rishta online logo
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
Share on Facebook
Saloo Choudhury
--: Biography of Saloo Choudhury :--

Saloo Choudhury

Name : Salahuddin Choudhury
Known ar: Saloo Chuwdhury
Father: Lale Fariduddin Choudhury
Date of Birth: 30 June 1941
Birth Place: Kolkata
Home Place : Vill Pakahi Tehta, P.S Makhdoompur
Educational, Qualification: Graduate

A Known personality Suresh Neotia Given introduction of Janab Saloo Choudhury in Bhagvat Gita Rendition in English ,Hindi & Urdu.


Salahuddin Choudhury or rather saloo, as he is known and addressed by all, thinks he is a private person but is known to everyone, in every rank and file, He is very selective in visiting people but warm whenever he meets.

Saloo has an effervescent personality. He is always smiling with a tinge of wickedness. He is a man of many hues and is differently known to different people. He is a friend of friends but aloof to haughty and mighty.

To some he is known as an ace car rallyist who established world record in circumnavigating the world in a car covering six Continents and to enter the Guinness book of World Record. For another set of people he is known who loves and dealt in antique cars. Then there are some old college friends of his who knew him as a local 'Mastan' who could bully and have his way. His persona even today wears a look of a street fighter inspite of inner humility and sophistication.

His zest for Urdu Shayari was always with him. In his memory there are thousands of Urdu couplets told and his recall memory is such that he would call a couplet for every occasion or situation. I wonder at his lenght and breadth of his use of Urdu Shayari and Gazals and the uniqueness of his reciting in a couplet appropriate to every situation.

He is a staunch Muslim, a proud nationalist and secular at heart. He doesn't hesitate to participate in Puja at our home and celebrates all festival with full fervor.

He read and re-read Quran and discovered the true meaning of its philosophy.He abhors te Mullahs or the so called custodians of Islamic faith who have propagated Islamic fundamentalism by distorting the message of Quran. In last 10 years, he delved into Gita, hired a Sanskrit scholar to interpret Gita in spoken language. He spent hours and days to get to the bottom of the great message of bhagwat Gita. He found that the teaching of these two great Holy Books have much in common. He discovered there is One Supreme Being whom Hindus call'Ishwar' and Muslim call Allah

Bhgwat Gita gripped him and painstakingly he translated verse by verse all the 18 chapters in spoken Hindi. He undertook this great task by saving time from unnecessary social obligations and achieved the important task of editing the final draft. The book is now printed and I believe that this will be a tool to spread the message of Bhagwat Gita to millions of people in our country and abroad who can neither read Sankrit nor English. He has done a great service in bridging the gulf between the two communities and I hope it will be duly acknowledged by our countrymen.

Nervertheless, Saloo remained Saloo, as he always was, nothing more and nothing less, a complete human being with all the frailty and strength of character. Over more than four decades, I Have Known him as a very close personal friend. I have suffered him and also suffered the society who were wary of my close association. When I clapped on his achievement, they doubted the veracity of it, when I hailed him as a truthful person, they doubted his achievements.what is important is that I have known him completely as he is. The completeness of our relationship is the touchstone of my esteem for him.I wonder whether another evolution is waiting for him. He is destined to live his life on his own terms and therefore his own life has been rewarding to him and gratifying to me.

Suresh Neotia

نام: صلاح الدین چودھری
والد کانام: فریدالدین چودھری (مرحوم)
تاریخ پیدائش:۳۰؍جون۱۹۴۱ء
مقام پیدائش:کلکتہ
آبائی وطن :پکاہی،ٹہٹا،تھانہ مخدوم پور،ضلع گیا،بہار
تعلیمی لیاقت:گریجویشن

اردوادب کے پرستاراورمشہورشخصیت جناب سریش نیوٹیانے جناب صلوچودھری کے ذریعہ لکھی کتاب بھاگوت گیتاکامنظوم ترجمہ میں اپنے مندرجہ ذیل خیالات کااظہارکیاہے۔

