donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Shafi Ahmad Fatmi
Poet
--: Biography of Shafi Ahmad Fatmi :--

 

 شفیع احمد فاطمی 
 
 
شفیع احمدنام اور فاطمی تخلص ہے۔ آبا و اجداد نواب حسن آباد کے امین تھے۔ والد کا نام محمد یسین ہے۔ فاطمی یکم جنوری ۱۹۳۹ء کو محلہ باغ پا تو، پٹنہ سیٹی میں پیدا ہوئے۔ ۱۹۵۲ء میں محمڈن اینگلو عربک اسکول سے میٹرک پاس کیا۔ کچھ دنوں پٹنہ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد مگدھ یونیورسٹی سے بی اے ( آنرس ) کی سند حاصل کی۔ والد سرکاری ملازم بھی تھے اور چھوٹی ومٹی تجارت بھی کرتے تھے مگر انہوں نے سرکاری ملازمت کو ترجیح دی اور حکومت ہند کے محکمہ مردم شماری میں ملازمت کرنے کے بعد 1996 ء میں ریٹائر ہو گئے۔
 
فاطمی کی شعر گوئی کا آغاز ہائی اسکول کا امتحان پاس کرنے کے بعد ہوا۔ ابتداء میں علامہ جمیل مظہری کو چند غزلیں دکھائیں۔ بعد میں کچھ دنوں تک ہوشؔعظیم آبادی سے مشورہ سخن کیا۔ گذشتہ چالیس برسوں سے خود اپنے ذوق شاعری کی رہنمائی میں شعر کہہ رہے ہیں مگر دبستان عظیم آباد کے عام مزاج کے مطابق نام و نمود یا اشاعت کی زیادہ خواہش نہیں رکھتے۔ اس لئے کوئی مجموعہ کلام اب تک منظر عام پہ نہیں آیا ہے۔ ویسے ان کے شاگردوں کی ایک بڑی تعداد عظیم آباد اور گرد و نواح کے شہروں میں موجود ہ جن کے ادبی ذوق کی تربیت میں ہمہ دم مصروف رہتے ہیں۔ طرحی و غیر طرحی غزلوں کی تعداد تین سو سے زیادہ ہے۔ طرحی مشاعروں کے لئے عام طور سے طرحی غزلیں کہتے ہیں۔ جن کے چند اشعار کبھی کبھی شاگردوں کے حصے میں آتے ہیں۔ پٹنہ اور بیرون پٹنہ کے پچاسوں مشاعروں میں شرکت اور بعض میں صدارت کی ہے۔ سرمایہ سخن میں حمد، نظم اور قطعات و رعباعیات کی بھی بڑی تعداد موجود ہے۔ ایک زمانے میں ش۔ احمد فاطمی کے نام سے مزاحیہ کلام بھی کہتے رہے ہیں جو مختلف رسالوں خصوصاً مگدھ پنچ میں شائع شدہ ہے۔
 
 فاطمی کا شمار کہنہ مشق شاعروں میں ہو تا ہے وہ موضوعات کی سطح پر روایت سے زیادہ انحراف نہیں کرتے۔ مگر شاعری میں فنی رموز و نکات کی پابندی پر زور دیتے رہے ہیں۔ کم و بیش چالیس برس قبل کہی گئی ایک ابتدائی غزل کے چند اشعار درج ذیل ہیں۔
 
وہ ہمارے شوق کی ابتداء تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
 وہ تمہاری شرم کی انتہا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
 جو بہم خلوص کی ترجاں وہ لطیف شکوہ طرازیاں
وہ شکایتوں یں بھی اک مزا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
 بہ کمال در فغاں بنے تمہیں آپ کی جس کی زباں بنے
 وہ مری خموشی مدعا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
 جو اٹھی تو میری پیام پر، جو جھکی تو بس مرے نام پر
 وہ تمہاری سادگی حیا تمہیںیاد ہو کہ نہ یاد ہو
بصد آرزو شب ماہ میں ان لبوں کے گناہ میں
 وہ جو ایک کیفِ تمام تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
 دو اور غزلوں کے منتخب اشعار ملاحظہ ہوں۔
 دست فضا اتار دے طائر کے سرکار کا بوجھ
 ننھی سی جاں لئے ہے بڑا بال و پر کا بوجھ
 ہے ذہن و دل پہ خطرہ دیوار در کا بوجھ
 ہم پر گراں ہے آج ہمارے ہی گھر کا بوجھ
اہل ہنر سمیٹے ہوئے ہے ہنر کا بوجھ
 ڈھوتی ہے جیسے کوئی انگوٹھی گہر کا بوجھ
 پلکوں پہ اپنی خود ہی سمندر سنبھالئے
 لیتا  یہاں ہے کون کسی چشم تر کا بوجھ
اک دوسرے کی راہ کا پتھر بھی کیوں بنے
 بانٹے اگر بشر نہ یہاں پر بشر کا بوجھ
 منزل پکارتی ہے تو چل، خالی ہاتھ چل
 ناداں بڑھا سفر میں نہ زاد سفر کا بوجھ
تنہا روی کا ہم میں سلیقہ ہے فاطمی 
 ہم کس لئے اٹھائیں کسی راہبر کا بوجھ
 ٭٭٭
ہمارے شہر میں کتنے مکان بنے ٹوٹے
 کچھ ایسے بھی ہیں جن کے حوصلے ٹوٹے
 چمن میں سوکھ بھی جاتی ہے شاخ بے ٹوٹے
 وہ سمجھو ٹوٹ گئے جن کے حوصلے ٹوٹے
 ادا کو آپ کی وہ بھی دعائیں دیتے ہیں
 وہ آئینے جو  سنورنے میں آپ سے ٹوٹے
 رخ حیات کی معصومیت کے ضامن ہیں
 یہ اور بات ہے ہم لوگ ہیں مرے ٹوٹے
 کسی کی چشم محبت سے سینکڑوں تارے
 مرے پھٹے ہوئے دامن کے واسطے ٹوٹے
 لگی جو آگ مرے گھر پہ ایک میلا تھا
 کہاں کہاں سے تماشائی دیکھنے ٹوٹے
 ٭٭٭
نعت پاک کے چند اشعار دیکھئے۔
 زباں پر مصطفی کا نام اٹھتے بیٹھتے چلے
 انہیں کا ذکر صبح و شام اٹھتے بیٹھتے چلے
نرالا تھا عجب میخانہ توحید کا ساقی
 پلایا معرفت کا جام اٹھتے بیٹھتے چلے
 مرے آقا نے ایسے دشمنوں کو بھی دعائیں دیں
دیا کرتے تھے جو دشنام اٹھتے بیٹھتے چلے
کرم ہو آپ کا تو فاطمی کعبہ میں حاضر ہو
 پہن کر جامہ احرام اٹھتے بیٹھتے چلے
 
ان اشعار میں فنی پختگی ، اسلوب کی روانی اور ذہن کی کلا سیکی آراستگی کا بہ آسانی مشادہ کیا جا سکتا ہے۔ دشوار قوافی و ردیف کے باوجود لب و لہجے کی سلاست ، تشبیہات و استعارات کی فراوانی اور نفاست، الفاظ کے درد بست اور ایک خوشگوار Craftsman ship سے ان کی قادر الکلامی کا احساس ہوتا ہے۔
 
(بشکریہ: بہار کی بہار عظیم آباد بیسویں صدی میں ،تحریر :اعجاز علی ارشد،ناشر: خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری، پٹنہ)
 
*************************
 
You are Visitor Number : 1661