donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Shafi Mashhadi
Poet/Writer
--: Biography of Shafi Mashhadi :--

 

 شفیع مشہدی 
 
 
 سید شفیع الزماں مشہدی ولد سید امیر الدین تعلیمی سند کے مطابق ۷؍ نومبر ۱۹۳۹ء کو گیا میں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم گھر پہ حاصل کرنے کے بعد گیا ہائی اسکول اور ہادی ہاشمی اسکول سے میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ گیا کالج گیا میں بی اے تک پڑھا اور آخرمیں علم نفسیات میں ایم اے کیا۔ ۱۹۶۱ء میں بہار ایڈ منسٹریٹو سروس کا امتحان پاس کرنے کے بعد اور سرکاری ملازمت میں آگئے۔ ان کے اسلاف مشہد سے ہندستان آئے تھے اور خاندان کی ایک شاخ نے گیا کے گیوال بیگہا محلے میں سکونت اختیار کر لی تھی۔ اسی نسبت سے خو د کو مشہدی لکھتے ہیں۔ان کے بڑے بھائی بدیع مشہدی بھی علم و ادب کا گہرا ذوق رکھتے تھے اور ہندی و اردو دونوں زبانوں میں لکھتے رہے۔ مگر رفتہ رفتہ وہ صرف ہندی کے ہو کر رہ گئے۔ شفیع کی رفیقہ حیات ذکیہ سلطانہ ( قلمی نام : ذکیہ مشہدی) بھی ایک معروف فکشن رائٹر ہیں۔
 
شفیع مشہدی اعلیٰ انتظامی عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ بہار ایڈ منسٹریٹو سروس کے افسر ہونے کے سبب انہیں پٹنہ اور دہلی میں مختلف شعبوں اور وزارتوں کے علاوہ کچھ ضلعی ہیڈ کوارٹر زمیں بھی کام کرنا پڑا۔ ریٹائر منٹ سے قبل بہار پبلک سروس کمیشن کے ممبر ( دسمبر ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۸ء ) کی حیثیت سے بھی شب و روز ان کی مصروفیات رہیں۔ اور ریٹائر منٹ کے بعد وہ تین برسوں تک بہار اردو اکادمی کے نائب صدر کے عہدے پر کام کرتے رہے۔ مگر ان تمام دفتری مصروفیات کے باوجود علم و ادب کے لئے بھی وقت نکالتے رہے۔ بہار میں ایک عرصہ تک ’’ جشن ظرافت ‘‘ کے انعقاد میں بھی ان کی پر خلوص کوششیں شامل رہیں۔ اس کے علاوہ ہم نوا اور دوسری ادبی و ثقافتی تنظیموں سے ان کی مستقل دلچسپی زبان و ادب سے ان کی غیر مشروط بلکہ جذباتی وابستگی کا ثبوت کہی جا سکتی ہے۔ 
 
شفیع مشہدی کی ادبی زندگی کا آغاز سترہ سال کی عمر میں ہوا جب انہوں نے ۱۹۵۶ء میں پہلی کہانی لکھی۔ یہ کالج کی تعلیم کے دن تھے ۔۱۹۶۱ء سے انہوں نے باضابطہ افسانہ نگاری کا آغاز کیا اور ہند و پاک کے مختلف جرائد میں تواترکے ساتھ ان کے افسانے شائع ہونے لگے۔ جلد ہی انہیں اپنے جذبات و خیالات کے اظہار کے لئے افسانہ نگاری کا پیمانہ ناکافی محسوس ہوا اور انہوں نے ڈرامہ نگاری اور شاعری کی طرف بھی توجہ کی۔ تا حال ان کی درج ذیل تصانیف کا حال معلوم ہے۔
 
٭شاخ لہو ( افسانوی مجموعہ ) ( مطبوعہ ۱۹۷۶)
٭سبز پرندوں کا سفر( افسانوی مجموعہ)مطبوعہ 
٭ دوپہر کے بعد ( چھ ڈراموں کا مجموعہ ) مطبوعہ ۱۹۸۱
٭حصارِ جان ( شعری مجموعہ )
 
