donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Shad Azeemabadi
Poet
--: Biography of Shad Azeemabadi :--

 

Shad is counted among the illustrious poets of the ghazal who have made a notable contribution to the growth and enrichment of this poetic form. He liberated the ghazal from the superficial elegance produced by the linguistic acrobatics of the Lucknow school, and infused into it a spirit of genuine passion and poetry. He was a friend and contemporary of such eminent writers and reformers as Sir Sayyed Ahmed Khan, Shibli, Hali, Akbar, Iqbal, Amir Meenai, Dagh and Hasrat Mohani, all of whom recognise his worth as man and poet.
Shad was born in 1846 at Azimabad (Patna) in the house of his maternal grandparents. He belonged to a rich and respectable family, but because of his carefree, unworldly nature, he paid little attention to preserving, much less multiplying, his material assets. Consequently, in old age he had to pass through a period of economic difficulty.
Shad was a whole-time poet, with an inborn gift for poetry. Early in his boyhood he had acquired a thorough grounding in Urdu, Persian and Arabic, which he had learnt from famous local teachers and scholars. He received poetic instruction from a number of masters, including, finally, Shah Ulfat Hussain Faryaad, who may be called his poetic preceptor. Shad was a versatile poet whose poetic output included, in addition to ghazals, rubaies, masnavis, qasidas and marsias, as also prose stories. His poetic works have been published in five volumes. In spite of this, Shad felt deeply dissatisfied with the sort of response given to his poetry. In a number of verses he advises his son not to adopt poetry as his exclusive vocation. This kind of discontent is perhaps the lot of all senitive men of letters. Nevertheless, Shad is now given due recognition, and his ghazals are included in the syllabi of schools and colleges. A eIectiOfl of his rubaies also finds a place of pride in the present uthor'S book: Masterpieces of Urdu Rubaiyat, (Sterling Publishers, Delhi).
Shad's poetry makes an appeal both to the connoisseur and commoner. This is because he gives us deep thoughts in natural language. Though he generally deals with the traditional and universal themes of love and mysticism1 these temes are charged with deep philosophical insights, conveyed - meaningful metaphors.

Shad died in 1927 at the age of eighty-one.

 شاد عظیم آبادی حالات زندگی 

نام سید علی محمد، تخلص شادؔ ۔ والد کا نام سید اظہار حسین عرف عباس مرزا۔
 والدہ کا نام عارفہ بیگم بنت مہدی علی خاں۔ تاریخ پیدائش:۹ ۱ محرم الحرام ۱۲۶۲ھ مطابق ۸ جنوری ۱۹۴۶ء ولادت محلہ پورب دروازہ عظیم آباد اپنے نانیہالی مکان میں ہوئی۔ تاریخ وفات: ۲۰ رجب ۱۳۴۵ھ مطابق ۷ جنوری ۱۹۲۷ء گیارہ بجے شب۔ جائے مدفن ، ذاتی مکان شاد منزل ہے۔
 
 شاد نے ابتدائی تعلیم سید رمضان علی ، میر فرحت حسین اور شیخ بر کت اللہ سے حاصل کی۔ فارسی شیخ آغا خان اور محمد رضا شیرازی سے پڑھی۔ عربی سید علی اعظم سید مہدی شاہ کشمیری ، حکیم گلزار علی، شیخ محمد علی لکھنوی سے پڑھی ۔ ابتداء میں اپنی غزلوں پر اصلاح میر تصدق حسین خمی اور ناظر و زیر اعلیٰ عبرتی سے لی اور ادبیات و فنون شاعری کی کتابیں انہیں دونوں سے پڑھیں لیکن فن شاعی کی تکمیل اپنے استاد سید شاہ افت حسین فریاد سے کی۔
یہ کہنا ہے کہ شادؔ کی شعر گوئی کا آغاز کب اور کیسے ہوا ۔ یہ ضرور ہے۔ کہ انہیں بچپن سے شعرو شاعری کا شوق تھا۔ بعض بزرگوں نے اردو فارسی شعر یاد کرادئیے تھے۔ کم عمری میں اپنی تلنگی پر یہ شعر کہے تھے۔ 
 
جو کوئی اس تلنگی کو لوٹے
سنگ آفت سے اس کا سرٹوٹے
بے سبب اس کے گھر لڑائی ہو
اس کی جور و بھی بے سبب چھوٹے
 
