donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Raza Naqvi Wahi
Poet/Writer
--: Biography of Raza Naqvi Wahi :--

 

 

 رضا نقوی واہ ی 
 
نام: سید محمد رضا نقوی
تخلص: رضا نقوی ( جب ظریفانہ کلام لکھنے کا سلسلہ شروع ہوا تو تخلص واہی ہو گیا)
تاریخ پیدائش: ۱۷ جنوری ۱۹۱۴ء
والد کا اسم گرامی : مولوی سید ظہور حسین
(چھوٹے موٹے زمیندار کچھ عرصہ تک پولیس انسپکٹر رہے)
وفات والد: جنوری ۱۹۶۲ء
والدہ کا اسم گرامی: محترمہ خیر النساء
وطن: موضع کھجوا، ضلع سیوان( بہار)
تعلیم: ٭ابتدائی تعلیم روایتی طرز پر گھر میں ہوئی
٭مولوی عین الہدیٰ ثم ؔ  ( پٹنہ سیٹی کے باشندہ تھے) سے عربی اور فارسی سیکھی۔
٭پٹنہ کالیجیٹ ہائی اسکول سے میٹر(۱۹۳۰ئ) اور پٹنہ کالج ، پٹنہ سے انٹر میڈیٹ ۱۹۳۲ء پاس کرنے کے بعد صوفی کمر شیل انسٹی ٹیوٹ سے ڈپلوما ان کامرس (۱۹۳۳ئ) حاصل کیا۔
صحبت: پٹنہ کالج میں اختر اورینوی، زبیر احمد تمنائی، علی عباس ( چچا زاد بھائی جو ڈی آئی جی کے عہدہ سے ریٹائرڈ ہوئے) یحییٰ نقویؔ ، شرف الدین احمد شرفؔ عظیم آبادی، سلطان احمد ،
بہزاد فاطمی وغیرہ کی صحبت رہی۔
شادی: ۱۹۳۸ء میں۔
اہلیہ کا نام: سیدہ شاکرہ خاتون
وطن: قصبہ، بھگونی، ضلع سیوان، صوبہ بہار
اولاد: پانچ بیٹے اور تین بیٹیاں
بیٹے: (۱) سید علی رضا نقوی
(۲) سید احسن رضا نقوی
(۳) سید عابد رضا نقوی
(۴) سید جعفر رضا نقوی
(۵) سید موسیٰ رضا نقوی (مرحوم)
بیٹیاں: (۱) رضیہ فاطمہ
(شوہر کا نام : سید محمد رضی نقوی، پیشہ: بینک منیجر کے عہدے سے سبکدوش)
(۲) مرضیہ فاطمہ
(شوہر کا نام : سید نادر قلی، پیشہ : محکمہ ریلوے میں پارسل کلرک)
(۳) ذکیہ فاطمہ
(شوہر کا نام : سید سرور عباس رضوی، پیشہ، آڈیٹر محکمہ امداد باہمی)
ملازمت: ٭ ۱۹۳۷ء میں بہار لیجس لیٹو اسمبلی میں اردو رپورٹر کی حیثیت سے داخل ملازمت ہوئے۔
٭ ترقی پاکر بہار لیجس لیٹو کائونسل کے سکریٹریٹ میں اسسٹنٹ سکریٹری کے عہدہ تک گئے۔
ملازمت سے سبکدوشی: جون۱۹۷۲ء
تخلیقی سفر کا آغاز و ارتقائ (۱)پہلے شعر کی تخلیق ۱۹۲۸ء میں۔
(۲) پہلی غزل کی تخلیق ۱۹۳۲ء میں
(۳) پہلی غزل کی اشاعت ۱۹۳۹ء میں
(۴) پہلی نظم کی تخلیق ۱۹۳۵ء میں۔
(۵) پہلی نظم کی اشاعت ۱۹۳۶ء میں۔رسالہ : ’’ ادب لطیف‘‘ ، عنوان: آج کچھ کھایا نہیں۔
(۶) پہلی ظریفانہ نظم کی اشاعت ۱۹۵۰ء میں ۔ عنوان’’ ایم ایل اے‘‘