صلاح الدین چودھری جنہیںدنیاصلوچودھری کے نام سے جانتی ہے کاخیال ہے کہ وہ ایک الگ قسم کے انسان ہیں حالانکہ وہ نہ صرف خاص رئیسوں اورامیروں میںمشہورہیں بلکہ عوامی حلقوں میںبھی کافی مقبول ہیں۔ صلوہرجگہ اور ہرمقام پراپنے ہونے کااحساس دلاتے ہیں اورہر طرح کے حالات کاسامناکرنے کیلئے تیارہتے ہیں۔

وہ ایک زندہ دل اورگرم جوش انسان ہیں۔ ان کے ہونٹوںپرہمیشہ ایک شرارت بھری مسکان کھیلتی رہتی ہے۔ وہ ایک بڑی شخصیت کے مالک ہیں۔ شخصیت ایک مگراس میںچہرے انیک ہیں۔ مختلف لوگ ان کومختلف حیثیت سے جانتے ہیں۔ وہ یاروں کے یارہیں لیکن ناپسنداورمغرور قسم کے لوگوںسے الگ تھلگ اوردوررہناپسندکرتے ہیں۔

کچھ لوگ ان کوکارریس کے مقابلوں میںاول درجے کاکھلاڑی سمجھتے ہیں جنہوں نے محض 69 دنوں میں نہایت تیزرفتاری سے کارکے ذریعے دنیاکے۶ براعظموں کادورہ مکمل کرکے عالمی ریکارڈقائم کیا۔ اس طرح وہ گنیزبک آف ورلڈریکارڈمیںگاڑی کے ذریعہ دنیاکاسفر کرنے والے اول ترین اورتیز ترین شخص ہیں۔

کچھ لوگ ان کوقدیم اورنادرگاڑیوںکے شوقین کی حیثیت سے بھی جانتے ہیں۔ ان کے کالج کے دوست انہیںاس’’مقامی دادا‘کی حیثیت سے یادکرتے ہیںجواپنے اثرسے اپناکام نکلوالیتے تھے ۔بہت زیادہ انکساری اورشائستگی کے باوجودان کی شخصیت میںکبھی کبھی غصے سے بھراایک انسان کی جھلک بھی دکھائی دیتی ہے۔

صلوکوہمیشہ سے اردوشاعری کاشوق بلکہ جنون رہاہے۔ ان کے ذہن کے خزانے میںہرموقع اورہرصورت حال کیلئے مناسب اشعارہزاروںکی تعدادمیں موجودہیں جنہیں وہ اپنے مخصوص اندازمیں نہایت ذوق وشوق سے سناتے ہیں۔ زندگی کے تئیں ان کارویہ فلسفیانہ ہے اورشایدیہی سبب ہے کہ وہ زندگی کی نیرنگیوں کوشاعری کے فلسفے کے ذریعہ دیکھتے اورمحسوس کرتے ہیں۔ وہ ایک سچے مسلمان، پکے قوم پرست اورواقعی سیکولرانسان ہیں۔ انہیںہمارے گھرمیں ہونے والی پوجائوں میں شرکت کرنے میںکبھی اعتراض نہیں ہوتااوروہ تمام تہوارشوق سے مناتے ہیں۔صلونے قرآن کریم کابہت گہرامطالعہ کیاہے اورانہیں اس عظیم صفحے میںپوشیدہ فلسفے کے صحیح معنی کی آگہی ہوئی ہے۔ وہ ان کٹھ ملائو اوردینِ اسلام کے خودساختہ ٹھیکیداروںسے سخت بیزارنظرآتے ہیںجوقرآ ن کے پیغامات کوتوڑمروڑکرپیش کرتے ہیں۔

صلوچودھری نے مذہب اسلام کے علاوہ دنیاکے دوسرے مذہبوںکابھی مطالعہ کاہے۔ گزشتہ دس برسوں سے وہ بھگوت گیتاکے مطالعے میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ مفہوم کی گہرائی تک پہنچنے کیلئے انہوں نے سنسکرت کے عالم کی بھی مددلی ہے۔ گیتاکے آفاقی پیغاموںکوسمجھنے کی کوشش کی ہے۔ انہیںقرآن کریم اورگیتادونوںصحیفوںمیں بہت سی باتیں ایک جیسی نظرآئی ہیں۔ مثلاًانہیں یہ معلوم ہواکہ دنیاکاایک ہی حقیقی معبودہے جسے ہندوایشورکہتے ہیں اورمسلمان اللہ۔

