donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Shafi Javed
Writer
--: Biography of Shafi Javed :--

 

 شفیع جاوید 
 
سید شفیع الدین ابن سید محمد رفیع الدین تعلیمی سند کے مطابق ۴؍ جنوری ۱۹۳۵ء کو مظفر پور ( بہار) میں پیدا ہوئے جہاں ان کے والد محکمہ پولیس میں افسر کی حیثیت سے معمور تھے ۔ ویسے آبائی وطن گیا( محلہ معروف گنج) ہے۔ قلمی نام شفیع جاوید کی وجہ تسمہ یہ ہے کہ ان کے ایک قریبی رشتہ دار صغیر جاوید جو ان کے گہرے دوست تھے اور خاندان کے پہلے گریجویٹ ہونے جا رہے تھے، اچانک وفات پا گئے ۔ انہوں نے ہی شفیع کو ادب کی جانب موڑا تھا، اس لئے ان ی یاد کو تازہ رکھنے کے لئے موصوف نے ان کے نام کا ایک حصہ اپنے قلمی نام کا جزو بنا لیا۔ویسے شفیع جاوید کے بزرگوں میں علم و ادب کا چرچا ایک مدت سے تھا۔ شکیلہ اختر ان کے والد کی اپنی پھوپھی زاد بہن تھی اور اختر اورینوی پھوپھا تھے ۔ دادا امیر الدین گرچہ جو ڈیشیل سروس میں تھے لیکن امیر گیاوی کے نام سے شاعری کرتے تھے۔ دادا کے بھائی ضمیر الدین عرش گیاوی کا شمار بھی اپنے عہد کے مستند شاعروں میں ہوتا تھا اور شفیع جاوید پر اس علمی و ادبی ماحول کے اثرات یقینا مرتب ہوئے مگر خود ان کے والد شعر و ادب سے وابستگی کو پسند نہیں کرتے تھے اور انہوں نے اس اعتبار سے شفیع کی حوصلہ افزائی بھی نہیں کی۔ ملازمت کے سلسلہ میں ان کا برابر تبادلہ بھی ہوتا رہتا تھا ۔ اس لئے شفیع نے ابتدائی تعلیم مختلف بزرگوں کی رہنمائی میں حاصل کی اور میٹرک کا امتحان پرائیوٹ طالب علم کی حیثیت سے گیا ضلع اسکول سے ۱۹۵۰ء میں پاس کیا۔ اس کے بعد چند برسوں تک ایل ایس ، الج، مظفر پور میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد پٹنہ آگئے اور یہاں سے پٹنہ یونیورسٹی میں ۵۸۔۱۹۵۶ء کے سیشن میں داخلہ لیا مگر امتحان دینے سے قبل ہی ملازمت میں آگئے اور تعلیمی سلسلہ کچھ دنوں کے لئے منقطع ہو گیا۔بالآخر ۱۹۶۳ء میں ایم اے( سماجیات) کا امتحان پاس کیا اور مشہور ماہر سماجیات پروفیسر نرمدیشور پرساد سے بے حد قریب رہے۔ اسی دوران بہار پبلک سروس کمیشن کے امتحان میں کامیاب ہو کر ۱۹۵۹ء سے بہار سرکار کی ملازمت میں آگئے۔۱۹۷۱ء تک محکمہ ناپ تول میں نوکری کی پھر محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ میں ڈپٹی ڈائریکٹر ہو گئے۔ جہاں ترقی کرتے ہوئے ڈائریکٹرکے عہدہ سے ۳۱؍ جنوری کو سبکدوش ہوئے۔ چند برسوں تک گورنر بہار کے پریس سکریٹری اور ایک قلیل مدت کے لئے انڈین ریڈ کراس سوسائٹی بہار کے ایڈ منسٹریٹر بھی رہے۔ خاص طو رپر گورنر بہار ڈاکٹر اخلاق الرحمن قدوائی ان کی صلاحیتوں کے بے حد مداح تھے۔ مارچ ۱۹۵۵ء میں شادی ہوئی تھی جس سے دو بچے رعنا تبسم( بیٹی) اور طارق احمد ( بیٹا) ہیں۔ اہلیہ کا تقریباً دو برس پہلے انتقال ہو چکا ہے۔ فی الحال اپنے نو تعمیر شدہ ذاتی مکان واقع ہارون نگر ( پھلواری شریف ، پٹنہ) میں اپنے صاحبزادے کے ساتھ مقیم ہیں جو خود بھی آر پی ایف کے ایک اعلیٰ افسر ہیں۔ بے حد نفاست اور نظم و ضبط کی پابندی ان کے مزاج میں داخل ہے۔ اس کے باوجود دوستو ں اور ضرورت مندوں کی مدد سے کبھی پیچھے نہیں ہٹتے۔
 
