donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Wahab Ashrafi
Writer
--: Biography of Wahab Ashrafi :--

 

 وہاب اشرفی 

Name: Syed Abdul Wahab Ashrafi
Pen Name:- Wahab Ashrafi
Father's Name:- Syed Shah Haji Imamuddin
Date of Birth:- 2, June 1936
Place of Birth::- B.B Pur, (Kako, Jahanabad)
 
اصل نام : سید عبد الوہاب اشرفی
ولدیت : سید شاہ حاجی امام الدین
سیدہ تسلیمہ
تاریخ پیدائش : ۲ جون ۱۹۳۶
جائے پیدائش : بی بی پور (کاکو، جہان آباد)
 
وہاب اشرفی کا اردو ادب میں نقاد کی حیثیت سے بڑا اہم اور معبتر نام ہے۔ بطور نقاد ان کا قد اتنا بلند ہو گیا ہے کہ ان کے ابتدائی سفر صحافت کی روداد تقریباً معدوم ہو چکی ہے۔ وہاب
اشرفی کو چند سال قبل ان کی مشہور کتاب تاریخ ادب اردو ’’پر ساہتیہ اکاڈمی کا پروقاد ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔
وہاب اشرفی نے اپنی طالب علمی کے زمانہ میں ہی صحافت کو اپنا یا، درمیان میں جب ان کی اردو کے استاد کی حیثیت سے تقرری ہوئی اورکئی اعلیٰ عہدوں پر وہ فائز رہے، اس وقت تک وہ تنقیدی ادب میں کا رہائے نمایاں انجام دے کر پوری ادبی دنیا میں چھاگئے، لیکن اب وقت جبکہ وہ سبکدوشی میں وقت گزار رہے ہیں، اپنی صحافتی پیاس بجھانے کے لئے ایک بار صحافت سے جڑ گئے اور ایک معیاری رسالہ ’’مباحثہ‘‘ کے ذریعہ ادبی صحافت کے معیار اور وقار کو بلند کر رہے ہیں۔
وہاب اشرفی کی ابتدائی اور دینی تعلیم ان کے آبائی گائوں بی بی پور ہی میں ان کے ایک رشتہ دار مولوی یعقوب کی نگرانی میں ہوئی اور انہوں نے بہت کم عمر میں ہی ناظرہ قرآن مکمل کیا۔ اس کے بعد کا کو مڈل اسکول میں کچھ عرصہ تک تعلیم کا سلسلہ رہا، پھر وہ کلکتہ چلے گئے، جہاں کے اسلامیہ اسکول اور مدرسہ عالیہ سے دسویں درجہ تک کی تعلیم حاصل کی اور پھر انہیں ڈھاکہ (موجودہ بنگلہ دیش) جانا پڑا اور وہیں کے رحمت اللہ ہائی اسکول سے ۱۹۵۱میں میٹرک پاس کیا۔ میٹرک پاس کرنے کے بعد آگے کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے ان کا داخلہ قائدا عظم محمد علی جناح کالج، ڈھاکہ میں آئی۔ کام۔ میں کرایا گیا، لیکن سیاسی اتھل پتھل کی وجہ کر انہیں بغیر امتحان دئے ہی کلکتہ لوٹنامیں پڑا، جہاں کے سیٹی کالج سے ۱۹۵۴میں انٹر پاس کیا اور پھر ۱۹۵۶میں سنٹرل کالج، کلکتہ سے بی۔ اے۔ آنرز (انگریزی) میںامتیازی نمبروں سے کامیابی حاصل کی۔ ۱۹۶۰میں بہار یونیورسٹی سے انگریزی اور ۱۹۶۲میں اردو میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔ اسی یونیورسٹی سے انہوں نے فارسی میں ایم۔ اے۔ اور قانون کی بھی ڈگریاں لیں اور پروفیسر اختر قادری کی سرپرستی میں وہ آگے بڑھتے گئے۔ مگدھ یونیورسٹی کے گیا کالج سے درس و تدریس کا سلسلہ شروع ہوا اور رانچی یونیورسٹی کے صدر شعبہ اردو اور اس کے بعد کئی اعلیٰ عہدوںپر فائز رہے۔
