donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Shafiur Rahman Shafi
Poet
--: Biography of Shafiur Rahman Shafi :--

 

 Md. Shafiur Rahman ‘Shafi’ 
 
Chand Manzil, Nawab Bahadur Road, Patna City, Patna, Bihar ( India)
Contact # 91-9304856774/9470642693   e-mail: msrahmanshafi@gmail.com
Retired Teacher; Educationist; Poet; Author; Editor; Compiler; Orator & Social  Worker
Born: Basaha (Madhubani) , 09 August 1952   Retired as Teacher in English : 31 August 2012
Education:     Complete Islamic Education: Alim and Fazil (Gold Medallist)
                         M.A. (English & Persian); B.Ed. [LL.B. Incomplete]: Patna University
Service:  Custodian, Khuda Bakhsh Oriental Public Library, Patna (1976-31March 1981)
                Teacher in English, Mohammedan Anglo Arabic High (Now Senior Secondary) 
School, Patna City   (Joined: 1 April 1981 and retired: 31 august 2012)
Led:  All Bihar Madrasa Students’ Union and Bihar Madrasa Old Boys Association (Registered) 
 for two decades and helped a lot in modernization of Madrasa Education and better 
status for teachers.
Publications:   Descriptive Catalogue of Arabic and Persian Manuscripts, Vol. 34; KBL; Golden    
  Examination Guide-Urdu &Persian; A Golden Passport to High School Urdu and 
Persian, Vol. I &II (1985-2001); How to Translate into English (Anglo Urdu), all 
published from Bharati Bhawan,Patna; Pahla Zeena Urdu; Pahla Zeena Hisab; 
Shu’oor e Tadrees, Koshish and Weekly Evaluation Manual: all published from Bihar 
Education Project, Editor, Sih Mahi Anwaar e Makhdoom, BiharShareef; Edited and 
contributed to a number of journals, souvenirs and Guldastas. Radio talks and TV 
appearance.
FoundedSILSILAH and primary schools for free education to the underserved children.
Wrote Articles on various topics regarding education, educational and social reforms and 
massawakening on several occasions.
Helped Polio Eradication in partnership with UNICEF under SILSILAH
Poetry:  Composed a large number of Hamds, Nats, Poems on topics and occasions, Sihras, 
Qa’at, Rubaiyat, Qasa’id, and Ghazals. Collections in offing for publication.
 
