donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Qamar Jahan
Writer
--: Biography of Qamar Jahan :--

Qamar Jahan

 

قمر جہاں
 
قمر جہاں بھیکن پور، ہٹیا، بھاگل پور کی رہنے والی ہیں ان کی پیدائش۱۹۴۸ء میں قصبہ بزرگ دوار، دربھنگہ میں ہوئی، انہیں ادبی ذوق درثے میں نانہال سے ملا ہے، قمر جہاں نے اردو میں ایم اے ، پی ایچ ڈی کیا ہے فی الحال سندروتی مہیلا کالج بھاگلپور میں ریڈرشعبہ اردو ہیں ان کی ادبی زندگی کا آغاز ۱۹۶۴ ء میں ہو اجب وہ کالج میں داخل ہوئی تھی وقت مہر بان تھا، زندگی کی تلخیاں کسے کہتے ہیں۔یہ اس وقت سو چا بھی نہ تھا، ان کا پہلا افسانہ ،جنون وفا، کے نام سے ماہنامہ ، صبح نو، پٹنہ فروری ۱۹۶۴ء کے شمارے میں شائع ہواتھا اس وقت سے آج تک وہ لکھ رہی ہیں اب تک تقریبا پچاس کہانیاں ملک کے ادبی رسائل میں شائع ہوچکی ہیں، افسانوی مجموعہ صرف ایک ہی چھپا ہے جس کا نام چارہ گر ہے اس میں کل پندرہ کہانیاں شامل ہیں، آخر کی چار کہانیاں علامتی ہیں یہ ۱۹۸۳ءمیں منظر عام پر آیا ہے اس میں صرف ایک کہانی پہلے کی ہے جو عنوان کی کہانی ہے باقی ساری کہانیاں بعد کی ہیں قمر جہاں نے افسانوں کے علاوہ رپورتاثر، ڈرامہ اور تنقیدی مضامین بھی لکھا ہے کچھ کہانیاں ہندی میں بھی لکھ چکی ہیں، ان کا پی ، ایچ ڈی کا مقالہ، اختر شیرانی کی رومان اور جنسی شاعری ، بھی شائع قمر جہاں کو کہانی بیان کرنے کا اندازاچھی طرح معلوم ہے ان کی بیشتر کہانیوں میں موضوع کی گرفت مضبوط ہے، وہ اپنے افسانوں کو آرائشی الفاظ سے سجانے کی کوشش نہیں کرتی ہیں بلکہ بڑی سچائی سادگی اور فنکاری کے ساتھ کہانی کو آگے بڑھاتی ہیں ان کی بیشتر کہانیوں میں کہانی کا تصور آغاز سے انجام تک قائم رہتا ہے، اظہار بیان اور جملوں کی ساخت وترتیب میں ان کا اپنا ایک الگ انداز ہے اور یہی انداز بیان قاری کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔
قمر جہاں نے عام طور پر گھر آنگن میں پیدا ہونے والی چھوٹی چھوٹی باتوں کو اٹھا نے کی کوشش کی ہے کہیں کہیں سماج سماج اور سیاست کو بھی موضوع بنانے کی کوشش کی ہے ، بند کوٹھری، آندھی، اور ، چاندی کی نواسی کے نام، وغیرہ ایسی ہی کہانیاں ہیں، انہوں نے اپنے افسانوی مجموعہ چارہ گر، کے حرف آغاز میں خودہی اس بات کااعتراف کیا ہے۔
یہ کہانیاں چونکہ جاگتی آنکھوں کا خواب ہیں اس لئےان میں خواب سے زیادہ حقیقت کا رنگ ہے، زندگی کی ٹھوس اور کٹیلی حقیقتیں خصوصاً اس طرف جو بھی کہانیاں لکھ رہی ہوں ان میں فنکار ی ہے یا نہیں یہ تو آپ ہی بتا سکتے ہیں لیکن حقیقت کا وہ روپ تو ضرور موجود ہے جس نے میری روح کو زخمی کیا میرے احساس میں کرچیاں چھبورہی ہیں شاید اس لئے کہیں کہیں ان میں تلخیاں ابھر آتی ہیں، لیکن میں وہ حسن کہاں سے لائوں وہ گیت آپ کو کہاں سے منائوں جوزندگی کے شیریں ترین لمحوں کا عطیہ ہوتے ہیں میرے پاس تو دکھ درد ہے کبھی اپنا کبھی غیروں کا کبھی ذاتی کبھی اجتماعی ، قمر جہاں نے کچھ علامتی کہانیاں بھی لکھی ہیں لیکن یہ عام لوگوں کی دسترس سے باہر کی نہیں ہیں، اسے عام قاری بھی آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔ وہ وقت کے صحرا میں چپ چاپ کھڑا تھا ہر طرف آندھیاں سی اٹھ رہی تھیں، خوفناک بھیانک آندھی ، لوگ کہتے ہیں اس شہر میں ایسی آندھی کبھی نہیں آئی تھی، دہشت ہردہلیز پر کھڑی اپنی وحشت ناک صورت دکھا رہی تھی۔ سب لوگ اپنے مکان کے دروازے اور کھڑکیاں بند کئے ہوئے تھے۔ 
’’لمحوں کی صدا‘‘
مختصر یہ کہ قمر جہاں نے اپنی افسانہ نگاری کے لئے جوراہ بنائی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مستقبل میں وہ ایک کامیاب اور منفرد افسانہ نگار بن جائیں گی۔
 
’’بشکریہ بہار میں اردو افسانہ نگاری ابتدا تاحال مضمون نگار ڈاکٹر قیام نیردربھنگہ‘‘’’مطبع دوئم ۱۹۹۶ء‘‘
++++
 
 
You are Visitor Number : 4460