وہاب اشرفی کی صحافت کا سلسلہ طالب علمی کے زمانہ ہی سے شروع ہوا، جب وہ کلکتہ میں انٹر کے طالب علم تھے اور انہیں مالی دشواریوں کا سامنا ہوا، تو انہیں بھی کئی باصلاحیت نوجوان کی طرح اردو صحافت کی پناہ میں آنا پڑا اور اس زمانہ کے مشہور اخبار روز نامہ ’’عصر جدید‘‘ سے وابستہ ہو گئے اور انگریزی اخبارات کی خبروں کے ترجمے کرنے لگے، اس کام سے ایک طرف جہاں ان کی مالی مشکلات میں کمی آئی وہیں دوسری طرف ان کے ذوق و شوق کی تکمیل بھی ہوئی۔ عصر جدید میں کام کرنے کا تجربہ انہیں کام آیا اور بعد میں انہوں نے اردو روزنامہ ’’اخوت‘‘ میں جس کے مدیر ناظر الحسینی تھے کام کرنے لگے، شین مظفر پوری جیسے اس زمانہ کے مشہور صحافی بھی وہاب اشرفی کی ایماء پر اس اخبار سے منسلک ہو گئے۔ ’’اخوت‘‘ کا بہت جلد مقبول اخباروں میں شمار ہونے لگا۔ لیکن اسی دوران ان کی پٹنہ میں لائف انشورنس کا ر پوریشن میں تقرری ہو گئی۔ اس تقرری سے وہاب اشرفی کی معاشی حالت میں بظاہر استحکام آ گیا لیکن صحافت کی پیاس انہیں ستاتی رہی اور اس پیاس کو بجھانے کے لئے انہوں نے اپنے دوست سید رفیع احمد کے تعاون اور وساطت سے ایک شاندار ماہنامہ ’’صنم‘‘ ۱۹۵۸سے نکالنا شروع کیا، یہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد اور معیاری ماہنامہ تھا، جس کی پیشکش میں ندرت اور بلا کا حسن تھا، چند شماروں کے بعدسے  ہی اردو کے ادبی حلقے کا مقبول ترین ماہنامہ بن گیا۔ جنوری ۔ اپریل ۱۹۵۹میں شائع اس کے ’’بہار نمبر‘‘ نے تودھوم مچادی۔ اس نمبر کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ آج بھی لوگ اسے تلاش کر اس کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں۔ صنم کا افسانہ نمبر بھی اپنی نوعیت کا منفرد نمبر شائع ہوا۔  لیکن افسوس معاشی بد حالی کا صنم بھی شکار ہو کر بند ہو گیا۔ اس کے بعد وہاب اشرفی نے اردو لکچرر کی حیثیت سے گیا کالج جوائن کیا اور گیا کی ادبی و صحافتی فضا بھی انہیں خوب راس آئی۔ کلام حیدری کے ہفتہ وار ’’مورچہ‘‘ اور ماہنامہ ’’آہنگ‘‘ میں درپردہ انہوں نے اپنی صحافتی جوہر کے خوب خوب گل و بوٹے کھلائے اور بہت عرصہ تک ’’مورچہ‘‘ میں ’’اپنا صفحہ‘‘ کے عنوان سے ادبی کالم لکھتے رہے۔ جو ادبی حلقوں میں کافی مقبول ہوا۔
گیا کے بعد وہاب اشرفی کی تقرری رانچی یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں صدر شعبہ کی حیثیت سے ہو گئی۔ جہاں سے انہوں نے ’’نئی قدریں‘‘ کے نام سے ایک شاندار مجلہ نکالنا شروع کیا جو عالمی ادب کی سمت ورفتار کی افہام و تفہیم میں بے حد معاون ثابت ہوا۔ رانچی کے بعد جب وہاب اشرفی پٹنہ پہنچے اور کئی اعلیٰ عہدوں پر فائز رہنے کے بعد سبکدوش ہوئے، تب ان کی صحافتی پیاس نے شدت اختیار کر لی اور اپنی اس پیاس کو بجھا نے کے لئے ایک بار پھر انہوں نے صحافت کو اپنا یا اور ایک بے حد معیاری ادبی رسالہ ’’مباحثہ‘ کا اجراء کیا، جس کے اب تک۳۴ شمارے شائع ہو چکے ہیں۔ اس کا ہر شمارہ وہاب اشرفی کے علم و فن کا اعلیٰ نمونہ ہوتا ہے۔ پورے بر صفیر میں اس کی شہرت ہے۔ اس میں شائع ہونے والی تخلیقات اور مضامین کا تعارف اداریہ میں وہ اس انداز سے کرتے ہیں کہ قاری پڑھنے پر مجبور ہو جاتا ہے ۔ہم مشمولات سے مزئین اس رسالہ کی ایک الگ شان ہے۔ کتابوں پر جو تبصرے وہاب اشرفی کرتے ہیں، ان میں ایک خاص معیار اور وقار جھلکتا ہے۔ خدا کرے یہ سفر جاری رہے اور ادبی صحافت کا معیار اور وقار بلند ہوتا رہے۔
(بشکریہ ڈاکٹر سید احمد قادری، گیا)
 
