donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Qazi Abdul Wadood
Poet/Writer
--: Biography of Qazi Abdul Wadood :--

 

 قاضی عبد الودود 
 
 
 قاضی عبد الودود  ابن قاضی عبد الوحید ۸؍ مئی ۱۸۹۶ء کو پنی نانیہال واقع کاکو ( موجودہ ضلع جہان آباد) میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ’’ معاصر‘‘ کے قاضی عبد الودود نمبر میں اپنے حالات زندگی اور دینی و دنیاوی عقائد پر خاصی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ ان پر لکھے جانے والے بیشتر سوانحی مضامین کا ماخذ یہی مضمون رہا ہے۔ خود ان کے بیان کے مطابق ان کا سلسلہ نسب ملا عبد الشکور تاج فقیہ سے ملتا ہے۔ ان کے والد خود بریلوی مسلک پر سختی سے کار بند تھے مگر محض عقیدے کے اختلاف کی بنیاد پر کسی سے ترک تعلق کرنا پسند نہیں کرتے تھے۔ انہوں نے اپنے بڑے بیٹے (قاضی عبد المسعود) کو بھی مذہبی تعلیم کی طرف رجوع کیا اور وہ صرف چودہ سال کی عمر میں حافظ قرآن ہو گئے۔ پھر ایک سال رمضان شریف میں ختم تراویح کی ذمہ داریاں بھی ادا کیں مگر ان کا رجحان اس طرف نہیں تھا۔ اس لئے والد کے انتقال کے بعد وہ انگریزی تعلیم کے لئے اپنی دادیہال واقع لودی کٹرہ پٹنہ سیٹی سے قریب محمڈن اسکول پٹنہ سیٹی میں داخل ہو گئے۔ وہاں سے علی گڑھ گئے اور دوبارہ پٹنہ واپس آکر ۱۹۱۶ء میں میٹرک اور ۱۹۲۰ء میں پٹنہ کالج سے بی اے آنرز کے امتحانات پاس کئے۔ مارچ ۱۹۲۳ء میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے انگلینڈ چلے گئے۔ اور ۱۹۲۷ء میں کیمبرج سے ٹرائی پوس ( اقتصادیات) کا پہلا امتحان پاس کیا۔کچھ دنوں یرقان میں مبتلا رہنے کے سبب تعلیمی سلسلہ منطقع رہا۔ بالآخر ۱۹۲۹ء میں ٹرائی پوس مکمل کرنے اور بارایٹ لا ہو جانے کے بعد پٹنہ واپس آگئے۔ یہاں آکر کچھ دنوں پریکٹس کرتے رہے۔ ساتھ ہی حسرت موہانی اور دوسرے کانگریسی رہنمائوں کے نظریات سے متاثر ہو کر تحریک آزادی میں بھی شامل ہو گئے۔ صرف پندرہ سولہ سال کی عمر میں ان کا نکاح شاہ نظام الدین کی بیٹی ( خان بہادر سید ضمیر الدین کی نواسی) کے ساتھ ہوا مگر رخصتی سے قبل ہی وہ راہئی ملک عدم ہو گئی۔ ۱۹۲۲ء میں ان کی دوسری شادی مشہور سرکاری وکیل شاہ رشید اللہ کی صاحبزادی سے ہوئی جن سے صرف ایک لڑکے قاضی محمد مسعود ہیں۔ جو بقید حیات ہیں۔ اور بھنور پوکھر میں واقع اپنے آبائی مکان میں رہتے ہیں۔ ۱۹۷۰ء کے بعد قاضی صاحب کی صحت برابر خراب ہوتی گئی اور انہوں نے پریکٹس بالکل چھوڑ دی۔ ۱۹۷۳ء میں قلب کا دورہ پڑا جس سے صحت یاب تو ہو گئے مگر ۱۹۷۹ء میں اہلیہ کے انتقال کے بعد جسم کا داہنا حصہ تقریباً بے حس ہو گیا۔ گرچہ ذہنی طور پہ پھر بھی فعال رہے مگر تندرست نہ ہو سکے۔۲۵ جنوری ۱۹۸۴ء (بمطابق ۱۴۰۴ھ ) کو وفات پائی اور پیر موہانی قبرستان ( پٹنہ) میں آسوہ خاک ہوئے۔ عطا کاکوی نے سال وفات اس طرح نکالا۔  ؎
 