بھگوت گیتانے ان کے دل ودماغ کواس قدرمتاثرکیاکہ انہوں نے مسلسل دماغ سوزی اور بہت مشقتوں کے بعداس کتاب کے مکمل 18ابواب کے ہرشعرکاعام فہم اوربول چال کی ہندوستانی زبان میںترجمہ کیااور و ہ بھی شعرہی کے روپ میں۔ ہمیںامیدہے کہ بھگوت گیتاکایہ ترجمہ ملک وبیرون ملک میںرہنے والے ان لاکھوںلوگوںتک گیتاکے پیغامات پہنچانے کاایک ذریعہ بنے گاجوسنسکرت اورانگریزی سے واقف نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ صلونے ہندوئوں اورمسلمانوںکے درمیان کی دوری کوکم کرنے کی ایک اہم کوشش کی ہے۔ کامیابی کی بلندیوںپرپہنچنے کے باوجودصلومیں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ وہ آج بھی وہی پرانے صلوہیں۔ نہ کچھ زیادہ نہ کچھ کم۔ بشری کمزوریوںاورکردارکی تمام خوبیوںسے پرایک مکمل انسان گزشتہ40برسوں سے میںانہیں ایک قریبی دوست کی حیثیت سے جانتاہوں۔میرے ساتھ ان کے گہرے رشتے میں تھوڑی ناراضگی بھی پائی جاتی ہے اورتھوڑی بیزاری بھی۔میںنے منہ پرسچ کہہ دینے والاایک انسان کی حیثیت سے ان کی تعریف کی توسماج کے ایک طبقہ کومیری فکرونظرپرشبہ ہونے لگا۔میںنے جب ان کی تاریخ سازکامیابیوںکاجشن منایاتوان کامیابیوں کوہی شک کی نگاہ سے دیکھاگیا۔ لیکن مجھے ان باتوںسے کوئی فرق نہیں پڑا۔ میرے لئے اہم بات یہ ہے کہ میں صلوکواسی رنگ میں دیکھتاہوں جیسے وہ حقیقی زندگی میں ہیں۔ ہم دونوںکے رشتے کی مضبوطی میرے دل میںان کیلئے موجودمحبت اوراحترام کاآئینہ ہے۔ صلواپنی شرائط پرزندگی بسرکرتے ہیں اوراسی لئے ان کی زندگی ان کیلئے اتنی معنیٰ خیزہے اورمیرے لئے اتنی پرکشش۔

 سریش نیوٹیا


اپنی بات

آج سے تقریباًپانچ ہزارسال قبل کروکشترکی سرزمین پرحق وباطل کے درمیان جومعرکہ آرائی ہوئی اس کاہرلمحہ تاریخ کے صفحات پر مثبت ہے۔کروکشترکی جنگ جس کابیان مہابھارت میں ہے، کوروئوںاورپانڈوئوںکے درمیان ایک ایسی جنگ تھی جس کوکوروئوں کے لشکرکی طرف سے بڑے بڑے سورما ہتھیاروں سے لیس ہوکر میدانِ جنگ میںاترے تھے، ان میں پتاما بھیشم ،کرپااچاریہ اور دردناچاریہ جیسے بڑے بڑے دانشوربھی تھے۔ ان کی سب سے بڑی طاقت یہ تھی کہ عنانِ حکومت ان کے قبضے میں تھا۔ جبکہ پانڈوئوں کے لشکرمیں بذاتِ خودشری کرشن تھے۔ جن کی عظیم الشان طاقت کے سامنے بڑے بڑے سورمائوں کاغرورچکنا چورہوکررہ گیا۔ آخرمیںحق کی باطل پرفتح ہوئی۔