 وہاب اشرفی 
 
 
 سید عبد الوہاب اشرفی ( قلمی نام: وہاب اشرفی) ولد سید شاہ امام الدین تعلیمی سند کے اعتبار سے ۲؍ جون ۱۹۳۶ء کو بی بی پور ، کاکو( موجودہ ضلع جہان آباد) میں پیدا ہوئے۔ سلسلہ اسلاف حضرت تاج فقیہہ سے ملتا ہے۔ ابتدائی تعلیم گائوں میں ہی اپنے ایک رشتہ دار مولوی یعقوب کی نگرانی میں حاصل کی۔ کم عمری میں ناظرہ قرآن مکمل کیا۔ اور اردو فارسی کی ابتدائی کتابیں پڑھیں۔ اس کے بعد کاکو میڈل اسکول میں کچھ عرصہ زیر تعلیم رہے اور پھر کلکتہ چلے گئے۔ وہاں اسلامیہ اسکول اور مدرسہ عالیہ میں دسویں تک حصول تعلیم کے بعد ڈھاکہ (موجودہ بنگلہ دیش) گئے۔ رحمت اللہ ہائی اسکول ڈھاکہ سے ۱۹۵۱ء میں میٹرک پاس کیا اور ۱۹۵۲ء میں سیاسی خلفشار کے سبب واپس کلکتہ آکر سیٹی کالج سے ۱۹۵۴ء میں آئی اے سنٹرل کالج سے ۱۹۵۶ء میں بی اے ( انگریزی آنرس) کے امتحانات پاس کئے۔ ایم اے (تقابلی لسانیات) کورس میں داخلہ لیا مگر ۱۹۵۸ء میں لائف انشورنس کاپوریشن میں اسسٹنٹ کی ملازمت مل جانے کے سبب تعلیم مکمل چھوڑ کر پٹنہ آگئے۔۱۹۶۰ء میں بہار یونیورسٹی مظفر پور سے انگریزی میں ایم اے کیا۔ ۱۹۶۲ء میں ایم اے (اردو) اور ۱۹۶۴ء میں ایم اے فارسی کا امتحان اسی یونیورسٹی سے طلائی تمغہ کے ساتھ پاس کیا۔ اسی سال یونیورسٹی گرانٹس کمیشن سے قادری کی نگرانی میں پیچ ایچ ڈی مکمل کیا۔ ۱۹۶۹ء میں بہار یونیورسٹی سے بی ایل بی کیا مگر وکالت کبھی نہیں۔ ۱۹۵۸ء میں رشتہ ازدواج سے منسلک ہوئے۔ ما شاء اللہ چار بیٹے شکیل اشرفی (انجینئر) افروز اشرفی( لکچرر انگریزی) انجم اشرفی ( لکچرر تاریخ) اور شہیر اشرفی بر سر روز گار اور صاحب اولاد ہیں۔
 