 
نام و تخلص  :محمد شفیع الرحمن شفیعؔ              قیام   :     نواب بہادر روڈ، پٹنہ سیٹی، پٹنہ 
Contact # 91-9304856774/9470642693; e-mail: msrahmanshafi@gmail.com
پیدائش:09 اگست 1952ء: موضع بسہا، بلاک اور تھانا: بابو بڑھی ، ضلع مدھوبنی، بہار (ہند) ؛ ملازمت سے سبکدوشی: 31اگست2012ء
تعلیم : عالم و فاضل ( گولڈ مڈلسٹ) : بہار مدرسہ اگزامینیشن بورڈ ؛ ایم ۰ اے۰ (انگریزی و فارسی) ؛ بی۰ ایڈ۰  [ایل۰ایل۰بی۰ ناتمام] پٹنہ یونیورسٹی
ملازمت: ۱۔ کسٹوڈین ( انچارج پبلیکیشن): خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری ، پٹنہ (۱۹۷۶تا مارچ ۱۹۸۱)
         ۲۔  مدرس انگریزی:  محمڈن اینگلو عربک سینیر سکنڈری اسکول، پٹنہ سیٹی  ( یکم اپریل ۱۹۸۱ تا ۳۱ اگست ۲۰۱۲ء)
دیگر سرگرمیاں: آل بہار مدرسہ اسٹودینٹس یونین کے بانی رکن، معتمد اعلی اور صدر ( ۱۹۶۹ تا ۱۹۸۲ء) ؛ بہار مدرسہ اولڈ بوائز ایسوسی ایشن ( رجسٹرڈ) کے بانی معتمد اعلی(۱۹۷۸ تا۱۹۸۵ء)  مجلس ادب، ادارۂ تحقیقات عر بی و فارسی کے معتمد اور ادبی مجلہ کے مدیر (۱۹۷۲)؛ بزم پرویز شاہدی، بزم ثاقب، ادبی مرکز، اور دیگر انجمنوں کے مشاعروں میں شریک؛ حلقۂ ادب ، انجمن ترقی اردو کے سکریٹری، سلسلہ ، خانقاہ منعمیہ قمریہ ، پٹنہ سیٹی کے بانی معتمد اعلی ( ۱۹۹۹ تا ۲۰۰۶ء)؛ مجلس عاملہ ، بیت المال کمیٹی ، کنکڑ باغ ، پٹنہ، الخیر چیری ٹیبل سوسائٹی اور بہار رابطہ کمیٹی کے رکن۔ طلبہ کو سرکاری وظائف کے سلسلے میں تعاون و رہنمائی وغیرہ۔
تصنیف و تالیف: توضیحی فہرست مخطوطات عربی و فارسی ، جلد ۳۴( خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری، پٹنہ)  کے معاون مرتب، بھارتی بھون سے شائع شدہ گولڈن اگزامینیشن گائیڈ: اردو و فارسی  اور اے گولڈن پاسپورٹ ٹو اردو  و فارسی  کے مؤلف ،( ۱۹۸۵تا ۲۰۰۱) How to Translate into English (Anglo Urdu)کے مترجم؛ بہار ایجوکیشن پراجیکٹ  سے شائع شدہ: پہلا زینہ اردو ؛ پہلا زینہ حساب؛  شعور تدریس، پیش کش؛ او رہفتہ وار جائزہ نامہ؛ مجلہ جشن صد سالہ محمڈن انگلو عربک اسکول کے معاون ایڈیٹر، اسکول میگزین کے کئی شماروں کے  مدیر اعلی، سلسلہ کے گلدستۂ حمد و نعت کے کئی شماروں کے  مرتب، عالمی علمی  سہ ماہی مجلہ ' انوار مخدوم'  بہار شریف کے مدیر( شمارہ اول تا ہشتم)۔ اکثر مضامین جرائد، اخبارات میں شائع ہوتے رہے۔ ترجمان اسمبل، پٹنہ میں بھی دو مضامین شائع ہوئے۔ آل انڈیا ریڈیو، پٹنہ سے 'روشنی' اور 'باتیں جن سے زندگی سنورتی ہیں' کے عنوان سے کئی مقالے نشر ہوئے۔ایک بار پٹنہ دور درشن سے بھی ایک نعت شریف ٹیلی کاسٹ ہوئی۔ شاعری کے مجامیع ، ان شاء اللہ! جلد ہی منظر عام پر آنے والے ہیں۔ پانچ زبانوں میں ایک حمد اور ایک نعت بھی ہیں۔ کئی حمد، نعت، قصائد، نظمیں، قطعات، رباعیات، اور سب سے زیادہ غزل کے اشعار محفوظ ہیں۔ فارسی میں بھی چند غزلیں اور ایک دو مثنوی کی ہیئت میں نظمیں موجود ہیں۔ ہندی اور انگریزی میں بھی کلام  موجود ہیں ۔ چند قطعات عر بی  میں بھی ہیں۔