 شادؔ پست قد تھے۔ بقول قیس وہ میانہ قد تھے۔ بقول ارشاد قد تقریباً پانچ فٹ دو انچ تھا۔ بقول شادؔ ان کا قد، چار فٹ اور کئی انچ تھا ۔ رنگ گندمی ، لاغر اندام، کتابی چہرہ، پیشانی ہموا ر و مسطح لیکن بائیں طرف ہلکی سی بالیدگی تھی۔ یہ شادؔ کا حلیہ ۔ عنفوان شباب سے پیرانہ سالی تک خفیف سی داڑھی رکھتے تھے مگر آخر عمر میں نہایت مختصر کردی تھی۔ دور سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ منڈی ہوء ہے۔ زمانہ کے رواج کے مطابق زلفیں رکھتے تھے۔ مگر آخر عمر میں سر کے بال بھی باریک رکھتے تھے۔ 
 
گھر کا لباس۔تنگ مہری کا پائجامہ ، نیم آستین ، ململ کا کرتہ ، چو گوشیہ ٹوپی اور سلیپر ۔ باہر جانے کے وقت شیروانی اور عباس، ایرانی ٹوپی اور انگریزی جوتا پہنتے تھے۔ سگریٹ پان وغیرہ کبھی نہیں استعمال کیا۔ حقے کا دور چلتا تھا۔ اور سادی چائے پیتا تھے۔ 
 
پہلی شادی ۱۸۶۲ء میں مسماۃ کلثوم فاطمہ بنت میر آغا عرف  میر سنگی جان سے ہوئی۔ جن کے بطن سے صرف ایک ہی صاحبزادے سید حسین خاں ۱۸۸۰ء میںپیدا ہوئے اور اسی کلثوم فاطمہ نے مرض استسقائل میں رحلت کی۔ دوسری شادی زہرا بیگم خواہر احمد میر نواب سے ۱۸۸۶ء میں ہوئی۔ ان سے صرف ایک لڑکی آمنہ پیدا ہوئی جس کی شادی سید جعفر وکیل سے ہوئی ۔
 
کئی مرتبہ شادؔ کو پٹنہ سے باہر جانے کا اتفاق ہوا۔ وہ کلکتہ، مرشد آباد، دار جلنگ ، بھاگلپور، مظفر پور، بنارس، لکھنو، دہلی، پانی پت، اور علی گڑھ ، جونپور اور کانپور وغیرہ کا سفر کیا۔
 
ان کا معمول تھاکہ وہ تین بجے را ت ہوتے تھے او رحوائج ضروری او اردو وظائف  سے حصول فراغت کے بعد  اول وقت نماز صبح ادا کرکے ساری چاہئے پیتے اور ساتھ ہی بہت تھوڑا سا ناشتہ کرتے تھے۔ اور تصنیف میں مشغول ہو جاتے تھے اور بارہ بجے دن تک یک لخت لکھا کرتے تھے۔ اس کے بعد ایک چھٹانک چانول یا آٹے کی نان پائو شور بے سے کھا لیتے تھے۔ اس کے بعد ایک چھٹانگ چانول یا آٹے کی نان پائو شوربے سے کھا لیتے تھے۔ پھر دو گھنٹے تک سوتے تھے۔ بیدار ہونے کے بعد امراض کی تکالیف سے شام تک کوئی کام کرنے کی صلاحیت نہیں رہی تھی۔ شام کے بعد اگر آنکھوں نے یاوری کی تو  دوتین گھنٹے لکھنے یا مطالعہ کتب میں صرف کرتے تھے ۔ بارہ بجے شب کو سوتے تھے۔
 
صحت کی خرابی کے علاوہ خانگی معاملات اور معاشی تنگ دستی نے بھی شادؔ کو ستایا۔ ان کا خاندان خوشحال تھا اور انہیں اپنی ذاتی ملکیت کے علاوہ اپنی بیوی کے ترکے سے تقریباً بارہ ہزار روپے سالانہ کی جائداد مل گئی تھی ۔ اس کے باوجود آخر عمر میں معاشی تنگ دستی نے شاد کو بہت پریشان حال رکھا۔ آخر عمر میں حکومت نے پہلے چھ سو روپیہ سالانہ کا وظیفہ مقرر کر دیا تھا جو بعد میں ایک ہزار روپیہ سالانہ ہو گیا لیکن باوجود اس کے شادؔ کی عمر کا آخری عصہ عسرت میں گذرا۔
 