(۷)پہلی تنقیدی تحریر کی اشاعت ۱۹۵۷ء میں عنوان’’ بہار میں اردو شاعری‘‘
ادبی اور شعری ذوق کی نشو و نما کھجوا بستی کے ادبی ماحول میں ہوئی، موزوں ، ناموزوں مصرعے مڈل اسکول کے زمانے میں ہی لکھنے لگے تھے۔ پٹنہ کالج میں طالب علمی کے دوران ان کی شاعری کو پھلنے پھولنے کا زیادہ موقع ملا۔ شروع میں سنجیدہ شاعری کی۔۱۹۵۰ء میں طنز و مزاح کی طرف مائل ہوئے۔ اور پھر اسی کے ہو کر رہ گئے۔
ابتداء میں جوش ملیح آبادی سے بہت متاثر رہے جوشؔ کے انداز فکر و بیان کو ان کے ذہن نے قبول کیا اور انہوں نے بہت سی سنجیدہ نظمیںمثلاً ’’ مانجھی ‘بھوک، مشعل، آج کچھ کھایا نہیں، اچھوت وغیرہ ان کے طرز پر لکھیں جو اس زمانے کے رسائل نگار، ساقی، ادب لطیف، اور ایشیا وغیرہ میں شائع ہوئیں۔ جوشؔ کے علاوہ میر انیسؔکے کلام سے بھی متاثر ہوئے۔
شرف تلمذ: ابتداء میں مرزا نہر مرحوم سے اصلاح لیتے تھے۔ انہوں نے ہی شاعری کے ابتدائی رموز سے آگاہ کیا۔
شعری مجموعے ( اردو) (۱) واہیات ۔۱۹۵۰ء میں( قیوم انصاری مرحوم کے مالی تعاون سے اشاعت پذیر ہوا)
(۲)طنز و تبسم ۔ ۱۹۶۳ء میں مکتبہ ادب ، گردنی باغ، پٹنہ نے شائع کیا۔
(۳) نشتر و مرہم ۔۱۹۶۸ء میں زندہ دلانِ حیدر آباد نے شائع کیا۔
(۴) کلام نرم و نازک ۔۱۹۷۲ء میں ڈاکٹر مناظر عاشق ہر گانوی نے مرتب کرکے نسیم بک ڈپو لکھنو کے زیر اہتمام چھپوایا۔
(۵)’’ نام بنام‘‘ ( منظوم خطوط کا مجموعہ) ۱۹۷۴ء میں پی کے پبلی کیشنر پرتاپ اسٹریٹ ، دریا گنج، دہلی نے شائع کیا۔
(۶)’’ متاع واہیؔ‘‘ ۱۹۷۷ء میں بہار اردو اکیڈمی کی جزوی مالی امداد سے شائع ہوا۔
(۷) ’’ شعرستان واہی‘‘۔۱۹۸۳ء میں بہار اردو اکیڈمی کے جزوی مالی تعاون سے اشاعت پذیر ہوا۔
(۸) ’’ منظومات واہی‘‘ ۱۹۹۲ء میں جے ٹی ایس پرنٹرز پٹنہ نے شائع کیا۔
(۹) ’’ ترکش  واہی‘‘ ۱۹۹۵ء میں منظر عام پر آیا۔
بہ زبان ہندی۔ (۱۰) ’’ چٹ پٹی نظمیں‘‘ ۷۲۔۱۹۷۱ء میں ’’ مکتبہ تحریک‘‘ دہلی نے دیو ناگری رسم الخط میں شائع کی۔
نثری کارنامے:۔ واہی، ایک صاحب طرز نثر نگار بھی ہیں ۔وہ برسوں روز نامہ’’ ساتھی‘‘ پٹنہ میں مزاحیہ کالم لکھتے رہے۔ وقتاً فوقتاً انہوں نے متعدد و تنقیدی مضامین بھی لکھے ہیں۔ جو مختلف رسائل میں چھپ چکے ہیں۔ ان کی ایک نثری کتاب ’’ بہار میں اردو شاعری ‘‘ بہار ہندی ساہتیہ سمیلن کے زیر اہتمام 1957 ء میں بہ زبان ہندی شائع ہو چکی ہے۔