صد آئی’ اعظم محقق نماند‘‘
یہی سال رحلت ہوا بر ملا
۱۴۰۴ھ
 
 قاضی عبد الودود نے کم عمری میں قرآن پاک حفظ کیاعربی،فارسی ادب مذہب اور فلسفے سے متعلق کتابیں پڑھیں۔ انگلینڈ میں حصول تعلیم کے دوران اقتصادیات پڑھی اور انگریزی کے علاوہ لا طینی، فرانسیسی اور جرمن زبانوں میں دستگاہ بہم پہنچائی مگر بقول خود زیادہ تر پڑھا لکھا رفتہ رفتہ فراموش ہو گیا اور وہ اردو فارسی تحقیق تک محدود ہو کر رہ گئے۔ مذہی عقائد کے اعتبار سے بھی انہیں کسی ایک خانے میں رکھنا آسان نہیں ہے انہوں نے اکثر مروجہ عقائد کے اعتبار سے بھی انہیں کسی ایک خانے میں رکھنا آسان نہیں ہے۔ انہوں نے اکثرمروجہ عقائد پر تشکیک کا اظہار کیا ہے۔ اس کے باوجود میرا خیال ہے کہ وہ مرتے دم تک توحید کے قائل رہے سیاسی اعتبار سے ایک عرصہ تک وہ کانگریسی نظریات سے قریب تر تھے۔ اور فخر الدین علی احمد مرحوم سے ان کے ذاتی مراسم رہے مگر کسی سیاسی پارٹی کے وہ کبھی ممبر نہیں رہے۔ صدر جمہوریہ ہند کی جانب سے انہیں فارسی زبان و ادب کی خدمات کے لئے Certificate of honour in Persian دیا گیا۔ غالب ایوارڈ برائے تحقیق و تنقید ملا اور ۱۹۸۳ء میں مجموعی ادبی خدمات کے اعتراف میں غالب انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے ایک خصوصی طلائی تمغہ پیش کیا گیا۔ جسے دینے کے لئے انسٹی ٹیوٹ کے ذمہ داران بذات خود پٹنہ آئے اور ان کے گھر پہ ہی منعقد ایک با وقار تقریب میں یہ تمغہ انہیں پیش کیا گیا اس موقع پر غالب انسٹی ٹیوٹ نے ایک مختصر سا کتابچہ بھی شائع کیا۔
 
 ان کی تحقیق سے متعلق تحقیقی مقالے لکھے جا چکے ہیں غالب نامہ اور معاصر، کا خصوصی شمارہ شائع ہوا ہے۔ اور عہد حاضر کے اہم محققین  نے انہیں خراج تحسین پیش کیا ہے۔ پروفیسر وہاب اشرفی کا لکھا ہوا ایک مونو گراف ساہتیہ اکادمی دہلی نے شائع کیا ہے۔
 
 انجمن ترقی اردو کے پلیٹ فارم سے زبان کی ترویج و اشاعت کے سلسلے میں بھی ان کی کاوشیں اہم رہی ہیں۔ انہوں نے انجمن کی طرف سے ایک خوبصورت ادبی رسالہ’’ معیار‘‘ مارچ ۱۹۳۶ء میں جاری کیا تھا جو صرف سات شماروں کے بعد بند ہو گیا۔
 
قاضی عبد الودود کی ادبی زندگی کا آغاز ۱۹۱۳۔۱۹۱۲ء میں ہوا۔ پہلا مضمون’’ گلزار ابراہیم‘‘ مولفہ ابراہیم خان خلیل کے حوالے سے شائع ہوا جو تحقیقی نوعیت کا تھا۔ بقول وہاب اشرفی ۱۹۱۳ء میں آگرہ اخبار میں جذبات حسرت کے مصور، کے فرضی نام سے ایک افسانہ شائع ہوا تھا اور انہوں نے بعض انگریزی افسانوں کے ترجمے بھی کئے۔ سلطان آزاد کی اطلاع کے مطابق انہوں نے خاصی تعداد میں اشعار بھی کہے تھے مگر یہ سب ابتدائی دور کی چیزیں تھیں۔ یورپ سے واپس آنے اور وکالت ترک کر دینے کے بعد ان کا میدان لفیحیح و انتقاد متن ، نقد فرہنگ اور تاریخ ادب ہو گیا اور اس سلسلے میں انہوں نے فارسی اور اردو مخطوطات کا جس باریک بینی سے مطالعہ کیا وہ بے نظیر ہے۔ خاص طور پر غالب کے مطالعے میں انہوں نے جو امتیاز حاصل کیا وہ ان کے دوسرے معاصرین کو میسر نہیں ہو سکا۔
 