۱۸۹۱ء میں انہیں ’’ خان بہادر‘‘ کا خطاب عطا ہوا۔ پھر وہ بتیس برس تک آنریری مجسٹریٹ رہے اور چودہ برس تک حکومت کے نامزد کردہ میونسپل کمشنر بھی رہے۔ شاد کے عقائد کیا تھے یہ انہیں کی زبانی سنیئے۔
 ’’سید صاحب کا دادھیالی خاندان شیعہ مذہب اور نانیہال میں شیعہ و سنی دونوں ہیں۔ پانی پت میں آپ کے عزیز قریب نواب نظیر احمد خاں صاحب وغیرہ سب اہل سنت و الجماعت ہیں۔سید صاحب شیعہ مذہب رکھتے ہیں مگر ان کے برتائو او حسن معاشرت بجز نماز کے ہاتھ کھول کر پڑھتے ہیں۔ ہرگز پتہ نہیں لگ سکتا ۔ وہ موجودہ مذاہب سے پوری طرح واقف ہیں۔ ہر مذہب کے مختلف مسائل کی کتابیں مکرر دیکھ چکے ہیں۔
 
ارشاد صاحب نے لکھا ہے کہ شاد ؔ نے چھوٹی بڑی نظم و نثر کی تقریباً ساٹھ کتابیں چھوڑیں۔ ان کی تفصیل یاد گار شاد، کلام اور شرح کلام اور اردو غز ل اور شاد عظیم آبادی کا فن میں درج ہے۔ ان کی شعری تصانیف میں انتخاب کلام شاد مرتبہ حسرت موہانی مطبوعہ۱۹۰۹ء (۲)ریاض عمر مطبوعہ ۱۹۱۴ء (۳) کلام شادؔ مرتبہ قاضی عبد الودود مطبوعہ ۱۹۲۲ء (۴) میخانہ الہام مرتبہ حمید عظیم آبادی مطبوعہ ۱۹۳۸(۵) بادہ عرفاں مرتبہ علی خاں صبا ؔ مطبوعہ ۱۹۶۱ء (۶) زبور عرفاں مرتبہ نقی احمد اشاد (مطبوعہ ۱۹۶۳ئ) لمعات شاد( مرتبہ فاطمہ بیگم مطبوعہ ۱۹۶۴ئ) (۸) شاد عظیم آبادی کلام وار شرح کلام مرتبہ سید نقی احمد ارشاد (۱۹۶۷ئ) یہ سب غزلیات کے مجموعے ہیں۔ان کے علاوہ شادؔ نے قطعات بھی لکھے، نظمیں بھی لکھیں ، مولود و مراثی بھی لکھے۔ 
 
تصانیف کی طرح شاد کے تلامذہ کی بھی لمبی فہرست ہے۔ ’’ گلشن حیات ‘‘ میں ۵۲ تلامذہ کا ذکر ہے جن میں کئی صاحب دیوان تھے۔ ان تلامذہ میںشیخ علی باقر، سید امیر حسن خاں،سید عنایت حسین ، سید فضـل علی خاں ، سید کاظم حسین، بھوانی پرساد ،محمد مرزا ، محمد ابو الحیات، اظہر امام، سید علی خاںو غیرہ شامل ہیں
 
کلیات شادؔکے ماخذ: شادؔ نے جنوری ۱۹۲۷ء میں ۸۱ سال کی عمر میں انتقال کیا۔ انہوں نے طویل عمر پائی اور ان کے انتقال کو ۸۴ سال ہو گئے لیکن تعجب اور افسوس کی بات ہے کہ ان کا کلیات ابھی تک شائع نہیں ہو سکا۔ کلام شاد، میخانہ الہام، کلام اور شرح کلام ، بادہ عرفا، زبور عرفاں، لمعات شاد  یعی چھ مجموعے ان کی غزلوں کے شائع ہوئے جن میں سے صرف پہلا مجموعہ کلام شاد ؔان کی زندگی میں شائع ہوا۔ پانچ مجموعے ان کے انتقال کے بعد طبع ہوئے۔
 

 

 
You are Visitor Number : 2278