donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Shakila Akhtar
Writer
--: Biography of Shakila Akhtar :--

 

 شکیلہ اختر 
 
 
 شکیلہ بنت شاہ محمد توحید قصبہ ارول ضلع گیا( موجودہ ضلع جہان آباد) میں پیدا ہوئیں۔ ان کی تاریخ پیدائش سے متعلق متضاد بیانات ملتے ہیں۔ ڈاکٹر محمد حامد علی خاں سال ولادت ۱۹۱۴(مقالہ مطبوعہ زبان و اب، پٹنہ مئی ۲۰۰۵) سلطان آزاد اور سید شاہ اقبال ۱۹۱۶ء ، ڈاکٹر ش اختر اور پروفیسر وہاب اشرف ۱۹۱۹ء بتاتے ہیں۔ چوں کہ انہوں نے باضابطہ طور پر کسی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل نہیں کی تھی، اس لئے تعلیمی سند کے اعتبار سے بھی کچھ طے کرنا ممکن نہیں ہے۔ البتہ ڈاکٹر ش اختر نے اپنی کتاب’’شناخت ‘‘ (مطبوعہ ۱۹۸۱ئ، تصنیف شدہ ۱۹۶۵ء ) کی ابتداء میں ’’ مطالعہ کا طریقہ‘‘ کے عنوان سے جو کچھ لکھا ہے اس کی روشنی میں تاریخ پیدائش ۲۵؍ اگست ۱۹۱۹ء تسلیم کی جا سکتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں۔
 
 جن افسانہ نگار خواتین کا میں نے اس مقایلہ میں ذکر کیا ہے ان میں رضیہؔ آپا کو چھوڑ کر تقریباً سبھوں نے جوابات ارسال کئے۔ جن کی روشنی میں ان کی پیدائش ، تعلیم اور نجی زندگی کی بعض مصروفیتوں کی طرف اشارے کئے گئے ہیں۔ کیوں کہ لکھنے والوں نے خود معلومات بھیجی ہیں اس لئے یہ سب سے زیادہ معتبر ہیں۔
 
میں سمجھتا ہوں کہ اگر اختر اورینوی کی ’پام ویلا‘ میں پہلی بار آمد(۱۹۳۲ئ) اور شکیل کے ساتھ ان کی شادی کی تاریخ یعنی ۲۴؍ مئی ۱۹۳۳ء ( جس پر اتفاق رائے ہے) کو ذہن میں رکھا جائے تو صرف چودہ برس کی عمر میں شادی کی روایت قدرے مشکوک معلوم دیتی ہے مگر یہ بھی ہے کہ وہ اختر اورینوی کی چچازاد بہن صالحہ بیگم ( منکوحہ شاہ محمد توحید رئیس ارول) کی بیٹی تھیں اس لئے ممکن ہے کہ فریقین کی رضا مندی کے سبب کم عمری میں یہ شادی ہو گئی ہو۔ بہر حال کسی حتمی تردید کی غیر موجودگی میں مصنفہ کے بیان پر بھروسہ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں
 
 خود ان ہی کے بیان کے مطابق ان کی ابتدائی تعلیم خالص اسلامی طریقے کے مطابق مولوی عبد الغفور صاحب کی نگرانی میں ہوئی جو ان کے قرابت داروں میں تھے اور گائوں میں ایک مدرسہ چلاتے تھے ویسے وہ خود بھی ایک ذی علم گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں۔ جہاں ہمہ وقت علم و ادب کا چرچا رہتا تھا اور اپنے زمانے کے مشہور ادبی رسائل مثلاً نیرنگ خیال ، ساقی ،عصمت، ادبی دنیا اور کلیم وغیرہ زیرمطالعہ رہتے تھے۔ مگر ان کے ادبی ذوق کی تعمیر و تشکیل میں میر، مومن، غالب اور اقبال کی شاعری کے ساتھ انگریزی ، جغرافیہ اور تاریخ کی بھی تعلیم دی( ملاحظہ رسالہ فن اور شخصیت بمبئی، آپ بیتی نمبر مارچ ۱۹۸۰ء ص ۲۲۱) یہ بھی طے شدہ ہے کہ اختر اورینوی سے عقد کے بعد ہی انہوں نے شکیلہ اختر کے قلمی نام سے لکھنا اور چھپنا شروع کیا۔
 
