donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Shakir Karimi
Writer
--: Biography of Shakir Karimi :--

 

 شاکر کریمی 
نام :امتیاز احمد کریمی
قلمی نام: شاکر کریمی
والد کا نام: مولوی عنایت کریم
تاریخ ولادت: ۱۰ مارچ ۱۹۴۲ء 
مستقل پتہ : محلہ گنج نمبر ایک ، پوسٹ بتیا ضلع مغربی چمپارن
تعلیم: میٹرک
پہلا افسانہ: پردے جب اٹھ گئے ،ماہنامہ، جمالستان، اکتوبر، ۱۹۵۴،
افسانوں کی تعداد: ’’روبی ، دہلی، بیسویں صدی، دہلی، شمع ، دہلی، نکھار، مئوناتھ بھنجن ،شاعر، ممبئی ، آج کل ، دہلی،صبح ادب ، پٹنہ اور ، سریر، گیا وغیرہ میں تقریباً ایک سو ستر افسانے شائع ہوچکے ہیں۔ 
افسانوی مجموعہ:دو،۱۔پردے جب اٹھ گئے۔۱۹۶۳ء،۲۔اپنی آگ ۱۹۱۸،
اعزازات وانعامات: بہار اردو اکادمی نے شعری مجموعہ ریزہ منیا پر ایک ہزار روپے کے انعام دیا۔دوسرے کئی اداروں نے سند واعزاز سے نوازا ہے۔
دیگر تصانیف اور ۔زیرہ مینا، شاعری، معصوم قاتل ناول 
مضامین وغیرہ : جشن کی رات ،ناول،کچھ کہانیاں ہندی میں بھی شائع ہوچکی ہے۔ کچھ کہانیوں کے ترجمے بنگلہ، ہندی ، گجراتی اور پنجابی وغیرہ میں ہوچکے ہیں۔
شاکر کریمی صاحب کی افسانہ نگاری کا سوال جہاں تک ہے تو وہ کبھی کسی مسلک یا تحریک سے متاثر نہیں ہوئے، وہ ہمیشہ ادب کی مقصدیت اور افادیت کے قائل رہے،۔انہوں نے ہمیشہ ہی کوشش کی کہ ان کے افسانوں میں انسانی مسائل ، انسانی زندگی کی پیچیدگیاں اور انسانی گتھیوں کے حل سامنے آئیں جن کے ذریعہ ایک صحت مندمعاشرہ پیدا ہوسکے، وہ عام طور پر وہی کچھ پیش کرتے ہیں جو اپنے ارد گرددیکھتے اور محسوس کرتے ہیں ان کا مشاہدہ اور مطالعہ بہت گہرا ہے  یہی وجہ ہے کہ قارئین کو ان کے افسانوں میں گہرائی اور گیرائی محسوس ہوتی ہے۔ کہیں کہیں ان کا رومانی انداز بیان قارئین کیلئے دلکشی اور دلنشبنی کا سامان بھی فراہم کرتا ہے۔
سنیتا، تم میری تپسیا ہو، برسوں کی تلاش ہو تمہارے بغیر ایک دن ایک صدی سے کم نہ ہوگا۔میرے لئے اس کی آواز کانپ رہی تھی۔ 
سنیتا کا ہاتھ اس کے ہاتھ میں کانپ رہا تھا ،چہرے پر کرب کی پرچھائیاں اور گہری ہوئیں تو آنکھیں چھلک پڑیں اس نے سنیتا کا چہرہ اپنی ہتھیلیوں میں لے لیا۔ میں تمہارا انتظار کروں گا سنیتا! اس کا لہجہ کربناک تھا، میں آئوں گی ضرور آئوں گی ضرور آئوں گی میرے لئے بھی یہ دو مہینے دوصدیوں سے کم نہ ہوںگے۔ سنیتا روپڑی ،آنسوئو ں کے قطرے رخساروں پر ڈھلک پڑے اور وہ سنیتا کا انتظار کرتا رہا۔’’بے شرم‘‘
شاکر کریمی صاحب نے اپنے افسانوں میں سماجی اور قومی مسائل کے ساتھ ساتھ بعض بین الاقوامی مسائل کی طرف بھی توجہ دلائی ہے اصلاح پسند رجحانات وخیالات کو وہ لازمی سمجھتے ہیں وہ ادب میں تجربہ بھی کرنا چاہتے ہیں لیکن صرف لفظوں کی شعبدہ گری کو پسند نہیں کرتے انہوں نے اپنے افسانوں کے بارے میں خود ہی لکھا ہے۔ 
میری نظر میں وہی ادب صحت مند ہے جو زندگی کے لئے سکون اور صداقت کا پیغامبر ہو، جو انسانی مسائل کا صحیح حل پیش کر کے صالح قدروں اور صحت مندمعاشرے کو جنم دے میں ادب میں تجربوں کا بھی حامی ہوں لیکن ماروگھٹنا پھوٹے آنکھ ،قسم کے ادب کا قائل نہیں ہوں اور ایسے ادب کو لفظی شعبدہ گری سمجھتا ہوں۔ افسانوں کے لئے مختلف خیالات، پلاٹ اور واقعات کے باوجود میں اس امر کا قائل ہوں کہ میرے افسانوں میں ملکی، قومی اور سماجی مسائل کا اور اک عرفان شامل ہو، شاکر صاحب علامتی ،تجریدی اور منفی تجربوں پر مبنی افسانے تحریر کرنے کے بجائے سنجیدگی سے اس فن کے احیاء کی جانب تو جہ دیتے ہیں اور افسانے پر تجربہ کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے اندر افسانہ پن قائم رکھتے ہیں محض جدت اور ندرت کی جستجو میں بے سروپاعلامتی اور تجریدی افسانے نہیں لکھتے ان کا خیال ہے کہ ایسے افسانے ایک خاص مخصوص طبقہ میں پسند کئے جاسکتے ہیں لیکن عوام ایسے افسانوں سے بیزاری اظہار کرتے ہیں۔
مختصر یہ کہ شاکر کریمی بہار کے ایک بلند پایہ افسانہ نگار ہیں ان کے افسانوی مجموعے پردے جب اٹھ گئے اور ، اپنی آگ کی روشنی میں ان کے فن کو اچھی طرح سمجھا جاسکتا ہے۔
 
’’بشکریہ بہار میں اردو افسانہ نگاری ابتدا تاحال مضمون نگار ڈاکٹر قیام نیردربھنگہ‘‘’’مطبع دوئم ۱۹۹۶ء‘‘
 
 
You are Visitor Number : 1435