مہابھارت کی جنگ ایسے راجائوں کے درمیان ہوئی جوایک ہی دادا کی اولاد تھے، جن کا نام کوروتھا۔ اس جنگ عظیم میںسوکے سوکورومارے گئے۔ پانچ بھائی پانڈوئوں کوچھوڑکران کے تمام رشتہ داربھی لقمۂ اجل بن گئے۔ آخرمیںراجہ دھرت راشٹرساراراج پاٹ پانڈوئوںکوسونپ کر سنیاسی بن گئے اوراپنی اہلیہ گندھاری کے ساتھ جنگل کاراستہ لیا۔ راجہ دھرت راشٹرکے ساتھ پانڈئوں کی ماں کنتی بھی سنیاسنی بن کرچل پڑی۔ کچھ دنوںکے بعدیہ سب جنگل میں جل کرموت کے گھاٹ اترگئے۔

36برس کے بعد پانڈوئوں کوجب شری کرشن کا انتقال کی خبرملی توانہیں بیحد دکھ ہوا۔ پانڈوئوں نے ساراراج پاٹ چھوڑدیا اور اپنی اہلیہ درپدی کے ہمراہ سورگ کی چاہت میں ہمالیہ کی طرف چل پڑے۔ اس سفرمیں ان کاوفادارکتابھی ساتھ تھا۔ دورانِ سفریکے بعددیگرے راستے میںسب کے سب موت کی آغوش میں چلے گئے۔صرف یدھسٹراپنے کتے کے ساتھ اندربھگوان کے سورگ کے دروازے تک باریاب ہوئے۔ اندرنے جب انہیں سورگ میںداخل ہونے کوکہاتوانہوں نے یہ کہہ کرانکارکردیا کہ جب تک ان کے سبھی بھائیوںاور اہلیہ ساتھ نہیں ہوںگے سورگ میں تنہا نہیں جائیںگے۔ یدھسٹرکی یہ التجادیوراج اندر نے قبول کرلی لیکن ان کے ساتھ سورگ میں کتے کوجانے کی اجازت نہیں دی۔ ان حالات میں یدھسٹرسورگ میں جانے کوراضی نہیں ہوئے اورسورگ کی ایک جھلک دیکھنے کے بعد نرک میںچلے گئے۔

نرک میں پہنچ کریدھسٹرنے اپنے سارے لوگوں کوپایا۔ اگرچہ نرک میں انہیں بڑی اذیتیں اٹھانی پڑیں لیکن اکیلے سورگ کاعیش وآرام انہیں پسند نہیں تھا۔ اُن کا ارادہ تھا کہ وہ اپنے لوگوں کے ساتھ رہیں تاکہ ان کی روح کوشانتی ملے۔ اس آزمائش میں کامیاب ہونے کے بعدد یوراج اندر نے انہیں ان کے تمام لوگوں کے ساتھ سورگ میں بھیج دیا۔

کروکشترکی جنگ تاریخ کاایک ایسا واقعہ ہے جس کی دوسری مثال نہیں۔اس لافانی داستان کابیان مہابھارت میںموجودہے۔ اس جنگ میں شری کرشن کے اپدیش جوانہوں نے ارجن کودیئے تھے وہی بھگوت گیتاکااُصول وفلسفہ ہے۔ شری کرشن نے اپنی تمام صفات کے ساتھ مہابھارت کی جنگ میں ارجن کے استادبن کراسے عقل وشعورکی ایسی تعلیم دی جوبھگوت گیتامیں محفوظ رہ کرانسان کوراہِ حق دکھاتی ہے۔

