donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Tamanna Muzaffarpuri
Writer
--: Biography of Tamanna Muzaffarpuri :--

 

 تمنا مظفر پوری 
 
 
اسرار احمد ( قلمی نام : تمنا مظفرپوری) ولد احرار سید محمد عمر دراز تعلیمی سند کے مطابق ۱۷ نومبر ۱۹۴۳ء کو محمد پور مبارک ضلع مظفر پور میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد حضرت جنداہا (حالیہ ضلع ویشالی) سے ہجرت کرکے وہاں بس گئے تھے اس لئے خود کو جائے پیدائش کی نسبت سے مظفر پوری لکھتے ہیں۔ ان کا سلسلہ نسب ۱۷ ویں صدی کے مشہور بزرگ حضرت مخدوم شاہ علیؒ شطاری سے ملتا ہے۔ جو حضرت امام تاج فقیہ ( فاتح منیر) کے خانوادے سے تعلق رکھتے تھے۔ خاندان میں چوں کہ پیری مریدی کا سلسلہ قائم نہیں رہا تھا۔ اس لئے تمنا کے دادا جی پور کورٹ میں پریکٹس بھی کرتے تھے۔ اور انگریزوں کے خلاف سیاست میں حصہ لیتے ہوئے انہوں نے زمینداری کا بڑا حصہ کانگریس پارٹی کو دان میں دے دیا تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے والد نے حصول تعلیم کے بعد سرکاری ملازمت اختیار کر لی اور انہیں بھی رام دیالو سنگھ کالج سے بی اے پاس کرنے کے بعد انڈسٹریل کمسٹر شوگر کین اکانومی لیبر لاء اینڈ انڈسٹریل ایکٹ وغیرہ کے اسپیشل کورسیز کرکے بہار اسٹیٹ شوگر کارپوریشن میں ملازمت کرنی پڑی جہاں سے بحیثیت لیبر ویلفیئر آفسر گورا رو چینی میل گیا۔ نومبر ۲۰۰۳ء میں سبک دوش ہو ئے۔۱۹۶۶ء میں شاہینہ خاتون بنت سید جمیل احمد سے شادی ہونے کے بعد پٹنہ سے مستقل تعلق ہو گیا تھا۔۱۹۹۵ء میں ہیں اپنا ذاتی گھر بھی بنا لیا جہاں اب تک قیام پذیر ہیں۔
 
تصوف اور علم و ادب کا ذوق تمنا مظفر پوری کو وراثت میں ملا۔ ان کے والد خود شاعر تھے اور مذہبی امور سے بھی خاصی دلچسپی رکھتے تھے گھر میں تعلیم کا بھی چرچا تھا۔ اور علم و ادب کا بھی۔ تمنا مشاعروں میں غزلیں سنائیں مگر ۵۹۔۱۹۵۸ء میں جب وہ انڈسٹریل کیمسٹری کا کورس کرنے پٹنہ کے سائنس کالج میں داخل ہوئے تو رضا نقوی واہی، صابر آروی، اور احمد جمال پاشا کی حوصلہ افزائی نے انہیں شاعری کی جگہ طنز و ظرافت کی طرف مائل کر دیا۔
 
پہلی بار انہوں نے ولی منزل، پٹنہ ( اب دیپ گنگا اپارٹمنٹ) کی ایک ادبی نشست میں اپنا طنزیہ مضمون سنایا۔ پھر یہ سلسلہ چل پڑا۔ تمنا خودبھی نثر نگاری کرتے رہے اور ادبی انجمنوں کی تشکیل میں بھی معاون رہے۔ زندہ دلان بہار کی ایک شاخ انہوں نے گیا میں قائم کی جس کے تحت ادبی نشستیں ہوتی رہیں۔ پٹنہ کی ادبی محفلوں اور سمیناروں میں بھی ان کی شرکت ناگزیر رہی۔ طنز و ظرافت کے علاوہ انہوں نے ڈرامہ نگاری اورادب و اطفال سے بھی اپنا رشتہ جوڑا اور خاصی شہرت پائی۔ پردے کے سامنے اور الٹے قلم سے پر انہیں بہار اردو اکادمی سے انعام ملا۔ ۲۰۰۷ء میں ان کی ظرافت نگاری پر تحقیقی مقالہ لکھ کر ریسرچ اسکالر محمد ثناء اللہ نے بی آر امبید کر بہار یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ اب تک ان کی درج ذیل کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔
 