ترتیب و تدوین: ٭۱۹۴۴ء میں زبیر احمد تمنائی (اب پاکستان میں ہیں) کے اشتراک سے بہار کے نظم گو شعراء پر مشتمل ایک اینتھو لوجی بنام’’ اشارہ‘‘ ترتیب دے کر چھاپی۔
٭۵۲۔۱۹۵۱ء میں علامہ جمیل مظہری مرحوم کی نظموں کا مجموعہ’’ نقش جمیل‘‘ ترتیب دے کر شائع کیا۔
٭۵۷۔۱۹۵۶ء میں علامہ جمیل مظہری مرحوم کی غزلوں کا مجموعہ فکر جمیل مرتب کرکے چھپوایا۔
٭۱۹۶۵ء میں کچھ نوجوان دوستوںکے اشتراک سے پروفیسر اختر اورینوی ( مرحوم)کی شخصیت اور فکر و فن پر تقریباً چھ سو صفحات پر مشتمل ایک رسالے کا خاص نمبر نکالا۔
دیگر مطبوعہ تحریریں: ٭تقریباً ۲۰ مقالات ۔
٭تقریباً دو درجن کتابوں پر تبصرے اور تجزیے۔
٭ متعدد کتابوں کے مقدمے، دیباچے اور آرائ،
دیگر خدمات: ٭صدہا مشاعروں میں شرکت کرکے محفلوں کو زعفران زار بنایا۔
٭ریڈیو تبصرے اور فیچر نیز ٹی وی پروگرام۔
٭۱۹۷۶ء میں ظریفانہ ادب کے فروغ اور اسے خاص و عام میں مقبول بنانے کے لئے چند ہم خیال حضرات کے تعاون سے کل ہند جشن ظرافت کمیٹی کے نام سے ایک ادارہ قائم ۔
٭ہندستان اور پاکستان کے کئی اہم مزاح نگاروں کو مدعو کرکے ’’ جشن ظرافت‘‘ کا اہتمام کیا ۔۱۱ اور ۱۲ دسمبر ۱۹۷۶ء کو پٹنہ میں منعقدہ عظیم الشان ’’ جشن ظرافت‘‘ تاریخی نوعیت کی محفل تھی۔جس کے انعقاد کا سہرا یقینا واہی کے سر جاتا ہے۔
شاگرد ( شاعری) جوہر سیوانی، نٹ کھٹ عظیم آبادی، اسرار جامعی، شہزاد معصومی، قمر الزماں قمر، صابر بہاری، ابرار ساغر، منیر سیفی وغیرہ۔
ایوارڈز ٭بہار اردو اکیڈمی پٹنہ نے ادبی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ۱۹۷۷ء میں تین ہزار روپے کا خصوصی انعام دیا۔
٭غالب انسٹی ٹیوٹ دہلی نے طنز و مزاح کی خدمات کے لئے ۱۹۸۵ء اور ۱۹۸۷ء میں غالب ایوارڈ سے نوازا۔
٭محکمہ راج بھاشا، حکومت بہار نے ان کی گراں مایہ شعری خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے جون ۱۹۹۹ء میں پر وقار ’’ مولانا مظہر الحق شیکھر سمان سے نوازا۔
٭ ادارہ ’’ اعتراف‘‘ پٹنہ نے ان کے ادبی کارناموں کے اعتراف میں ’’ جشن واہی‘‘ کا انعقاد کرکے انہیں اعتراف ایوارڈ ۱۹۹۹ء سے سرفراز کیا۔
 کتابوں پر انعامات / اعزازات: ’’طنز و تبسم ‘‘پر پٹنہ یونیورسٹی سے ڈھائی سو روپے کا انعام ملا۔
٭بہار میں اردو شاعری پر بہار راشٹر بھاشا پریشد نے پانچ سو روپے کا انعام دیا۔