ان کے تحقیقی مضامین کی ایک فہرست’ معاصر‘ کے قاضی عبد الودود نمبر میں ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے کم و بیش تین سو طویل تحقیقی مقالے لکھے۔ ان کی تصانیف کی ایک فہرست پروفیسر وہاب اشرفی نے اپنی کتاب قاضی عبد الودود ( ناشر ساہتیہ اکادمی ۔ دہلی) اور تاریخ ادب اردو جلد دوم( ۹۴۴ ص) میں شائع کی ہے جو درج دیل ہے۔
 
 (۱) زبان شناسی (۲) غالب(۳) میر(۴) عبد الحق بحیثیت محقق(۵) شاد عظیم آبادی(۶) مصحفی(۷) درد و سودا( ۸) تذکرہ شعرا( ۹) تبصرے(۱۰) آوارہ گرد اشعار(۱۱) تحقیقات ودود(۱۲) فارسی شعر و ادب(۱۳) اردو شعر و ادب(۱۴) دیوان نعیم دہلوی(۱۵) ابو الکلام آزاد(۱۶) قطعات دلدار(۱۷) گارساں و تاسی(۱۸) تعین زمانہ(۱۹) جہانِ غالب(۲۰) دیوان رضا عظیم آبادی(۲۱) دیوان نعیم(۲۲)دیوان نوازش(۲۳) کلام شاد(۲۴) شاہ کمال علی کمالی دیوروی اور ان کی تصانیف(۲۵) شعرا کے تذکرے(۲۶) فارسی شعر و ادب : چند مطالعے(۲۷) چند اہم اخبارات و رسائل(۲۸) محمد حسین آزاد بحیثیت محقق(۲۹) غالب بحیثیت محقق(۳۰ ) فرہنگ آصفیہ پر تبصرہ(۳۱) مآثر غالب(۳۲) بہار کے اخبار بہار کی روشنی میں (۳۳) کچھ شاد عظیم آبادی کے بارے میں (۳۴) مصحفی اور ان کے اہم معاصرین (۳۵) کچھ غالب کے بارے میں (حصہ اول) (۳۶) کچھ غالب کے بارے میں( حصہ دوم)۔
 
 ان کتابوں کے علاوہ بہار اردو اکادمی سے مقالات قاضی عبد الودود کی اشاعت ہوئی ہے۔ بہت سارے مضامین ایسے ہیں جو مستقل کتاب کی حیثیت رکھتے ہیں مگر رسالوں میں شائع ہونے کے بعد اب تک کتابی شکل میں منظر عام پر نہیں آسکے۔
بہر حال قاضی صاحب کی تحقیق سے متعلق کچھ بھی کہنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ ان کی سخت گیری اور اصول پرستی کے باوجود ان کے مداحوں میں بزرگ بھی شامل ہیں اور معاصرین بھی۔ میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے جدید اردو تحقیق کے تین اہم معماروں حافظ محمود شیرانی، امتیاز علی خاں عرشی اور مالک رام کے ساتھ مل کر تحقیق کا ایک ایسا معیار پیش کیا ہے جو آنے والی نسلوں کے لئے مشعل راہ بنا رہے گا۔ گرچہ موخر الذکر دونوں محققین نے بھی ان کو خراج تحسین پیش کیا۔
 
(بشکریہ: بہار کی بہار عظیم آباد بیسویں صدی میں ،تحریر :اعجاز علی ارشد،ناشر: خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری، پٹنہ)
 
****************
 
You are Visitor Number : 3222