donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Shahzad Masoomi
Poet
--: Biography of Shahzad Masoomi :--

 

 شہزاد معصومی 
 
 
سید شہزاد حسین (قلمی نام شہزاد معصومی )ولد سید آل حسین معصومی ۲۵؍ جنوری ۱۹۲۹ء کو اپنے آبائی وطن علی نگر پالی کاکو ( موجودہ ضلع جہان آباد) میں پیدا ہوئے۔ والد خود بھی ایک اچھے شاعر اور پٹنہ کالجیٹ اسکول میں ہیڈ مولوی تھے۔ ۱۹۴۴ء میں پٹنہ کالجیٹ سے میٹرک پاس کیا۔ پہلے راجندر کالج چھپرہ اور پھر ۱۹۴۷ء سے ۱۹۴۹ء تک پٹنہ کالج میں تعلیم حاصل کی مگر بی اے کے آخری سال میں تھے کہ اکتوبر ۱۹۴۹ء میں حکومت بہار کے محکمہ سینچائی میں ملازمت مل گئی۔ ترقی کرتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ کے عہدے تک پہنچے۔ اسی دوران بہار اسٹیٹ ہومیو پیتھک بورڈ سے ڈاکٹر ی کی سند لی۔ ملازمت سے ریٹائر منٹ کے بعد مستقل طورپر پٹنہ کے میٹھا پور محلہ میں مقیم رہے۔ ان کے کچھ وارثین اب تک اسی مکان میں مقیم ہیں۔ ان میں سے دو یعنی ڈاکٹر ارشاد حسن معصومی اور عون معصومی پٹنہ کے سماجی اور ثقافتی حلقوں میں خاصے معروف ہیں۔ شہزاد معصومی نے ۲۳ اکتوبر ۱۹۹۸ء بمطابق یکم رجب ۱۴۱۹ھ میں وفات پائی۔ مدرسہ سلیمانیہ پٹنہ سیٹی میں نماز جنازہ کے بعد میت علی نگر پالی لے جائی گئی اور وہیں مدفون ہوئے۔
 
 واحد نظیر نے قطعہ تاریخ کہا جو درج ذیل ہے۔
واحد نظیر نے قطعہ تاریخ کہا جو درج ذیل ہے۔
سب پہ تھا مدّاح اہل بیت کے مرنے کا سوگ
 آسمان بوجھل رہی، زمیں غمگیں، فضا سہمی ہوئی
اک رشائی دور کا شاید ہوا تھا اختتام 
داستاں ’’ تیغ  و گلو‘‘ کی جس سے تھی ٹھہری ہوئی
دفعتاً نوک قلم میں جنبش ہونے لگیں
 اور تخیل کو صدائے ہاتف غیبی ہوئی
 ہے الف محذوف کامل مصرع تاریخ میں
 اس جہاں سے رحلت شہزاد معصومی ہوئی
۱۴۱۹ھ 
 
شہزاد معصومی کے ادبی ذہن کی تشکیل میں خاص طور پہ تین عوامل کار فرما رہے ہیں۔ ایک تو ان کے والد کی حوصلہ افزائی اور شعروں پر ابتدائی اصلاح، دوسرے ان کے آبائی وطن علی نگر پالی میں برپا ہونے والی محرم کی مجلسیں اور ان میں مرثیہ خوانی کی روایت اور تیسرے ۵۱۔۱۹۵۰ء کے قریب انجمن ترقی پسند مصنفین سے ان کی وابستگی ۔ روایتوں کے مطابق وہ اسکول کی طالب علمی کے دوران ہی اشعار موزوں کرنے لگے تھے مگر ادبی زندگی کا باضابطہ آغاز ۱۹۴۸ء میں کالج کی تعلیم کے دوران ہوا اور ابتداء سے ہی ترقی پسند ادبی تحریک سے وابستہ ہو گئے۔ یہاں تک کہ لال باغ پٹنہ میں ان کی قیام گاہ پر انجمن ترقی پسند مصنفین کے کئی اہم اور یاد گار جلسے ہوئے۔ اس نظریے سے ان کی وابستگی تا عمر باقی رہی۔ انہوں نے بعض نثری مضامین بھی لکھے اور رسالہ مگدھ پنچ اور ’’ شگوفہ‘‘ میں ان کی کچھ ظریفانہ تخلیقات بھی شائع ہوئیں مگر بنیادی طور پر وہ ابتداء میں غزلیات و منظومات کی طرف اور بعد میں مرثیہ گوئی کی طرف متوجہ رہے۔ ۱۹۸۰ء میں ان کا مجموعہ کلام’’ شعلہ تشنگی‘‘ کے نام سے منظر عام پر آیا۔ ۱۹۹۷ء میں بے حد دیدہ زیب طباعت کے ساتھ مراثی کا مجموعہ’’ تیغ و گلو‘‘ کے نام سے اشاعت پذیر ہوا۔ اس میں بارہ مرثیے شریک اشاعت ہیں۔ ان کی شاعری سے متعلق ڈاکٹر عبد المغنی ، قمر اعظم ہاشمی اور سلطان آزاد نے مختصراً اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ سید عاشور کاظمی نے اردو مرثیے کا سفر …‘‘ میں ان کی مرثیہ نگاری پر قدرے تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی ہے۔ ان کے بیان کی آخری سطریں درج ذیل ہیں۔
 
’’ شہزاد معصومی ایک پختہ گو مرثیہ نگار ہیں اور انہوں نے خوبصورتی سے روایت کے خاکے میں عصر حاضر کی تلخ حقیقتوں کے رنگ بھرے ہیں۔ ہیت میں روایت کی پابندی کے باوجود ان کی ترقی پسند فکر ان کے مراثی میں نمایاں رہی ہے۔
 
نمونہ کلام درج ذیل ہے۔
 
 ہم آدم عصر حاضر ہیں نایاب نہیں کمیاب ہیں ہم
 تعبیر ہے جس کی عزم و عمل امیدوں کا وہ خواب ہیں ہم
 ہم دیوانوں سے رونق ہے اس وادی میں اس گلشن میں
 ہو موسم گلم یا فصل خزاں ہر عالم میں شاداب ہیں ہم
 شہزادؔ ہمیں سمجھے نہ کوئی کم مایہ چراغوں کی تابش
 ہم بجھ نہ سکیں گے پھونکوں سے وہ روشنی مہتاب ہیں ہم
(نظم’’ آدم عصر حاضر)
 
ساقی عطا ہو فکر کو وہ جام بے خودی 
 خود میکدہ بدوش ہو طبع رواں مری
 ہے شادؔ اور انیسؔ کی منظور پیروی
 جن کی زباں ہے معجزہ فن و شاعری
 پتھر بھی موم، سحر بیانی سے جس کی ہو
دریا بھی آب آب روانی سے جس کی ہو
( تیغ و گلو کے پہلے مرثیہ سے ماخوذ)
 
غزل کے دو اشعار ملاحظہ ہوں۔
 
 شکایت ستم و جوریا کرنہ سکے
 خلاف وضع کبھی وضع دار کر نہ سکے
 جو اپنے غم کو غم روز گار کر نہ سکے
 وہ سر پرستی لیل و نہار کر نہ سکے
 
(بشکریہ: بہار کی بہار عظیم آباد بیسویں صدی میں ،تحریر :اعجاز علی ارشد،ناشر: خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری، پٹنہ)
 
********************
 
You are Visitor Number : 1593