donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Shamshad Hussain
Poet/Writer
--: Biography of Shamshad Hussain :--

 

 شمشاد حسین 
 
 
شمشاد حسین ، ولد اولاد حسین کی تاریخ پیدائش ہائی اسکول سرٹی فیکٹ کے مطابق یکم جنوری ۱۹۴۰ء اور جائے پیدائش ضلع بکسر( بہار) ہے۔ آبائی مکان سنگھی کلاں، آرہ ( ضلع بھوجپور) بہار میں اور موجودہ رہائش گاہ پروفیسرز کالونی ، تری پولیا، پٹنہ سیٹی میں ہے۔ والد ٹی ٹیای اور والدہ امت فاطمہ ایک گھریلو خاتون تھیں۔ اس کے باوجود خاندان میں تعلیم کو خاصی اہمیت دی جاتی تھی۔ اس لئے شمشادؔ حسین نے ہائی اسکول کا امتحان ضلع اسکول آرہ اور بی اے مہاراجہ کالج سے پاس کرنے کے بعد ایم اے ( نفسیات) کا امتحان پٹنہ یونیورسٹی سے پاس کیا ۔ پھر اس عہد کے مشہور ماہر نفسیات پروفیسر محمد محسن کی نگرانی میں پی ایچ ڈی کیا اور پٹنہ کالج میں شعبہ نفسیات کے لکچرر ہو گئے۔ ترقی کرتے ہوئے صدر شعبہ نفسیات پٹنہ یونیورسٹی کے عہدے تک پہنچے اور فی الحال پروفیسر ایمر سیٹس ( نفسیات) پٹنہ یونیورسٹی کی کی حیثیت سے در س و تدریس میں مشغول ہیں۔ شریک حیات ڈاکٹر نشاط عابدین بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں او رخدمت خلق میں پیش پیش رہتی ہے۔
 
دوران ملازمت اور ریٹائر منٹ کے بعد متعدد اداروں کی سربراہی آپ کے سپرد ہوئی۔ یونیورسٹی کے ڈائریکٹوریٹ آف ڈسٹنس ایجو یشن اور Institute of Psychological research کے ڈائریکٹر ہوئے۔ نالندہ اوپن یونیورسٹی اور مگدھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہے او ربہار اسٹیٹ یونیورسٹی سروس کمیشن کے چیر مین کا عہدہ سنبھالا۔ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن اور ایسوسی ایشن آف انڈین یونیورسٹیز (Association of Indian Universreis) کی مختلف کمیٹیوں کے ممبر کی حیثیت سے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ ملک اور بیرون ملک کئی بین الاقوامی سمیناروں میں شرکت کی اور ایک ماہر نفسیات کی حیثیت سے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ ملک اور بیرون ملک کئی بین الاقوامی سمیناروں میں شرکت کی اور ایک ماہر نفسیات کی حیثیت  سے خاصے مقبول رہے ۔ اب تک نفسیات اور عام انسانی رویوں سے متعلق ان کے کم و بیش ڈیڑھ سو مضامین مختلف رسائل و جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔ انگریزی میں ان کی درج ذیل کابیں بے حد مقبول ہوئی ہیں جن میں سے کچھ کا اردو اور ہندی میں ترجمہ ہو چکا ہے۔
 
(i) Adjustment and its measurement
(ii) Creativeit: Concepts and Findings
(iii) Human Adjustment: Measures and Findings
(iv) Applied Indian Psychology
(v) Understanding Human Behavior: A Psycho- Social Probing (Urdu Translation as Insani Kirdar' by Zakia Mashhadi)
 
 انہیں انڈیا انٹر نیشنل فرینڈ شپ سوسائٹی نئی دہلی کی جانب سے وجئے شری ایوارڈ ملا۔ اس سے قبل ۹۳۔۱۹۹۲ء میں وہ International Biographical Cent Combrigde, England سے  International man of year
علم نفسیات  اور تنظیمی امور سے اپنی مستقبل وابستگی کے باوجود پروفیسر شمشاد حسین اردو شعر و ادب کی بھی آبیاری کرتے رہے ہیں۔ ان کا مقالہ، کیا جنگ سے نجات ممکن ہے۔ ایک زمانے اظہار خیال کرتے ہوئے سماں باندھ دیتے ہیں۔ ۲۰۰۶ء میں ان کا شعیر مجموعہ احساس بیک وقت اردو اور ہندی دونوں زبانوں میں منظر عام پر آیا ہے۔ اس سے نمونے کے طور پر چند اشعار ملاحظہ ہوں ۔
 
 لوگ کتنے غم اٹھاتے ہیں خوشی کے واسطے
 لمحہ لمحہ مر رہے ہیں زندگی کے واسطے
 وسعت دامن سے زیادہ دے چکا بندہ نواز
 ہاتھ پھر بھی اٹھ رہے ہیں بندگی کے واسطے
 بڑھ گئی اتنی ہوس انسان کی شمشاد اب
 سب کو دریا چاہئے تشنہ لبی کے واسطے
٭٭٭
بہت دیر سے وہ یہیں پہ کھڑا تھا
 مگر اس سے ہر شخص نا آشنا تھا
 جسے ہم سمجھتے تھے شمشاد چھوٹا
 وہی شخص لوگوں میں سب سے بڑا تھا
 ٭٭٭
آسودگی مزے سے سلاتی ہے رات بھر
محرومیاں قبائیں بناتی ہیں خواب کی
 
اس مجموعے پر اظہار خیال کرتے ہوئے میں نے بھی کم و بیش ان ہی نکات کی طرف اشارہ کیاتھا جو شفیع مشہدی کی اس رائے میں موجود ہیں۔
 
 ’’ ان کی پوری شاعری انسانی کردار کی تحلیل نفسی اور اعلیٰ قدروں کی پاسداری ہے۔ سادگی اور بے ساختگی اسے پر کشش بھی بناتی ہے اور موثر بھی۔ بے حد سادہ اور سہل الفاظ میں گہری باتیں کہنے کا فن شمشاد حسین کو معلوم ہے۔
 
 میری دعاء ہے کہ شمشاد حسین اردو زبان و ادب کیطرف مزید توجہ کریں۔
 
(بشکریہ: بہار کی بہار عظیم آباد بیسویں صدی میں ،تحریر :اعجاز علی ارشد،ناشر: خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری، پٹنہ)
 
**************************
 
You are Visitor Number : 1475