 شادی کے بعد شکیلہ کی زندگی کا ایک بڑا حصہ پٹنہ میں اختر اورینوی صاحب کی سرکاری رہائش گاہ واقع چھجو باغ میں گذرا۔ یہاں ملک کے مشاہیر اہل قلم کی برابری اور آمد و رفت رہتی تھی ۔ جن کی میز بانی ان کے فرائض میں داخل تھی۔ ملازمت سے ریٹائر منٹ کے بعد بھی تادم تحریر مرگ اختر صاحب اسی کوٹھی میں مقیم رہے اور شکیلہ ان کی تیمار داری میں مشغول رہیں۔ بظاہر زندگی خاصی آسودہ حال تھیں مگر بے اولادی کا غم ہمیشہ انہیں افسردہ کرتا رہا۔ اختر صاحب کی وفات ( مارچ ۱۹۷۷ء ) کے بعد وہ سری کرشنا پوری پٹنہ کے ایک فلیٹ میں رہنے لگیں اور جب تک صحت نے ساتھ دیا پٹنہ کی ادبی محفلوں اور سمیناروں کو اپنی موجودگی سے وقار بخشتی رہیں۔ بالآخر ۱۰ فروری ۱۹۹۴ء کو وفات پائی۔ لاش قادیان لے جائی گئی جہاں مقبرہ بہشتی میں اختر اورینوی کے قریب ہی مدفون ہوئیں۔
 
 شکیلہ اختر کی ادبی زندگی کا آغاز کب ہوا یہ کہنا بھی دشوار ہے۔ اس سلسلے میں خود ان کے بیانات بھی خاصا کنفیوژن پیدا کرتے رہے ہیں۔ مختلف بیانات کا تجزیہ کرنے کے بعد یہی کہا جا سکتا ہے کہ ممکن ہے ابتداء میں اینہوں نے کچھ غزلیں یا تفریحی مضامین لکھے ہوں مگر ان کا پہلا افسانہ ۱۹۴۰ء کے آس پاس ہی شائع ہوا ہوگا۔ ان کے افسانوں کے پہلے مجموعہ ’’ درپن ‘‘ کی اشاعت مکتبہ اردو لاہور سے کم و بیش اسی زمانے میں ہوئی ہوگی ۔ اس مجموعے میں کل چودہ افسانے ہیں۔ اس کے بعد شکیلہ اختر کی درج ذیل تصانیف منظر عام پر آئیں۔
 
 ۱۔آنکھ مچولی ( افسانوی مجموعہ جس میں کل گیارہ افسانے ہیں) مطبوعہ ممبئی ۔ ۱۹۴۸ئ) 
۲۔ ڈائن ( افسانوی مجموعہ جس میں کل بارہ افسانے ہیں ( مطبوعہ پٹنہ۔ ۱۹۵۲)
۳۔ آگ اور پتھر ( افسانوی مجموعہ جس میں کل تیرہ افسانے ہیں(مطبوعہ الہ آباد۔۱۹۶۷ئ)
۴۔تنکے کا سہارا ( تین ناولٹ بشمول تنکے کا سہارا) مطبوعہ۔لکھنو۔۱۹۷۵)
۵۔ لہو کے مول( افسانوی مجموعہ جس میں کل بارہ افسانے ہیں ) مطبوعہ پٹنہ ۔۱۹۷۸ئ)
۶۔آخری سلام ( افسانوی مجموعہ جس میں کل پندرہ افسانے ہیں) مطبوعہ لکھنو۔۱۹۸۶ئ)
انہوں نے اختر اورینوی کے اداریوں کا ایک مجموعہ بھی ترتیب دیا تھا جو شائع ہو چکا ہے۔ ان پر کئی تحقیقی مقالے لکھے گئے ہیں او ران کی مختلف کتابوں پر بہار، بنگال اور اتر پردیش اردو اکادمی نے انعامات دئیے ہیں۔ وہ ایک عرصہ تک بہار اردو اکادمی کی مجلس عاملہ اور سب کمیٹیوں کی رکن رہی ہیں۔
اردو کی خواتین افسانہ نگاروں میں شکیلہ اختر کا اپناایک انداز اور مقام ہے۔ گرچہ ان کا دائرہ کار محدود اور طرز بیان سادہ ہے مگر افسانوں میں تاثیر کی کمی نہیں۔ اردو کے اہم ناقدوں نے ان کی انفرادیت تسلیم کی ہے۔ یہاں صرف ایک رائے پیش کرتا ہوں۔ ڈاکٹر عبد المغنی لکھتے ہیں:
 
