 
چاند کسی کا، کسی کا سورج، کسی کا تارا، کسی کادیپ
کون کرن دے مجھ کو اجالا سائیں! میرا کوئی نہیں
پروین کمار اشک کے کلام کی خوبی یہ ہے کہ اس میں زندگی کے کئی رنگ یک جاہوگئے ہیں۔سیاسی سماجی پس منظر میں ہم ان کے اشعار کی ایک جھلک دیکھ چکے ہیں۔ اشک نے زندگی کے اور بھی روپ دیکھے اور دکھائے ہیں۔ غالب نے دنیا کو بازیچہ ء اطفال سے تشبیہہ دی تھی۔
بازیچہ ء اطفال ہے دنیا مرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے
اشک نے ’’تماشا‘‘ کے عدم تعین سے خاص بات پیدا کی ہے اس شعر کی جتنی بھی داددی جائے کم ہے۔
تماشا گاہ میں کس کا تماشا ہوتا ہے
تماش بینوں کو اس کا پتا نہیں ہوتا
دنیا کے اسٹیج پر انسان ایک رقاص کے مانند ہے کوئی مسلسل ڈھولک تھپتھپارہا ہے اور رقاص کے پایل کی سانسیں اکھڑرہی ہیں
مری پایل کی سانسیں جاں بہ لب ہیں
وہ ڈھولک تھپتھپاتا جارہا ہے
زندگی کی لایعنی تگ ودو کانقشہ ایک شعر میں کچھ عجیب انداز میںکھینچا ہے کہ کافکا کی یاد آتی ہے۔ 
کئی برسوں سے عرضی زندگی کی گم ہے دفتر میں
کبھی افسر نہیں ہوتا، کبھی بابو نہیں آتا
پروین کمار اشک نے اپنی حیات معاشقہ کی داستان بڑی سادگی اور معصومیت کے ساتھ اشعار میں رقم کردی ہے۔ اشک کہتے ہیں۔
دبائے رکھتا ہوں سینے میں یہ جو شعلہ عشق 
اسی سے اشک مراخاک دان روشن ہے
اس عشق کی یہ کیفیات ملا خطہ ہوں:
تجھ کو سوچا ہے اس قدر میں نے 
تیرا کردار ہوگیا ہوں میں
+++
آنکھیں مر جاتی ہیں یار
اتنی دور نہ جایا کر
معاملاتِ عشق کے مختلف مرحلے ان کے اشعار میں قید ہیں جیسے:
اک دن اس کے سامنے اشک میں رویا تھا 
اپنے کیے پر آج تلک پچھتا تا  ہوں
+++
وہ میری آوارگی پر مسکرا کر ایک دن
تھام لے گا ہاتھ میرا اپنے گھر لے جائے گا
+++
تو ایک بار مری راہ سے گزر جاتا
بدن گلاب مرا شوق سے بکھر جاتا
+++
میرے دروازے پہ کس کی انگلیوں کے لمس ہیں
جب میں درکھولوں تو میرے ہاتھ کو چھوتا ہے کون
یوں لگتا ہے عشق کی یہ بیل منڈو ے نہ چڑھ سکی اور جب وہ ناکام ونامراد گھر لوٹا تو:
غم کے سفر سے لوٹ کے پہنچا جب اپنے گھر
بانہوں میں لے کے رو پڑا میرا مکاں مجھے
محبوبہ ایک یاد بن کر رہ گئی۔
وہ جو اک پیڑ ہے صندل کا کسی کے گھر میں
اس کی خوشبو سے رہا ہے کبھی رشتہ میرا
جب محبوبہ سے جدائی ہوگئی تو وہ یاد کرتا ہے کہ
اس لڑکی کے ساتھ رہیںگی میری عشق کی خوشبوئیں
میرے اشکوںکے شبنم ہے جس کے پھول سے چہرے پر
+++
وہ مجھ سے بچھڑا میں رودھو کے اشک بھول گیا
پتہ نہیں تھا کہ دل پر نشان بھی ہوگا 
محبوبہ کسی اور کی ہوگئی اور اس نے بھی شادی کرلی
غیر کے گھر کی لاج ہے وہ
میں بھی بچوں والا ہوں
+++
میں جس کی قربتوں میں جی لیا کر تھا وہ لڑکی
مری بے درد آنکھوں کو پرائی اچھی لگتی ہے
خیر اس قصے کو یہیں چھوڑ تے ہیں آخر میں پروین کمار اشک کے چند اور شعر سن لیجئے۔
یار کے منظر نے موقعے پر آنکھیں دیں
میں اندھا دیوار اٹھانے والا تھا
+++
مسافروں کے لئے منزلیں ہی ہوتی ہیں
مسافروں کیلئے راستا نہیں ہوتا 
+++
بہت سوں کو رہائی مل چکی ہے
مرے بارے میں سوچا جارہا ہے
جو دانہ ڈھونڈنے نکلا تھا گھر سے
وہ پنچھی آج تک لوٹا نہیں ہے
+++
پھول کو زخم تم بناتے ہو
زخم کو پھول میں بناتا ہوں
+++
اصل سفر ہے وہاں سے آگے
جہاں تلک رستہ جاتا ہے
+++
پہلے مجھ کو کا سراپا انا
اب وہ کہتا ہے جی انا کے بغیر
+++
مجھ کو اس حادثے کا خوف ہے کیوں
جو کبھی رونما نہیں ہوتا
+++
مرے خدا تری مخلوق سب سلامت ہو
دعا یہ مانگوں جب اخبار سامنے آئے
+++
سینے پر رکھ ہجرت کا پتھر چپ چاپ
گھر میں رہ اور چھوڑدے اپنا گھر چپ چاپ
++++
 

 

 
You are Visitor Number : 3425