شاعری: پانچویں۔ چھٹی جماعت میں ایک  سچے دوست کو اپنی اس وقت کی زبان میں اس وقت کے معیار کے مطابق اشعار میں خط لکھنے کا شوق پیدا ہوا اور وہاں سے جو جراثیم دماغ میں داخل ہوئے وہ بار بار کی جراثیم کش دواؤں کے باوجود بھی ختم نہیں ہوئے۔ اس کے بعد نویں ۔دسویں جماعت میں باضابطہ سہروں، تہنیتوں اور استقبالیہ نظموں کے ساتھ غزل کا سلسلہ شروع ہوا۔ عید اور بقرعید کے  مواقع پر دیہاتی مشاعروں میں پابندی سے شرکت ہونے لگی۔ ع :" ہاتھ میں لاٹھی، گیروا  کپڑا، بسہا کا وہ گھٹکا ہے۔" یہ  ایک مصرع یاد ہے۔ پھر مدرسہ اسلامیہ شمس الہدی، پٹنہ آگیا۔ یہاں تو اس کا میدان بہت وسیع تھا ، مگر میں اپنے آپ کو کسی شمار میں رکھنے سے قاصر تھا۔ ادارۂ تحقیقات عربی و فارسی  ان دنوں سائنس کالج  کے مقابل ہمارے مدرسے میں تھا۔ حضرت عطاؔ کاکوی ڈائرکٹر تھے اور ان کی صدارت میں ایک مقامی مشاعرہ جاری تھا۔ مرحوم نورا لہدی شمسی، سابق مدرس  ، پٹنہ مسلم ہائی اسکول مجھے کھینچ کر وہاں لے گئے۔ حکم ہوا تو ایک غزل پیش کردی۔ ایک مصرع یاد آرہا ہے۔ " میرے اس دیدے میں پانی اور ہے" ۔ اس کے بعد سے کچھ ہمت بندھی۔ کسی استاد کے پاس جاکر اصلاح لینے میں شرم کا احساس حائل  ہوتا رہا، اسی لیے بے استادا ہونے کے سبب میری شاعری میں یقیناً عیوب ہوں گے۔ خدا بخش لائبریری میں میری شاعری اپنی ذات تک محدود رہی۔
محمڈن اسکول آجانے اور پٹنہ سیٹی میں قیام ہو جانے کے بعد شادؔعظیم آبادی کی اس سر زمیں نے شاعر بنا دیا۔ بزم پرویزؔ شاہدی کے مشاعرے پابندی سے  مرحوم رمزؔ عظیم آبادی کی صدارت میں ہوتے اور میں شریک ہونے لگا۔ پھر بزم ثاقبؔ کے مشاعرے باضابطہ اور پابندی سے ہوتے اور جناب سعید رضا گہر ؔ عظیم آبادی کی عنایتوں سے حضرت عطاؔ کاکوی کی صدارت میں غزلیں پیش کرنے لگا۔ حلقۂ ادب کے مشاعروں میں پروفسر عبدالمغنی کی صدارت میں کلام پیش کرنے کا موقع ملا۔ سلسلہ ، خانقاہ منعمیہ قمریہ، پٹنہ سیٹی کے قیام  کے بعد تو  خود مشاعرۂ حمد و نعت منعقد کرانے لگا۔  عوامی مشاعروں کا مزاج نہ بن سکا۔  فیس بک پر آجانے کے بعد پھر سے شاعری زندہ ہو گئی ہے ۔
نمونٔہ کلام:
۱۔ اللہ کے سوا کوئی معبود اور ہو۰۰ ہر گز نہیں، کبھینہ، یقیناً، نہیں، نہیں 
۲۔  اپنے بچوں کو اردو کی تعلیم دو۰۰مر نہ جائے زباں دیکھتے دیکھتے  
۸۔ رباعی
بشنامہےابلیسکیشاگردیکا
ہر کام ہے اس کا  بڑا   نامردی کا
اترے گا بہت جلد ہی نشّہ  اس کا
پائے گا صلہ دہر سے بے دردی کا
۹۔حمد خمس لسانیہ سے ایک بند
ہے نور اسی کا تاروں میں، کھیتوں  کو فصل کے پیراہن
हर पुष्प सुगंधित है उस से, ज्योतिर्मय नैन करे दर्शन
This universe’s wonderful in obeying His equation
افلاک کرشمۂ قدرت او برفاب ھمالہ شد روشن
لا حول ولا قوۃ الا باللہ تعالی العزۃ لہ
لا نقنط فی ای حال قد سبقت رحمتہ غضبہ
۳۔ شریر اطفال جیسے نوچتے ہیں تتلیوں کے پر۰۰زمانہ زندگی سے کھیلتا ہے واہ واہوں میں 
۴۔ گھر ایک  ہے لیکندو دروازوں کے دو منظر ۰۰اک شام غریباں ہے، اک شام دوالی ہے 
۵۔ زندگی کے واسطے اب کیا بچا، کچھ بھی نہیں۰۰پاک مٹی، صاف پانی یاہوا، کچھ بھی نہیں
 ۶۔ رات بھر آہ بھرتا رہا جاگتا۰۰صبح ہوتے ہی کیوں سو گیا آدمی 
۱۰۔ نعت خمس لسانیہ سے ایک بند:
رحمت جہانوں کے لیے، وہ نورِ امن وآشتی
مشاطۂالفت بزلفِ دھر خوش آراستی
है गर्व मानवता को, हैं वह शांति की कांति
Indeed purified filthy, faulty humanity
نحن نحب اللہ انا نتبع المصطفی
صل وسلم ربنا، بارک علی خیر الوری
۷۔ عنایت کیا یہ کم ہے۰۰  ابھی تک چشم نم ہے  
 

 

 
You are Visitor Number : 2010