’’ یہ مطالعہ حیات بہت صاف ، سیدھا اور فطری ہے اس مطالعہ کا امتیاز یہ ہے کہ اس میں نہ تو عصمت چغتائی کی طرح جنسی انحراف کا تعاقب ہے نہ حجاب امتیاز علی کی طرح ما فوق الفطری تخیلات کی جلوہ گری نہ قرۃ العین حیدر کی طرح صوفیانہ فلسفہ طرزی اور نہ ہاجرہ سرور کی کی طرح اشتراکی پیچ و خم۔ شکیلہ اختر براہ راست اور خالص اردو معاشرت کے احوال و کوائف کا نقشہ پوری وفاداری اور یکسوئی کے ساتھ کھینچ دیتی ہیں۔
 
(بشکریہ: بہار کی بہار عظیم آباد بیسویں صدی میں ،تحریر :اعجاز علی ارشد،ناشر: خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری، پٹنہ)
 
**********
 شکیلہ اختر 
نام:شکیل اختر
والد کانام: شاہ محمد توحید
تاریخ ولادت: ۱۹۱۶ء
مستقبل پتہ:سری کرشناپوری M.3/6 پٹنہ
تعلیم: اسکول اور کالج سے کوئی ڈگری نہیں
اعزازات وانعامات: اردو کی خدمت کیلئے بہار اردو اکادمی نے پہلا انعام دیا۔
اترپردیش اردو اکادمی نے کئی کتابوں پر انعامات سے نوازا
بہار اردو اکادمی نے کئی کتابوں پر انعامات دئے 
۱۹۸۲ء سے سابق گورنر گورنر بہار جناب اخلاق الرحمٰن قدوائی نے تازندگی ۴۰۰روپیہ ماہواررائٹر وظیفہ جاری کروایا،
مشغلہ: ملازمت کبھی نہیں کی البتہ مشغلہ کی ایک لمبی فہرست ہے۔
پٹنہ ریڈیو اسٹیشن کی ایڈوائزدی کمیٹی کی کئی سالوںسے ممبر ہیں۔
برسوں بہار اردو اکادمی کی مجلس عالمہ کی ممبررہیں اور ابھی تک اس کے کسی نہ کسی شعبہ سےوابستہ ہیں۔
خدابخش لائبریری پٹنہ کی لائف ممبر اور اس کی خدمت گارہیں  
پہلا افسانہ: ۱۹۳۶ء میں پہلا افسانہ ’’رحمت‘‘ماہنامہ ’’ادب لطیف‘‘ لاہور میں چھپا۔
رسائل کے کے نام جن میں افسانے شائع ہوئے: ’’ادب لطیف‘‘ لاہور‘‘ نقوش ‘لاہور‘‘ نیادور‘‘ کراچی’’ شاعر‘‘ ممبئی ‘‘ آج کل‘‘ دہلی‘‘ زبان وادب ‘‘ پٹنہ وغیرہ میں بہت سارے افسانے اور مضامین شائع ہوچکے ہیں۔
افسانوی مجموعوں کی تعداد: چھ،۶
۱۔درپن مکتبہ اردو ،لاہور،۲۔آنکھ مچولی ممبئی،۳۔ڈائن ،پٹنہ،۴۔ آگ اور پتھر،الہ آباد،۵۔لہو کے مول ،بک امپوریم پٹنہ ،۶۔آخری سلام، نصرت پلی کیشتر لکھنؤ،
دیگر تصانیف اور مضامین ونسر:تنکے کا سہارا نادلٹ، سہیل عظیم آبادی اور محمد طفیل پر کچھ خاکے ۔
بچوں کیلئے چند کہانیاں اور مضامین ،بہار کے لوک گیت پر کچھ مضامین، کچھ کہانیوں کے ترجمے ہندی، گجراتی اور تامل زبانوں میں ہوچکے ہیں۔
جدید افسانوں کے متعلق ان کا خیال: جدید ادب کے نام پر کچھ ادیبوں نے ایک مذاق شروع کیا تھا، علامتی افسانے چند بہت اچھے بھی لکھے گئے ہیں مگر زیادہ تران کو ایک کھیل بنالیا گیا تھا۔ عام طور پر اس کو ادب کا ایک سہی دور کہا گیا ہے شکر ہے کہ یہ کھیل اور یہ سہی ازم خود اپنی ہی موت مرگئی اب افسانوںمیں پھر وہی پہلا سارنگ آرہا ہے اور زندگی سے قریب تردل کی دھڑکنوں کا احساس ہو نے لگا ہے۔ 
