donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Shabbar Imam
Writer
--: Biography of Shabbar Imam :--

 

 شبّر امام 
 
 
سید شبّر امام رضوی( قلمی نام: شبّر امام) ولد سید فضل امام رضوی بقول خود یکم جنوری 1939 ء کو علی نگر پالی ( موجودہ ضلع جہان آباد)میں پیدا ہئے۔ والدہ کا نام کنیزہ کبریٰ بیگم اور اہلیہ کا حسینی بیگم عرف لاڈلی ہے۔ سلسلہ نسب امام رضا سے ملتا ہے۔ مورث اعلیٰ حیدر مشہدی اور ان کے بیٹے جلال مشہدی کے مزارات اب بھی مرکز فیوض و برکات ہیں۔ علی نگر پالی میں انہیں کے خانوادوں کی شادیاں ہوئیں۔ یہ بستی علمی و ادبی اعتبار سے علامہ سید عدیل اختر اور عطاء اللہ پالوی کے سبب مشہور رہی ہے۔ سر سلطان احمد کا آبائی وطن بھی یہی ہے۔ شبّر امام نے اس بستی کے عروج کا آخری دور اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اس کے زوال کا درد اپنے دل کی گہرائیوں سے محسوس کیا ہے۔ ان کی تحریروںمیں بھی ان کے تجربات نمایاں ہیں۔
 
 شبّر امام کی زندگی کا ابتدائی دورحصول تعلیم کے ساتھ ساتھ کاشتکاری کے انتظامات اور فلاحی و سماجی کاموں کے علاوہ مقدمات کی پیروی میں گذرا۔ آئی اے تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد عظیم آباد کو اپنا وطن ثانی بنا کر انہوں نے یہاں بھی قو م و ملت کی فلاح اور قومی یک جہتی کے استحکام کے لئے مختلف طرح کے پروگرام شروع کئے۔ اس سلسلے میں ان کی قائم کردہ انجمن ’’ حسینی سماج‘‘ کا تذکرہ ضروری ہے۔ اس پلیٹ فارم سے انہوں نے پورے صوبے کا دورہ کیا اور نوجوانوں میں بیداری کی ایک عام لہر پیدا کردی ہے۔ کاندھے پہ ایک تھیلا لٹکائے اس میں طرح طرح کے اشتہار، پوسٹر، مسودے اور دیگر کاغذات بھرے، انہیں دیوانہ وار سیاسی و سماجی جلسوں میں چکر کاٹتے دیکھ کر میں بھی ایک زمانے میں وہی سوچا کرتا تھا جو خورشید کاکوی نے لکھا ہے (کتاب: عطاء اللہ پالوی نقیب فکر آگہی حصہ اول) یعنی یہ آدمی ہیں یا جنّات ، کھاتے پیتے اور سوتے کب ہیں؟ بہر حال شبر امام جب تک پٹنہ میں رہے سماجی و ادبی حیثیتوں سے بے حد فعال رہے۔ مختلف رسائل و اخبارات میں مضامین لکھے۔ ادبی و سماجی جلسے کئے اور عظیم آباد کی تاریخ کھنگالی اور جب اپنی بچی کی شادی کرنے کے بعد دہلی اپنے بیٹے صفدر امام کے پاس چلے گئے تب بھی پٹنہ اور پالی سے ان کا رشتہ استوار رہا ۔ ان کے دہلی جانے کا ایک خوش آئند پہلو یہ سامنے آیا کہ بہت سارے ادبی اصنام نا تراشیدہ ان کے دل و دماغ میں پرورش پانے والی الجھنوں کے حصار سے باہر نکل کر علم و ادب کی دنیا میں جلوہ گر ہو گئے۔ مجھے یاد ہے کہ استاد محترم نا صر زیدی انہیں برابر سیاست ترک کرکے ادب سے رشتہ جوڑنے کا مشورہ دیا کرتے تھے۔ میں سمجھتا ہوں کہ سیاست اب شبّر امام کے لئے موزوں بھی نہیں رہی۔ اس لئے اپنی یادوں کے آئینہ خانے سے نکال کر جوسرمایہ وہ اردو زبان و ادب کو دے رہے ہیں وہ قابل تعریف ہے۔شگفتگی ، خلوص اور راست گوئی ان کی نثر نگاری کے وہ اوصاف ہیں جن کی فی زمانہ بڑی کمی ہے۔ پروفیسر علیم اللہ حالی نے درست لکھا ہے کہ تاریخی غلطی خواہ بڑے سے بڑے شخص نے کی ہو ، وہ کسی صورت میں بخشنے کو تیار نہیں ہیں۔ یہ جرأت اظہار بہت کم لوگوں کو نصیب ہے۔
 
میں’’ اپنی جڑوں کی تلاش ‘‘ کو شبّر امام کا اہم کارنامہ تصور کرتا ہوں چوں کہ پالی ان کی تخلیقات کی عقبی زمین میں کہیں نہ کہیں موجود ہے۔ البتہ اس بات سے قدرنالاں ہوں کہ وہ اپنی تخلیقی صلاحیتیں کسی ایک سمت میں کیوں نہیں لگاتے۔ مگر شاید یہی بکھرائو ان کی انفرادیت ہے۔ ان کی متنوع تخلیقی کاوشوں کا ثبوت ان کی تصنیفات کی درج ذیل فہرست ہے۔
 
مذہبیات: مآل تفکر، انوار بصیرت، حقاکہ بنائے لا الہ ، روش
 ادبیات: شاہین( ناول) ، جب گائوں جاگے( ناول) تلاش( افسانوی مجموعہ) تلخیاں ( انشائیے)
 کشکول( مضامین ، شاخ زریں ( سوانحی خاکے) شخصیت اور کردار ( سوانحی خاکے) 
یاد رفتہ ( سوانح) میری بستی میرے لوگ( تاریخ علی نگر پالی) ذکر رفتگاں( تاریخ حسین آباد)
نقیب فکر و آگہی، عطاء اللہ پالوی ( حصہ اول تا سوم) تاریخ و تنقید۔
 شبّر امام کو ان کی مختلف ادبی خدمات کے لئے بہار اردو اکادمی اور آل انڈیا میراکادمی لکھنو سے انعامات مل چکے ہیں۔ ادب کے میدان میں ان کی سرگرمیاں ’’ دیر آید درست آید‘‘ کی مثال ہیں۔ ان کے فکر و اسلوب پہ معروف ادیب عطاء اللہ پالوی کے اثرات دیکھے جا سکتے ہیں۔
 
(بشکریہ: بہار کی بہار عظیم آباد بیسویں صدی میں ،تحریر :اعجاز علی ارشد،ناشر: خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری، پٹنہ)
 
*************************************
 
You are Visitor Number : 1668