شفیع جاوید کا پہلا افسانہ’’ آرٹ اور تمباکو‘‘ کو ۱۹۵۳ء میں’’ افق‘‘ دربھنگہ میں شائع ہوا جو معروف ادیب شمیم سیفی کی ادارت میں نکلتا تھا۔ اس کے بعد ان کے مختلف افسانے ہندو پاک کے معتبر رسائل میں چھپتے رہے۔ اپنی دفتری اور انتظامی مشغولیات کے باوجود انہوں نے انگریزی اخبارات میں ادبی موضوعات پر بعض اہم مضامین بھی لکھے ۔ یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔ ان کی افسانہ نگاری کے امتیازات کا اعتراف کرنے والوں میں کلیم الدین احمد، قرۃ العین حیدر، اور وہاب اشرفی جیسے نام شامل ہیں۔ پروفیسر کلیم الدین احمد کا خیال تھا کہ ان کا ہر افسانہ ایک سوالیہ نشان کی صورت میں ابھرتا ہے۔ قرۃ العین حیدر نے ان کے افسانوں کی کیفیت کو ایک سمفنی سے مشابہہ کہا ہے جب کہ وہاب اشرفی نے ان کے بیشتر تخلیقی عمل کو خود اپنی تلاش کا عمل قرار دیتے ہوئے اس نکتے پر زور دیا ہے کہ ان کے افسانوں میں یہ تلاش Purple Patches کی صورت میں نمایاں ہے جسے کوئی بھی با شعور قاری بہ آسانی محسوس کر سکتا ہے۔ یہ بات بڑی حد تک درست ہے۔ مگر پروفیسر موصوف کی اس رائے سے اتفاق کرنا مشکل ہے کہ شفیع کے بہت سارے افسانے دوران چہل قدمی میں ـConceivfe کئے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ ابتداء سے ہی اس کا ئنات، اس کے مظاہر و نوادر اور مسائل و حالات سے متعلق گہرے غور و فکر کی طرف مائل رہے ہیں۔ اور گذرتے ہوئے وقت کے ساتھ ساتھ یہ صورت ان کے افسانوں میں زیادہ نمایاں ہوتی گئی ہے۔ بہر حال گذشتہ چند برسوں کے دوران شفیع جاوید کے ناقدانہ مطالعہ کا سلسلہ تیز ہوا
 
ہے۔ اس لئے   ع
 دیکھئے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیا
 اب تک شفیع جاوید کی درج ذیل کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔
۱۔دائر ے سے باہر( افسانوی مجموعہ)۱۹۷۸ء
۲۔ کھلی جو آنکھ( افسانوی مجموعہ) ۱۹۸۱ء
۳۔ تعریف اس خدا کی ( افسانوی مجموعہ) ۱۹۸۴ء
۴۔ رات شہر اور میں ( افسانوی مجموعہ) ۲۰۰۶ء
۵۔ وقت کے اسیر ( بہ زبان ہندی، دہلی سے ) ۱۹۹۲ء
۶۔ تاثرات ( مضامین کا مجموعہ)
 
۷۔ آزادی کے بعد ہندستانی مسلمانوں کے بدلتے ہوئے سماجی رویے( اردو فکشن کے حوالے سے ) 
 
(بشکریہ: بہار کی بہار عظیم آباد بیسویں صدی میں ،تحریر :اعجاز علی ارشد،ناشر: خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری، پٹنہ)
 
************************
 
You are Visitor Number : 2442