donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Syed Ghazanfar Nawab Danish
Poet/Writer
--: Biography of Syed Ghazanfar Nawab Danish :--

 

 سید غضنفر نواب دانش 
 
 
 نام سید غضنفر نواب اور تخلص دانش ہے۔ پہلے شوق تخلص کرتے تھے۔ والد کا نام نواب سید یاور حسین ہے۔ جو خاندان گذری کی ایک اہم کڑی ہیں۔ ۱۰ دسمبر ۱۹۱۶ء کو اپنی نانیہال محلہ حمام پٹنہ سیٹی میں پیدا ہوئے۔تین ماہ کی عمر میں والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا تو والدہ نے پرورش و پرداخت اور دوران ہی شعر گوئی کا آغاز کیا اور پہلی غزل ۱۹۳۱ء میں کہی اس کے بعد مختلف مشاعروں اور قصیدہ خوانی کی محفلوں میں شریک ہوتے رہے۔ میں نے انہیں نہایت دل پسندانہ انداز میں بلند آہنگی کے ساتھ اپنا کلام پیش کرتے بارہا سنا تھا۔ ان کے گھریلو حالات بہت اچھے نہیں رہے مگر وضع داری کے ساتھ  زندگی گذاری۔ ۱۹۵۰ء میں کچھ رنجشوں کے سبب عظیم آبادچھوڑ حسین آباد، پلاموں چلے گئے جہاں سے احباب کے اصرار پہ تقریباً آٹھ برسوں کے بعد پٹنہ واپس آئے۔ انجمن ترقی اردو کی تحریک میں بھی خاصے فعال رہے۔ان کی یاد داشت غضب کی تھی اور عظیم آباد کے قدیم خاندانوں کے شجرے تیار کرنے میں مہارت رکھتے تھے۔ زندگی کے آخری ایام میں پہلے کویت اور پھر پاکستان کے سفر پہ عزیزوں سے ملنے کے لئے گئے مگر واپس آنا نصیب نہ ہوا۔ ۳۰ جنوری ۱۹۸۸ء  کو کراچی میں ان کا انتقال ہوا اور وہیں سپرد خاک ہوئے۔ دانش نے اپنے سوانحی حالات ’’ مثنوی اشک غم‘‘ مطبوعہ ۱۹۷۹ء میں خاصی تفصیل سے لکھے ہیں اور اپنے دادیہالی اعزا کا جن میں بیشتر دولت مند اشخاص تھے، شکوہ بھی کیا ہے۔ اپنے رئیس رشتہ داروں سے قطع تعلق کرتے ہوئے انہوں نے ایک غریب رشتہ دار کی لڑکی سے ستمبر ۱۹۳۸ء میں شادی کر لی تھی مگر مقدر نے انہیں بے بر گ و بار رکھا۔ ۱۹۷۴ء میں ان کی اہلیہ کا انتقال ہو گیا۔ بقول دانش وہ خود بھی شاعرہ تھیں۔
 