ہندودھرم کے پیروکارشری کرشن کوایشورکااوتارمانتے ہیں اوران کی پرستش کرتے ہیں۔دیگرمذاہب کے لوگ بھی انہیں ایشورکادوت مانتے ہیں۔ شری کرشن نے انسانوںکویہ تعلیم دی کہ ایشورایک ہے، اسی کی پوجاکی جائے جونراکارہے اورسارے جہان کاپالن ہارہے۔ اگراس اعتبارسے دیکھاجائے تویہ بات بالکل صحیح لگتی ہے کہ شری کرشن ایشور کے دوت تھے کیونکہ مسلمانوںکایہ عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہرزمانے میں اپنے پیغمبربھیجے ہیں جن کاپیغام دنیاوالوںکوتعلیم دیناہے اورانسانوںکوصراط مستقیم دکھلاناہے اورپھریہ کیسے ہوسکتاہے کہ ہندوستان کی سرزمین پر کوئی پیغمبرنہیںآیاہوگا۔,

آج بھی پوری نیامیںمہابھارت کی طرح جنگ کاسلسلہ جاری ہے۔ بڑی طاقتیںکمزورطاقتوں کودنیامیں جینے کاحق نہیںدیناچاہتیں،انہیں مٹادیناچاہتی ہیں، ہرطرف تشدد ک ا بازارگرم ہے، امن وآشتی کمزورپڑرہی ہے۔ کب کہاںکس وقت کیاہوجائے کچھ کہانہیںجاسکتا۔ خوف وہراس نے انسانوںکوجکڑرکھاہے۔ اس سے نجات پانے کی اگرکوئی صورت ہے توبس یہی ہے کہ انسان ایشورکے بتائے ہوئے راستے پرچلے اور اپنی من مانی سے بچے ۔حرص وطمع اورتکبروغرورکواپنے دل میںجگہ نہ دے اورکوئی کسی کے دھرم اورمذہب کوحقیرنہ جانے کیونکہ سارے مذاہب اسی ایک ایشورکی تعلیم دیتے ہیں جوسارے جہاں کامالک ہے جونراکاراورامرہے۔

گیتاکاترجمہ سب سے پہلے فیضی نے زبانِ فارسی میںکیا۔اگرچہ فیضی نے اس کاترجمہ من وعن نہیںکیاجیساکہ اشلوکوںمیںہے بلکہ اس نے ہراشلوک کے مفہوم کوچارچارکرکے بیان کیا۔گیتاکاترجمہ عہداکبرسے لے کراب تک جاری ہے۔ بادشاہ شاہجہاں کے بیٹے داراشکوہ نے اپنے گروکے حکم کی تعمیل میںسنسکرت کی تعلیم حاصل کی اوراپنشدوںکاترجمہ فارسی میں کیا۔ داراشکوہ کامقصدہندواورمسلمانوںکے درمیان بھائی چارگی اورمیل جول بنائے رکھناتھا۔اردومیں گیتا کا ترجمہ سب سے پہلے سترہویںصدی میں عبدالمتین نام کے ایک آدمی نے کیاتھا۔ یہ اردوکاپہلاترجمہ تھا۔ اس کے بعد وقتاًفوقتاً بہت سارے مسلمانوں نے گیتا ک اترجمہ اردومیں کیا۔ خواجہ دل محمد جنہوں نے 1920ء میںاس کاترجمہ اردومیںکیاتھا۔ اس کے بعدقابل ذکرڈاکٹرخلیفہ عبدالحکیم نے کیا۔ اس کانثری ترجمہ محمداجمل خان صاحب نے کیاجوالہ آبادسے1932ء میں شائع ہوا۔ ان کے علاوہ حسن الدین احمد نے بھی نثرمیں ترجمہ کیا۔ انگریزجب ہندوستان آئے تواپنی حکومت کومضبوط کرنے کیلئے ہندودھرم کی تعلیم کوسمجھنا چاہا اور گیتا کاترجمہ پلاسی کی جنگ کے بعد1875ء میںچالیس ولکنس (Charles Wilkns) سے انگریزی میں کروایا۔