ہندوستان کی خواتین افسانہ نگاروں میں شکیلہ اختر کو جو مقام حاصل ہے اور جو مقبولیت ملی ہے وہ کسی کو نہیں بہار کی خواتین افسانہ نگاروں میں وہ سب سے زیادہ کامیاب اور بلند پایہ کہانی کار ہیں فن اور زبان وبیان پر ان کی گرفت کافی مضبوط ہے ۵۵ سالہ ادبی زندگی میں انہوں نے جوادبی کا رنامے انجام دئے وہ اپنی جگہ مسلم ہیں لیکن ان کی کوششوں کا ہی نتیجہ ہے کہ آج بہار میں بہت سی خواتین افسانہ نگار اپنے فن کا جو ہر دکھا رہی ہیں۔
شکیلہ اختر نے اپنے افسانوں میں روایتی انداز کو قائم رکھا ہے ، ان کی کہانیوں میں ماجراسازی اور کہانی پن ہر جگہ موجود ہے، ان کے زیادہ تر افسانے عورتوں کی نفسیات کے آئینہ دار ہیں انہوں نے اپنے افسانوں میں بہار کے متوسط اور کمزور گھرانوں کی ایسی تصویر یں کھینچی ہیں جن کے چہرے پر امید وہم کے دیئے ٹمٹماتے نظر آتے ہیں۔
دوسری لڑکی اس کے چٹے فراک کو پکڑ کر اس کو ڈولاتے ہوئے بولی دیکھ ادھر دیکھ میں تجھے اتی سی مٹھائی دوں گی ہاں اتی سی، وہ اپنی  دونوں بانہوں کو دور تک پھیلا کر لا نچ دلانے لگی، لجیا، 
وہ اپنے گرود پیش جو کچھ دیکھتی اور محسوس کرتی ہیں انہیں صفحہ قرطاس پر فن کاری کے ساتھ بکھیردیتی ہیں وہ ماحول اور تاثر کی عکاسی اس طرح کرتی ہیں کہ قاری ایک لطیف احساس میں ڈوب جاتا ہے شکیلہ اختر فرماتے ہیں ۔
شکیلہ اختر کے افسانوں میں مسلم گھر انوں کے بے رنگ افراد اپنی تمام افسردگی کے ساتھ ساتھ ابھرتے ہیںمقامی رنگوں مکالموں اور ماحول کی پیش کش میں شکیلہ اختر سے چوک نہیں ہوئی ہے۔ شکیل اختر کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ اپنے بعض افسانوں میں موقع محل کے مطابق شعر پیش کر کے افسانے کی دلکشی اور دل نشینی میں اضافہ کر دیتی ہیں اور بعض افسانوں میں اہم کیفیات کو جگہ دے کر قاری کو چونکادیتی ہیں اور کبھی کبھی سماجی کمزوریوں پر گہرے طنزکے تیر بر سا کر پڑھنے والوں کے دل میں ایک ٹیس سی پیدا کردیتی ہیں۔ شکیلہ اختر صاف ستھرے مگر اہم کیفیات کو اپنے افسانوں میں جگہ دیتی ہیں، شکیلہ اختر صاف ستھرے واقعات کے ساتھ ساتھ مخصوص بہاری ماحول اور فضا کی عکاسی میں نہایت کامیاب ہیں ان کے افسانوں میں سماجی کمزوریوں پر گہرا طنز بھی ملتا ہے۔ کچھ کہانیوں میں شکیلہ اختر نے اپنے ہی دکھ درد کو سمیٹنے کی کوشش کی ہے ہر اچھا فنکار اپنے اوپر گزر نے والے واقعات اور حالات کو اسی طرح قارئین کے سامنے پیش کر دیتا ہے کہ پڑھنے والے اس سے متا ثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے شکیلہ صاحبہ نے بھی اپنے بعض افسانوں میں اپنے ہی جذبات واحساسات کو بڑی فنکاری کے ساتھ قارئین کے سامنے پیش کردیاہے۔قصہ پن کی دل چسپی اور بیان کی سادگی کے لحاظ سے شکیلہ اختر پریم چند سے زیادہ قریب ہیں ’’آنکھ مچولی‘‘ ڈائن‘‘ٹوٹی ہوئی گڑیا‘‘ لہو کے مول ‘‘ آگ اور پتھر ‘‘ اور’’آخری سلام‘‘ وغیرہ ان کی نمائندہ کہانیاں ہیں، یہ ساری کہانیاں اسکول ،کالج اور یونیورسٹیوں کے مختلف نصاب میں شامل ہیں۔
’’بشکریہ بہار میں اردو افسانہ نگاری ابتدا تاحال مضمون نگار ڈاکٹر قیام نیردربھنگہ‘‘
 
 
You are Visitor Number : 4930