غضنفر نواب دانش کا پہلا مجموعہ کلام’’ پرواز‘‘ ۱۹۵۴ء میں زیور طبع سے آراستہ ہوا۔ اس سے قبل ’’ عقد پروین‘‘ کے نام سے تین اور دوستوں کے ساتھ مل کر ان کا کچھ کلام ۱۹۴۰ء میں منظر عام پر آیا تھا۔ اس لئے دانش اسے اپنا دوسرا مجموعہ کلام کہتے ہیں۔ ان کا مجموعہ کلام ’’ ساز و آواز ۱۹۷۵ء میں منظر عام پر آیا۔ سلطان آزاد اور قمر اعظم ہاشمی نے اس کی تاریخ اشاعت یہی لکھی ہے۔ مگر وہاب اشرفی نے غالباً کسی غلط فہمی کے سبب یہ لکھ دیا ہے کہ دوسرا مجموعہ کلام صرف ایک سال بعد شائع ہوا تھا۔ ان کے دونوں مجموعوں کے کئی ایڈیشن شائع ہوئے۔ ان کا تیسرا شعری کارنامہ ’’ مثنوی اشک غم‘‘ ہے۔ بقول شاعر کم و بیش آٹھ مہینے میں اس کی تکمیل ہوئی اور کئی سو اشعار کہنے کے بعد تلف کر دئیے گئے۔ یہ عظیم آباد کی منظوم ادبی تاریخ ہے جس کے حاشیے میں زیر تذکرہ شعراء کا مختصر تعارف موجود ہے۔ ان کا کچھ کلام غیر مطبوعہ بھی ہے جو مختلف رسالوں میں بکھرا ہوا ہے ۔ مجموعوں میں غزل، نظم، سلام اور رباعی وغیرہ کے نمونے موجود ہیں۔ ’’ مثنوی اشک غم کے اعداد سے سال ۱۹۶۷ء برآمد ہوتا ہے جس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مثنوی اسی سال لکھی گئی تھی مگر بعد میں طبع ہوئی۔ بہر حال یہ ایک نیا اور قابل تعریف کام تھا جس کی اس زمانے میں خاصی پذیرائی ہوئی۔
 
 لسانی تاریخی اور سماجی موضوعات پہ لکھے گئے ان کے بعض مضامین بھی رسائل و اخبارات میں شائع ہوتے رہے ہیں اور یڈیو سے نشر بھی ہوئے ہیں مگر اب ان کا پتہ چلانا دشوار ہے۔ ان کی مجموعی ادبی خدمات کے اعتراف میں بہار اردو اکادمی نے ۱۹۷۹ء میں انہیں خصوصی انعام سے نوازا تھا۔
 
 دانش کلاسیکی طرز سخن کے شاعر ہیں مگر ان کے آہنگ میں دبستان شاد کے سوز و گداز کی جگہ ایک بھر پور توانائی کی کارفرمائی صاف محسوس کی جا سکتی ہے۔ نمونہ کلام کے طور پر ان کی نظم’’ نعرہ اردو ‘‘ برابر پیش ہوتی رہی ہے۔ میں بھی اس کے چند شعر نقل کرتا ہوں۔   
 
حقیقتیں ہم سنا رہے ہیں، فسانہ دوستاں نہیں ہے
 یقین کے ساتھ کہہ رہے ہیں ، قیاس وہم و گماں نہیں ہے
زبان اردو کی وسعتوں کو ریاست و ملک سے نہ پوچھو
کسی میں دم ہو تو منہ سے بولے کہ یہ یہاں ہے وہاں نہیں ہے
حقیر سمجھو نہ تم خدارا ، یہ نالے اب بن چکے ہیں نعرہ
 یہ گونج ہے میرے حوصلوں کی یہ بیکسی کی فغاں نہیں ہے
شکن ہے پیشانی سیاست پہ کیوں مری نکتہ چینوں سے
 یہ باغبانوں پہ تبصرہ ہے شکایتِ گلستاں نہیں ہے
 
ایک غزل کے تین اشعار ملاحظہ ہوں…………………
 جلوے تھے سو کرشمہ آئینہ گر کے بعد
 اب تم ہی تم ہو سرحد فکر و نظر کے بعد
 اے عندلیب اس سے بھی آزاد ہو کے دیکھ
 کوئی قفس نہیں قفس بال و پر کے بعد
 دیوانگی کا اپنی ٹھکانا کہیں نہیں
 صحرا کو بھی تباہ کیا اپنے گھر کے بعد
 
 ایک رباعی بھی دیکھئے۔………………………
شغل مئے گلفام سے مہلت ہی نہیں
اس کار مبارک سے فراغت ہی نہیں
 دنیا کا ہر اک مسئلہ حل ہو جاتا
 رندانِ بلا نوش کو فرصت ہی نہیں
 
(بشکریہ: بہار کی بہار عظیم آباد بیسویں صدی میں ،تحریر :اعجاز علی ارشد،ناشر: خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری، پٹنہ)
 
************************
 
You are Visitor Number : 1558