 وہاب اشرفی کئی ملازمتوں سے وابستہ رہے۔ لائف انسورنش کی ملازمت تقریباً پانچ چھ سال کی۔ کچھ دنوں بہار یونیورسٹی میں Leave Vacancy پر عارضی طور سے بحیثیت لکچرر کام کیا۔ اروند مہیلا کالج ، پٹنہ میں اردو لکچرر کی حیثیت سے کام کیا۔ اور بالآخر جولائی۱۹۷۶ء سے مارچ ۱۹۹۴ء تک رانچی یونیورسٹی (موجودہ ریاست جھارکھنڈ) میں صدر شعبہ اردو کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ ۱۹۹۴ء میں بہار اسٹیٹ یونیورسٹی سروس کمیشن کے چیر مین ہو کر مستقل طور سے پٹنہ آگئے۔ ۱۹۹۸ء میں مدت کار ختم ہونے کے بعد بہار انٹر میڈیٹ ایجو کیشن کائونسل کے چیر مین ہوئے جہاں سے ۲۰۰۲ء میں سبکدوش ہونے کے بعد تحقیق و تصنیف کے کاموں میں مشغول ہیں اور ’’ مباحثہ‘‘ کے نام سے ایک سہ ماہی ادبی رسالہ بھی نکال رہے ہیں۔ اس سے قبل وہ ۶۰۔۱۹۵۹ء میں پٹنہ سے ’’ صنم‘‘ کے نام سے ایک تاریخ ساز رسالہ شائع کر چکے ہیں۔
 
