donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Tamanna Emadi
Poet/Writer
--: Biography of Tamanna Emadi :--

 

 تمنا عمادی 
 
 
 سید حیات الحق محمد محی الدین والد شاہ نذیر الحق ۱۴؍جون۱۸۸۸ کو پھلواری شریف ( پٹنہ ) میں پیدا ہوئے۔ ان کے احوالِ زندگی دبستانوں کا دبستان کراچی از حسین احمد صدیقی جلدو دوم ( مطبوعہ پاکستان) تذکرہ معاصرین از ملک رام، جلد دو م ( مکتبہ جامعہ لیمٹیڈ) اور تاریخ ادب اردو از وہاب اشرفی جلد سوم ( مطبوعہ دہلی) اور کچھ دوسری کتابوںمیں خاصی تفصیل سے درج ہیں۔ جن کا خلاصہ یہ کہ والدین نے ان کا نام سید حیات الحق رکھا تھا مگر وہ اپنے نانیہالی نام محمد محی الدین کے نام سے مشہور ہوئے۔ ان کے والد نے دو شادیاں کی تھیں اور وہ دوسری بیوی مبارک فاطمہ کے فطن سے تھے۔ ان کے والد بھی شاعر تھے اور فائز تخلص کرتے تھے۔ ان کامجموعہ کلام’’ دیوان فائز‘‘ کے نام سے ڈاکٹر خواجہ افضل امام نے ۱۹۶۴ء میں شائع کیا تھا۔ تمنا نے درس نظامی کی تکمیل اپنے والد سے کی او رتعلیم سے فارغ ہو کر کچھ دنوں مدرسہ حنفیہ، پٹنہ میں جو مدرسہ محمدی جان بیگم کے نام سے موسوم تھا۔ ۱۹۱۰ء سے ۱۹۱۸ء تک فارسی اور عربی کے استاد رہے۔ اس کے بعد ودیا پیٹھ( پٹنہ) میں کام کرتے رہے۔ یہاں سے الگ ہوئے تو پھر کہیں ملازمت نہیں کی اور پٹنہ کے مسلم وکیلوں اور دانشوروں کو پرائیوٹ طور پر مذہبی امور خصوصاً قرآن پاک کی تعلیم دینے لگے۔ ان سے استفادہ کرنے والوں میں سر فخر الدین (وفات۔۱۹۳۳) بھی تھے ان کی وفات کے بعد تمنا عبد العزیز بیرسٹر وزیر تعلیم بہار کے مشیر خاص بن گئے۔ اور جب وزیر موصوف حیدر آباد دکن تشریف لے گئے تو یہ بھی ان کے ساتھ گئے۔ وہاں سو روپے ماہانہ وظیفہ مقرر ہوا جو ہندستان چھوڑ نے تک برابر ملتا رہا۔ وہ ایک پابند شریعت بزرگ تھے۔ جو اپنی خاندانی روایات کے مطابق تاعمر مختلف نوع کی عبادت و ریاضت میں مشغول رہے۔
 
تقسیم ہند کے بعد ۱۹۴۸ء میں وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ ڈھاکہ ( مشرقی پاکستان) چلے گئے۔ علمی و ادبی کتابوں کا وسیع ذخیرہ کچھ تو اپنے ساتھ لے گئے اور کچھ خانقاہ مجیبیہ ، خانقاہ سلیمانیہ اور گورنمنٹ اردو لائبریری، پٹنہ کے حوالے کر گئے۔ ڈھاکہ میں کچھ دنوں تک ریڈیو سے درس قرآن کا سلسلہ جاری رکھا پھر اپنے بیٹے انعام الدین ( انجینئر) کے پاس چاٹگام منتقل ہو گئے جو وہیں ٹھیکے وغیرہ کا کام کرتے تھے۔ چند برسوں بعد وہاں سے بھی نقل مکانی کرکے کراچی چلے گئے۔ اور یہیں اپنی نا مکمل تصانیف کو مکمل کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔ مگر زندگی نے زیادہ وفا نہیں کی۔ پہلے آنکھوں کا آپریشن کرایا جو کامیاب رہا لیکن فوراً ہی حلق کے کینسر میں مبتلا ہو کر ۲۷ نومبر ۱۹۷۲ء کو راہی ملک عدم ہو گئے۔ کراچی کے گلشن اقبال( قبرستان) میں مدفون ہیں۔
 
موصوف کی ادبی زندگی کا آغا شاعری سے ہوا۔ تمنا تخلص اختیار کیا اور ایک اہم روحانی سلسلے سے تعلق کے سبب عمادی مجیبی کو اپنے قلمی نام کا حصہ بنا لیا۔ علمی استعداد ایسی تھی کہ اردو کے علاوہ فارسی اور عربی زبانوں میں بھی شعر کہتے رہے۔اس سلسلے کے بعض واقعات تذکرہ حسین احمد صدیقی کی کتاب میں موجود ہے۔ شاعری کے سلسلے میں انہوں نے عبد الاحد شمشاد لکھنوی سے مشورہ حاصل کیا اور فارسی و عربی کے سلسلے میں مولانا شبلی نعمانی کی رہنمائی حاصل کی۔ ان کا کلام اپنے زمانے کے اہم رسائل میں شائع ہوتارہا مگر شاعری سے وہت بہت جلد بیزار ہو گئے۔ جناب مالک رام کا خیال ہے کہ اس بیزاری کا سبب قرآن پاک کا غائر مطالعہ تھا جس کے بعد انہوں نے شعر گوئی سے خود کو تقریباً علیحدہ کرلیا۔بہر حال ان کے کلام کا کچھ حصہ ان کے پوتے سید نعمان بزمی نے ’’ سخنہائے تمنا‘‘ کے نام سے ۲۰۰۲ء میں شائع کیا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے بہت سے عربی قصائد و مثنویاں۱۹۴۸ء سے قبل ہی طبع شدہ ہیں مگر اب ان کا پتہ نہیں چلتا۔ اردو دنیا میں تمنا عمادی کی اصل شہرت کا آغاز اس وقت ہوا جب انہوں نے خانقاہ عمادیہ منگل تالاب پٹنہ سیٹی کے کتب خانے سے ایک مختصر رسالہ سیدھا راستہ تلاش کرکے اسے بہار میں اردو ادب کا پہلا نمونہ قرار دیا۔ بعد کے دنوں میں مشہور محقق عبد الودود نے اس کی قدامت ( سال تصنیف۱۰۸۱ھ) پر شک کا اظہار کیا اور ایک طویل علمی بحث شروع ہوئی جس میں پروفیسر اختر اورینوی اور آگے چل کر پروفیسر وہاب اشرفی بھی شریک رہے۔ لیکن خود تمنا تحقیق کے اس سلسلے کو بھی آگے نہیں بڑھا سکے اور مجموعی طور پر ان کی علمی و ادبی خدمات اسلامی علوم ، تفسیر ، حدیث ، فقہہ اور تصوف سے متعلق تصانیف سے عبارت ر ہیں جن میں بقول مالک رام ایک اجتہادی نقطہ نظر کار فرما ہے۔ ان کی تصانیف میں ’’ اعجاز القرآن اور اختلاف قرآن‘‘ امام زہری و امام طبری’’ انتظار مہدی و مسیح ’’ جمع القرآن ، مذاکرہ وراثت اور کلام قرآن کی روشنی میں‘‘ خاص ہیں۔
 
(بشکریہ: بہار کی بہار عظیم آباد بیسویں صدی میں ،تحریر :اعجاز علی ارشد،ناشر: خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری، پٹنہ)
 
*****************************
 

 

 
You are Visitor Number : 2217