(۱) ظرافت اور اور چند ظریف ہستیاں ( بچوں کا ادب) ۱۹۸۲ء ناشر نسیم بک ڈپو لکھنو
(۲) تمنا پنچ( طنز و مزاح) ۱۹۸۴ء فخر الدین علی احمد میموریل کمیٹی کے مالی تعاون سے۔
(۳) پردے کے سامنے سے ( ڈرامہ) ۱۹۸۸ء بہار اردو اکادمی کے مالی تعاون سے۔
(۴)کلیات احرار ( مع حالات زندگی و شجرہ خاندان حضرت جنداہا) ۲۰۰۳( ترتیب) 
(۵)الٹے قلم سے ( طنزو مزاح) ۱۹۹۳ء فخر الدین علی احمد میموریل کمیٹی کے مالی تعاون سے۔
(۶)کہتا ہوں سچ کہ…( انشائیہ طنزو  مزاح) ۲۰۰۷ء بہار اردو اکادمی کے مالی تعاون سے۔
 
عقلمند بچے ( بچوں کا ادب) قاضی کا بستہ ( طنز و مزاح) اور مقالاتِ تمنا کے زیر اشاعت ہونے کی اطلاع ہے۔
 
 تمنا مظفر پوری کے طنزیہ مزاحیہ مضامین میں کوئی گہرا فلسفہ زندگی نہیں ہے۔ بلکہ زندگی کی چھوٹی موٹی ناہموار یوں کو سیدھے سادے الفاظ میں بیان کرکے سادگی میں پرکاری پیدا کرنے کا عمل ہے۔ ان کے اکثر مضامین میں ایک فرضی کردار آزاد ان کے ہمزاد کے طور پر ابھرتا ہے اور جو باتیں وہ خود نہیں کہنا چاہتے اسے آزاد کی زبان سے ادا کر دیتے ہیں۔ میں ’’ ہم‘‘ ،’’ وہ‘‘ اور ت م پیش تم‘‘ جیسے مضامین تمنا کی جدت فکر اور شوخی طبع کے عمدہ نمونے ہیں۔ ان کے بعض مضامین میں انشائیہ  کی کیفیت نمایاں رہتی ہے۔ مگر عام طور پر وہ اپنے موضوعات سے زیادہ انحراف نہیں کرتے۔ ان کا اسلوب شگفتہ اور رواں ہے۔ جس کی دلکشی میں بلیغ جملوں کی بر وقت پیش کش سے اضافہ ہو جاتا ہے۔
 
(بشکریہ: بہار کی بہار عظیم آباد بیسویں صدی میں ،تحریر :اعجاز علی ارشد،ناشر: خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری، پٹنہ)
 
***********************************

 

تمنا مظفرپوری: بنیادی طور پر طنز ومزاح نگار ہیں دوسرے نمبر پرمضمون نگار اور تیسرے نمبر پر افسانہ نگار ہیں آٹھ دس افسانے شائع ہوچکے ہیں ایک افسانہ ان کے مختلف قسم کے مضامین کا مجموعہ تمنا پنچ میں بھی شامل ہیں ان کے افسانوں میں سماج کی بے راہ روی اور غیر متوازن زندگی پر طنزہے، وہ انسان کو انسانیت کا پیغام دینے اور انسان بننے کی صلاح دیتے ہیں۔ ۱۷؍نومبر ۱۹۴۲ء کو محمد پور مظفر پور میں پیداہوئے پہلا افسانہ ،میری گلی کے بڈھے، ۱۹۵۹؍ میں شائع ہوا، دوکتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔
 
’’بشکریہ بہار میں اردو افسانہ نگاری ابتدا تاحال مضمون نگار ڈاکٹر قیام نیردربھنگہ‘‘’’مطبع دوئم ۱۹۹۶ء‘‘
++++
 
 
You are Visitor Number : 2052