ملاز مت کی طرح وہاب اشرفی کی ادبی سرگرمیا ں بھی مختلف النوع رہی ہیں۔ ڈاکٹر ہمایوں اشرف کی اطلاع کے مطابق (کتاب نما دہلی کا وہاب اشرفی نمبر مطبوعہ مرچ ۔۲۰۰۵ء ) ان کی ادبی زندگی کا آغاز شعر گوئی سے ہوا۔ پہلے شعر اور پہلی غزل کی اشاعت روز نامہ’’ اخوت‘‘ کلکتہ میں ۱۹۵۵ء کے کسی شمارے میں ہوئی۔ اسی سال روز نامہ’’ ہند‘‘ کلکتہ میں پہلی نظم بھی شائع ہوئی۔ اس کے بعد وہ تنقید نگاری کی طرف بھی متوجہ ہوئے اور افسانہ نگاری کی جانب بھی ان کا پہلا افسانہ’’ اپنی اپنی راہ‘‘۱۹۵۸ میں بیسویں صدی دہلی میں اور پہلا تنقیدی مضمون ’’ تاباں القادری کی شاعری‘‘ ۱۹۵۶ء میں شائع ہوا۔ ۱۹۶۵ء تک انہوں نے تواتر کے ساتھ افسانے لکھے جن کا بڑا حصہ ڈاکٹر احمد حسین آزاد نے’’ وہاب اشرفی کے افسانے ‘‘ کے نام سے مع مقدمہ ۱۹۸۶ء میں شائع کیا ہے۔ مگر بہر حال کچھ افسانے ضائع بھی ہو گئے۔ ان کی شہرت کا آغاز گیا میں قیام کے دوران محمود ہاشمی اور شمس الرحمن فاروقی کے ساتھ ان کی اس ادبی معرکہ آرائی سے ہوا جو افسانے کی صنفی حیثیت سے متعلق تھی اور ہفتہ وار ’’ مورچہ (مدیر : کلام حیدری) میں مسلسل تین ماہ تک شائع ہوتی رہی۔ اس ادبی معرکہ کو ڈاکٹر ارتضیٰ کریم نے کتابی شکل میں شائع کر دیا ہے۔ وہاب اشرفی کی ادبی خدمات اور احوال آثار سے متعلق ونوبا بھاوے یونیورسٹی میں ایک اور بی آر اے بہار یونیورسٹی میں دو تحقیقی مقالے پی ایچ ڈی کے لئے کھے جا چکے ہیں۔ ایک تحقیقی مقالہ رانچی یونیورسٹی میں جمع ہوا ہے۔ اس کے علاوہ کئی یونیورسٹیوں میں ان کی تنقید نگاری پر ایم فل کے لئے بھی مقالات لکھے جانے کی اطلاع ہے۔ ان میں سے ایک تحقیقی مقالہ’’ وہاب اشرفی ۔ شخصیت اور فن‘‘ کے عنوان سے ایجو کیشن پبلکشنگ ہائوس نئی دہلی کے زیر اہتمام ڈاکٹر مناظر حسن، نے شائع کیا ہے۔ دو اور کتابیں’’ وہاب اشرفی کا ادبی سفر‘‘ از سرور کریم اور ’’ وہاب اشرفی منفرد نقاد اور دانشور ( مرتب : ڈاکٹر ہمایوں اشرف )منظر عام پر آچکی ہیں۔ میری کتاب’’ بہار میں اردو تنقید مطبوعہ۱۹۸۱ء میں ایک باب وہاب اشرفی سے متعلق ہے میں سمجھتا ہوں کہ ان کی تقنید نگاری سے متعلق پہلا مضمون ہے جو کتابی شکل میں سامنے آیا ہے۔ چند دنوں قبل ڈاکٹر شہناز خاتون کی ایک کتاب ما بعد جدیدیت اور وہاب اشرفی کا تنقیدی رویہ‘‘ منظر عام پر آئی ہے۔ ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں ۲۰۰۷ کا ساہتیہ اکادمی ایوارڈ مل چکا ہے۔ اس کے علاوہ ۱۹۹۴ء صدر جمہوریہ ہند کے ہاتھوں بھارتیہ بھاشا پریشد ایوارڈ ،۱۹۸۵ء میں سجاد ظہیر ایوارڈ، ۱۹۹۶ء میں حکومت بہار محکمہ راج بھاشا کا یحییٰ منیری ایوارڈ ، میر اکیڈمی کا میر ترقی میر ایوارڈ،۲۰۰۱ء میں غالب ایوارڈ اور ۱۹۹۰ء میں بہار اردو اکادمی’’ کلیم الدین احمد ایوارڈ‘‘ بھی حاصل ہو چکا ہے۔ مختلف ادبی پروگراموں کے سلسلے میں انہوں نے کئی بار یورپ، متحدہ عرب امارات اور ماریشس کا سفر کیا ہے جس کی تفصیل کتاب نما کے مذکورہ بالا مضمون میں دیکھی جا سکتی ہے۔ اب تک ان کی جو تصنیفات و تالیفات منظر عام پر آچکی ہیں ان کی ایک فہرست پہلے ایڈیشن کے سال اشاعت کے ساتھ درج ذیل ہے۔ یہ نکتہ قابل ذکر ہے کہ وہاب اشرفی کی اکثر کتابوں کے کئی ایڈیشن شائع ہوتے رہے ہیں اور ان کے بہت سارے مضامین ایسے بھی ہیں جو اب تک کتابی شکل میں نہیں آسکے ہیں۔
 