٭’’ کلام نرم و نازک ‘‘ پر ۱۹۷۲ء میں یو پی اردو اکیڈمی لکھنو ( ایک ہزار روپے) اور بہار اردو اکیڈمی پٹنہ ( پانچ سو روپے) کے انعامات ملے
  ٭’’نام بنام‘‘ پر ۱۹۷۳ء میں یو پی اردو اکیڈمی لکھنو نے ایک ہزار روپے کا انعام دیا۔
٭’’ متاع واہی‘‘ پر ۱۹۷۷ء میں کل ہند میر اکیڈمی لکھنو نے پانچ سو روپے کا انعام اور سند دی۔ اس پر یوپی اردو اکیڈمی نے بھی پندرہ سو روپے کا انعام دیا۔
٭’’ شعرستان واہی‘‘ پر ۱۹۸۳ء میں بہار اردو اکیڈمی ( دو ہزار روپے) ، اتر پردیش اردو اکیڈمی ( دو ہزار ) اور مغربی بنگال اردو اکیڈمی پانچ سو روپے کے انعامات ملے۔
قدر شناسی: ٭۱۹۸۵ء میں رانچی یونیورسٹی نے اسی یونیورسٹی کے لکچرر محمد عقیل اشرف کو تحقیقی مقالے’’ رضا نقوی واہی کی مزاحیہ شاعری کا تنقیدی مطالعہ پر پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض کی۔ ان کے نگراں پروفیسر سمیع الحق تھے۔
٭ڈاکٹر ممتاز احمد خاں، ریڈر شعبہ اردو بی ۔ آر امبیڈکر بہار یونیورسٹی ، مظفر پور کی نگرانی میں جناب مشتاق احمد صدر شعبہ اردو ویمنس کالج، حاجی پور نے جدید اردو شاعری میں طنزو مزاح کی روایت اور رضا نقوی واہی کی شاعری ‘‘ کے عنوان کے تحت تحقیقی مقالہ برائے پی ایچ ڈی ڈی قلم بند کیا ہے۔ ان کا مقالہ یونیورسٹی میں جمع ہو چکا ہے۔ڈگری ابھی تفویض نہیں ہوئی ہے۔
٭شفیقہ فرحت کی نگرانی میں جاوید اختر نے تحقیقی کام کیا ہے۔
٭متعدد ریسرچ اسکالر ز کئی یونیورسٹیوں میں پی ایچ ڈی اور ایم فل کر رہے ہیں۔
٭رسالہ’’ ادب نکھار‘‘ مئو ناتھ بھنجن نے ۱۹۸۳ء میں ان کی شخصیت اور کارنامے پر ایک ضخیم نمبر شائع کیا۔
٭کئی نظمیں یونیورسٹیوں کے نصاب میں شامل ہیں۔
٭ بر صغیر ہند و پاک کے متعدد ادیبوں نے ادبی خدمات کو سراہا ہے۔
بیرونی ملک کا سفر: ٭تقسیم ہند کے بعد بہتر زندگی اور معاش کی تلاش میں واہی صاحب پاکستان بھی گئے تھے۔ وہاں کی قومی اسمبلی میں انہیں با وقار ملازمت بھی مل گئی تھی۔ لیکن اس مملکت اسلامی میں ان کا دل نہیں لگا اور وہ وطن واپس لوٹ آئے۔
وفات: ۵ جنوری ۲۰۰۲ء
بوقت: ڈیڑھ بجے دن
تدفین: شیعہ قبرستان ، افضل پور، پٹنہ
آسماں تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے
 
(تحریر:ڈاکٹر ہمایوں اشرف (رضا نقوی واہی آئینہ در آئینہ)پبلی کیشن ، کتابی دنیا دہلی سے ماخوذ )
 
 
You are Visitor Number : 3017