donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Qamarul Tauheed
Writer
--: Biography of Qamarul Tauheed :--

Qamarul Tauheed                 قمر التوحید 

 

 

نام :قمرالتوحید
والد کا نام : عبدالتوحید
ولادت: ۱۹۲۸ء ۔
تعلیم: ایم اے ،انگریزی ،پی ایچ ڈی،
شغل: پرنسپل ماڑواری کالج بھاگلپور،صدر شعبہ انگریزی پوسٹ گریجویٹ ڈیپارٹمنٹ بھاگلپور یونیورسٹی ،وائس چانسلر بھاگلپور اور ایل این متھلا یونیورسٹی ، دربھنگہ۔
ادبی زندگی کا آغاز: افسانہ نگاری کے تیسرے دور سے ادبی زندگی کا آغاز کیا۔
افسانوی مجموعہ : ایک،۱۔مکڑا،۱۹۸۰ء ،آٹھ افسانے شامل ہیں۔
افسانوں کی تعداد اور رسائل کے نام ملک کے چوٹی کے رسائل میں بہت سی کہانیاں
 جن میں افسانے شائع ہوئے:شائع ہوچکی ہیں۔
دیگرتصانیف اور مضامین وغیرہ ،بہت سے تنقیدی مضامین منظر عام پر آچکے ہیں۔اردو کے ساتھ انگریزی میں بھی بہت کچھ لکھ چکے ہیں۔
ڈاکٹر قمرالتوحید صاحب کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے وہ ماڑواری کالج بھاگلپور کے پرنسپل اور پوسٹ گریجویٹ ڈیپارٹمنٹ آف انگلش کے صدر کے فرائض انجام دینے کے بعد بھاگلپور یونیورسٹی اور للت نرائن متھلا یونیورسٹی دربھنگہ کے وائس چانسلر کے عہدہ پر فائز رہ چکے ہیں۔ ادبی زندگی کا آغاز افسانہ نگاری کے تیسرے دور سے شروع ہوا ،۱۹۶۱ء کے بعد اردو اور انگریزی میں ان کے تنقیدی مضامین منظر عام پر آنے لگے دراصل جب وہ ریسرچ کے سلسلے میں حیدر آباد گئے تھے توان کی ملاقات ملک کے نامور ادیبوں اور شاعروں سے ہوئی تھی ان لوگوں نے ان کے ادبی ذوق کو بہت حد تک بڑھا یا یہی وجہ ہے کہ عدیم الفرصت ہونے کے باوجود ان کی تخلیقات ہمیشہ منظر عام پر آتی رہی ہیں۔ آج ان کا شمار ہندوستان کے کہنہ مشق افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ 
عام طور پر قمرالتوحید صاحب کی کہانیاں جدیدیت کے زمرے میں آتی ہیںلیکن ان کی کہانیوں میں کہانی پن باقی ہے۔ بقول ڈاکٹر ارتضیٰ کریم ان میں جدید افسانہ نگاری کی وہ ساری خوبیاں مل جاتی ہیں جوجدید افسانے سے منسوب کی جاتی ہیں قمرالتو حید نے علامت اور استعاروں کے سہارے اچھی کہانیاں لکھی ہیں۔ توحید صاحب کا اسلوب بیان خوب سے خوب تر ہے قاری ایک بارا ن کی کہانی شروع کرتا ہے تو اسے ختم کئے بغیر ہیں رہتا۔ جب وہ پسینہ میں شرابور ہوگیا تو اس نے اپنی قمیص اتاردی تھوڑی دیر صرف بنیان میں کھڑا اپنے آپ کو اس نے مصر کا سابق شاہ فاروق سمجھا پھر اس نے دیوار پر اپنی پیٹھ لگادی دیوار کی مادی ٹھنڈک اسے روح افزا معلوم ہوتی۔ ’’مکڑا‘
ان کے افسانوں میں پہلے دور کے افسانوں جیسا تنوع تو نہیں لیکن انہوں نے کچھ کامیاب تجربے ضرور کئے ہیں اس لئے کہ وہ بے سو چے سمجھے کوئی چیز نہیں لکھتے اور نہ ہی بے سوچے سمجھے کسی کی نقالی کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جدید دور سے تعلق رکھتے ہوئے بھی ان کے افسانے زندگی کی الجھنوں ،پیچیدگیوں ، آرزئوں اورخوابوں کی عکاسی کرتے ہیں اظہار بیان کے معاملے میں تو وہ اپنا ایک الگ ہی مقام رکھتے ہیں چونکہ انہوں نے اردو کے مختلف اصناف ادب کے ساتھ انگریزی ادب میں طبع آزمائی کی ہے اس لئے انہیں زبان پر قدرت حاصل ہیں۔’’شعلے اور قہقہے ‘‘ ہیرے کا ہار‘‘ مکڑا‘‘ موم کی چٹان‘‘ اور ابھرا ہوا پھول‘‘ ان کی ایسی کہانیاں ہیں جنہیں افسانوی ادب میں ایک اضافہ کہا جاسکتا ہے۔
 
’’بشکریہ بہار میں اردو افسانہ نگاری ابتدا تاحال مضمون نگار ڈاکٹر قیام نیردربھنگہ‘‘’’مطبع دوئم ۱۹۹۶ء‘‘
 
 
You are Visitor Number : 1720