٭ قطب مشتری: ایک تنقیدی جائزہ۔۱۹۶۷ئ٭ سیر اردو ( انتخاب برائے نصاب)۔۱۹۷۰٭ قدیم ادبی تنقید ۔۱۹۷۳ئ٭ شاد عظیم آبادی اور ان کی نثر نگاری ۔۱۹۷۵٭ معنی کی تلاش ( مقالات کا مجموعہ ) ۔۱۹۷۸ئ٭کہانی کے روپ(انتخاب مع مقدمہ )۱۹۷۹٭ نقوش ادب (انتخاب برائے نصاب۔۱۹۸۰٭ مثنویات میر کا تنقیدی جائزہ۔۱۹۸۱٭مثنوی اور مثنویات ترتیب متن مع مقدمہ ۔۱۹۸۲٭ کاشف الحقائق ( ترتیب متن مع مقدمہ)۱۹۸۲ئ٭سہیل عظیم آبادی اور ان کے افسانے ۱۹۸۲٭ پطرس اور ان کے مضامین۔ ۱۹۸۵٭ راجندر سنگھ بیدی کی افسانہ نگاری ( اپنے دکھ مجھے دے دو کی روشنی میں) ۱۹۸۶۔٭کاشف الحقائق ۔ایک مطالعہ۔۱۹۸۶٭ تفہیم البلاغت۔۱۹۸۶ء ۔ ٭ بہار میں اردو افسانہ نگاری (انتخاب مع مقدمہ )۱۹۸۹٭آگہی کا نظر نامہ ( مقالات کا مجموعہ ) ۱۹۸۹ئ٭ تاریخ ادبیات عالم ( سات جلدوں میں) ۱۹۹۵  تا ۲۰۰۵ء ٭ اردو فکشن اور تیسری آنکھ (مقالات کا مجموعہ) ۱۹۹۵ئ۔ ٭ ما بعد جدیدیت: ممکنات و مضمرات۔۲۰۰۲٭ مجروح سلطان پوری ( مونو گراف)۔۲۰۰۳۔ تاریخ ادب اردو ( تین جلدوں میں )۲۰۰۵۔ ٭معنی سے مصافحہ( مقالات کا مجموعہ ) ٭ قصہ بے سمت زندگی کا (خود نوشت (۲۰۰۸ء ) ٭ نکتہ نکتہ تعارف ( تبصرے اور تقاریظ) مرتب ڈاکٹر ہمایوں اشرف ۔
 
 ادبیات عالم خصوصاً انگریزی زبان و ادب کے علاوہ فارسی داب سے وہاب اشرفی کی واقفیت قابل ذکر ہے۔ اور وہ اپنے تنقیدی مطالعوں میں اس سے استفادہ بھی کرتے ہیں۔مگر ان کا تنقیدی نقطہ نظر جامد کبھی نہیں رہا۔ انہیں ترقی پسند تنقید سے تو قربت نہیں رہی۔ لیکن جدیدیت کے نظریات سے وہ خاصے متاثر رہے ہیں۔ اور ایک عرصے تک یہی نقطہ نظر ان کی تنقیدی نگارشات اساس رہا ہے۔ مگر گذشتہ دس برسوں کے دوران ما بعد جدیدیت سے ان کی قربت واضح طورپر سامنے آئی ہے اور انہوں نے ’’ جدیدیت ‘‘ سے گویا توبہ کر لی ہے۔ حال ہی میں شائع شدہ شبر امام کی ایک کتاب’’ عطاء اللہ پالوی : نقیب فکر آگہی) حصہ اول۔ میں وہاب اشرفی پر سوانحی اور ادبی حوالوں سے سخت قسم کے اعتراضات بھی کئے گئے ہیں۔ اس کے باوجود وہ عہد حاضرکے چند اہم ترین نقادوں میں ایک تسلیم کئے جاتے ہیں حیرت انگیز طور پر وہ گذشتہ چند برسوں سے شاعری کی طرف بھی متوجہ ہوئے ہیں۔ اور انہوں نے کئی اچھی غزلیں بھی کہی ہیں جن کی اشاعت کا انتظار ہے۔
 
(بشکریہ: بہار کی بہار عظیم آباد بیسویں صدی میں ،تحریر :اعجاز علی ارشد،ناشر: خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری، پٹنہ)
 
*********************
 
You are Visitor Number : 4328