donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Syed Zeyaur Rahman Zeya
Poet
--: Biography of Syed Zeyaur Rahman Zeya :--

 

 سید ضیاء الرحمن ضیاء 
 
 
سید ضیاء الرحمن (تخلص ضیائ) ابن سید مجیب الرحمن ۲۵ جنوری ۱۹۴۷ء کو پٹنہ کے تاریخی محلے صادق پور میں پیدا ہوئے۔ محمڈن اینگلو عربک ہائر سکنڈری اسکول سے میٹرک پاس کرنے کے بعد گورنمنٹ پرائمری اسکول عباداللہ چک ، پرسا( ضلع پٹنہ) میں مدرس ہوگئے۔
 
ضیاء کے ادبی ذوق کی آبیاری میں اسکول کے استاد ناصر زیدی نے خاص طور پر حصہ لیا۔ وہ ’’ شگوفہ ‘‘ کے نام سے بچوں کا ایک رسالہ نکالا کرتے تھے۔ اس میں دوسرے طالب علموں کے ساتھ ضیاء کی کاوشوں کو بھی جگہ ملتی تھی۔ انہوں نے شعر گوئی کا باضابطہ آغاز ہائی اسکول کا امتحان پاس کرنے کے بعد کیا۔ کم و بیش چالیس برس کے بعد ادبی سفر میں وہ شاعری کی مختلف اصناف پر طبع آزمائی غزلیں کہہ چکے ہیں جن کا مزاج مجموعی طور پر کلاسیکا ہے لیکن تجربات کی سچائی اور انداز بیان کی آراستگی کے سبب اشعار میں تاثیر کی کمی نہیں۔ نمونہ کلام کے طورپر ایک نعت پاک اور مشکل زمین میں کہی گئی ایک غزل کے چند اشعار ملاحظہ ہوں۔
 
 وجہِ تخلیق کون و مکاں آپ ہیں 
 دین و دنیا کی روحِ رواں آپ ہیں
 رہبر کاروانِ جہاں آپ ہیں
 منزل حق کا واحد نشاں آپ ہیں
 حسنِ اخلاق کی انتہاء دیکھئے
 اپنے دشمن پہ بھی مہر باں آپ ہیں
 کاش! عمر رواں اب گذرتی ضیا
 اس مقدس نگر میں جہاں آپ ہیں
٭٭٭
زیب تن کرتے نہیں ہم مہر بانی کا لباس
 ہے ہمارے پاس اپنے جاں فشانی کا لباس
 ہو گیا بوشیدہ اپنے زندگانی کا لباس
 اب اترنا چاہئے یہ عمر فانی کا لباس
راہِ حق میں بے جھجھک جو نذر کر دیتے ہیں جاں
 ان کو ملتا ہے حیاتِ جاودنی کا لباس
 موجِ طوفاں کے مقابل جو رہا سینہ سپر
 بس اسی کے واسطے ہے کامرانی کا لباس
 
(بشکریہ: بہار کی بہار عظیم آباد بیسویں صدی میں ،تحریر :اعجاز علی ارشد،ناشر: خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری، پٹنہ)
 
 
***************************
 
 
You are Visitor Number : 1469