٭دیوان جمیلہ خدا بخش ( سات جلدوں میں ) ترتیب و تدوین برائے خدا بخش لائبریری، پٹنہ) مطبوعہ۲۰۰۳ء تا ۲۰۰۶ء
شفیع مشہدی نے عہد حاضر کی سچائیو ں کو بھی اپنے افسانوں کا موضوع بنایا ہے۔ اور بعض ازلی و ابدی صداقتوں پربھی قلم اٹھایا ہے۔ ’’ طوطے کا انتظار‘‘اور’’ شام ڈھلے‘‘ جیسے چند افسانوں میں وہ خاصے ناسٹلجک بھی دکھائی دیتے ہیں مگر ان کی افسانہ نگاری کے دوامتیازات میری نظر میں اہم رہے ہیں۔ ایک توجدیدیت کے دور شباب میں افسانے لکھنے کے باوجو د غیر ضروری ابہام اور استعاری سازی سے گریز اور جہاں کہیں استعاروں کا استعمال بھی ہوا ہے وہاں معنی و مفہوم تک پیش کش کو ایک خاص وقار اور فکری شائستگی عطا کرتی ہے۔ گذشتہ چند برسوں سے وہ افسانہ نگاری کے مقابلے میں شاعری کی طرف زیادہ مائل رہے ہیں اور خاص طور پر مذہبی اساطیر یا حوالوں کی روشنی میں انہوں نے خوبصورت نظمیں لکھی ہیں۔مگر مجھے محسوس ہوتا ہے کہ شفیع مشہدی جتنے اچھے افسانہ نگار تھے اس سے کہیں اچھے شاعر ہیں۔ اگرچہ انہوں نے فکری پس منظرکے ساتھ غزلیں بھی کہی ہیں لیکن ان کی شخصیت کی ساری دردمندی اور دلاویز ی ان کی نظموں میں سمٹ آتی ہے۔ ان کی نظم نگاری سے متعلق پروفیسر وہاب اشرفی کی یہ رائے بے حد متوازن ہے۔’’ وہ جدید تقاضوں کے ساتھ اقبال کی ڈگر پہ چلنے والے ایک شاعر ہیں جن کے یہاں اسلامی امتیازات بڑے شاعرانہ انداز شعر کا جامعہ پہنتے ہیں۔ انہیں عظمت رفتہ کا احساس ہے۔ اور اس کا کرب بھی کہ اب ایسی عظمت نہ صر ف گریز پا ہو گئی بلکہ نئی نسل اس کی تجدید کے لئے کسی مستسحن کی طرف مائل نہیں۔
 
ان کے ڈرامے زیادہ تر ریڈیو کے لئے لکھے گئے ہیں پھر بھی ان میں بھی وہ مثبت فکر اور عصری حیثیت موجود ہے۔ جس کا ان کے نظموں یا کہانیوں کے حوالے سے ذکر ہوتا رہا ہے مگر اب انہوں نے ڈرامہ نگاری تقریباً ترک کردی ہے۔
 
شفیع مشہدی نے بعض خوبصورت تاثراتی مضامین بھی لکھے ہیں جن کے اسلوب کی دلکشی اور روانی بار بار مطالعے کا تقاضہ کرتی ہے۔ ان کی تعداد اتنی ضرور ہے کہ ایک مجموعہ مرتب ہو سکے۔ گرچہ ان کی بعض غزلیں اور نظمیں ہندی زبان میں بھی شائع ہوتی رہی ہیں مگر خود مشہدی اپنی تخلیقات کی اشاعت کی طرف سے خاصے بے نیاز رہے ہیں۔
 
نمونہ کلام کے طورپر این کی ایک نظم’’ سوال کا یہ حصہ ملاحظہ ہو۔
 
نمود صبح تری رنگ شام بھی تیرے
 نسیم تیری، صبا کے خرام بھی تیرے
 یہ خم بھی تیرا، صراحی بھی جام بھی تیرے
 سمندروں سے گھر سے تشنہ کام بھی تیرے
جہاں پناہ بھی عالی مقام بھی تیرے
 سبھی ہیں تیرے توہنگامہ کو بہ کو کیوں ہے
 ہر ایک سمت یہ منظر لہو لہو کیوں ہے؟
توچاک دامن ادراک ہی رفو کردے
 نہیں تو میرے جگر کو لہو لہو کردے
٭٭٭
 ایک غزل کے چند اشعار ملاحظہ ہوں۔
ایک اس کا تھا وہ آسرا بھی نہیں
 میرے شامل اب اس کی رضا بھی نہیں
میرے پیچھے ہے فرعون لشکر لئے
 اور دریا میں اب راستہ بھی نہیں
 ہاتھیوں کی ہے یلغار چاروں طرف
 اور ابابیل کا کچھ پتا بھی نہیں
 مشہدی سر ہتھیلی پہ رکھے رہے
اس کی قسمت میں تو کربلا بھی نہیں
 
(بشکریہ: بہار کی بہار عظیم آباد بیسویں صدی میں ،تحریر :اعجاز علی ارشد،ناشر: خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری، پٹنہ)
 
**********************************
 
You are Visitor Number : 3105