بہرحال لوگوں کوان باتوں سے متعارف کرانابھی ضروری ہے اورصداقت بھی ہے۔ یہ تمام ترجمے فارسی، عربی اور اردوزبان میںہے جس کوسمجھنے کیلئے ہرقاری کومتعلقہ زبانوں کی ڈکشنری کی ضرورت پڑتی ہے۔ ان دونوں کتابوںکومیں نے اپنے دوست سریش نیوٹیا جومیرے بڑے بھائی جیسے ہیں کوپڑھ کرسنایا۔ خواجہ دل محمد اوراجمل خان صاحب کی کتابیں کہنے کوتواردومیں تھیں مگران میں95 فیصد فارسی، عربی اورقدیم اردوکے الفاظ کابہت زیادہ استعمال کیاگیاتھا۔ جبکہ ان میں آسان ہندی اوراردوکے الفاظ  5 فیصد سے بھی کم تھے۔ اس وجہ سے سریش بھیا کی سمجھ میں نہیں آیا۔ حالانکہ وہ اردوشاعری اچھی طرح سمجھ لیتے ہیں۔ انہوں نے مجھ سے کہاکہ ان کتابوں کوایسی زبان میںلکھوجسے عام آدمی آسانی سے سمجھ پائے ۔مزید انہوں نے یہ بھی کہاکہ آج سے تقریباً دس ہزارسال پہلے والمیکی کے ذریعہ سنسکرت میں لکھا گیا رامائن پڑھ کرلوگ اچھی طرح سمجھ نہیں پاتے تھے لیکن جب تلسی داس نے اس کوسہل ہندی (اودھی) میں لکھاتولوگوں کی سمجھ میں آسانی سے آنے لگا۔ میں نے سریش بھیا کے حکم کی تعمیل میں اس طرف بھرپورتوجہ دی۔ ساتھ ہی ساتھ اس بات کابھی خیال رکھاکہ کم پڑھالکھاآدمی بھی آسانی سے سمجھ پائے اوربرسوں کی جانفشانی اور کوششوں کے بعداس مقصد میں کامیاب ہوالیکن اس کافیصلہ قارئین کریںگے کہ میں اس کام کہاںتک کامیاب ہوں۔

میں گزشتہ10برسوں سے مختلف زبانوں میں گیتا کا ترجمہ پڑھتا رہا۔ کچھ اشلوک توآسان نظرآئے اورکچھ اتنے مشکل کہ مشکل سے سمجھ نہ پائے۔ اس وجہ سے میں نے یہ طے کیاکہ اس کاترجمہ ایسی زبان میںکیاجائے تاکہ کم پڑھالکھاآدمی بھی آسانی سے سمجھ سکے۔ اس کوشش میں مجھے کہاں تک کامیابی ملی یہ تواس کے پڑھنے والے ہی بتائیںگے۔ میں اپنے قریبی دوست اوم پرکاش اگروال (سراج دہلوی) جواردواورہندی کے بہت اچھے شاعرہیں اورجن کے 19شعری مجموعے اردواور ہندی میں شائع ہوکر دادِ تحسین وصول کرچکے ہیں، کا ممنون ہوںکہ انہوں نے میراحوصلہ بڑھایا۔

ہماراہندوستان مختلف اہل مذاہب کادیس ہے۔ آئے دن یہاں دھرم کے نام پر تشدد کوبڑھاوا دینے والے سیاست داں اپنی سیاست کوچمکاناچاہتے ہیںجبکہ کوئی بھی مذہب اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ دھرم کے نام پر انسانوںکاخون بہایاجائے۔ ہرمذہب امن وشانتی کی تعلیم دیتاہے۔ہردھرم کی مذہبی کتاب کے مطابق یہی معلوم ہوتاہے کہ زمین والوں پررحم کروآسمان والایقیناً تم پررحم کرے گامگراس کے باوجودبھی کچھ لوگ انسانوں کاخون بہاکرگناہ عظیم کے مرتکب ہورہے ہیں۔ آج وقت کی پکارہے کہ ہم لوگ ایک دوسرے کی مذہبی کتابوںکوپڑھیں اورسمجھیں جس سے ایک دوسرے کوسمجھنے میں مددملے۔ میری یہی آرزواورتمنا ہے۔ اس کتاب کی تکمیل میں جن لوگوں نے تعاون کیامیں ان کا شکریہ اداکرتا ہوں۔





You are Visitor Number : 5519