donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Wali Kakvi
Poet
--: Biography of Wali Kakvi :--

 

  ولیؔ کاکوی  
 
رحم کھایا رحمتِ حق نے گناہوں پر مرے
 عرصۂ محشر میں کام آئی پشیمانی مری
 
ولیؔ کاکوی ایک بلند پایہ شاعر تسلیم کئے جاتے ہیں۔ وہ خوش گو اور قادر الکلام شاعر تھے۔ ان کا نام سید شاہ ولی الرحمن اور تخلص ولیؔ تھا۔ یہ 1889 ء میں قصبہ کاکو ضلع گیا میں پیدا ہوئے تھے۔ والدہ کا نام سید شاہ غفور الرحمن تھا۔ عربی، فارسی اور اردو کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی۔ شاعرانہ مذاق رکھتے تھے چوں کہ ان کے والد خود اردو فارسی کے صاحب دیوان شاعر تھے ۔ انہیں والد محترم کی سرپرستی حاصل تھی۔ انہوں نے سترہ سال کی عمر سے شاعری شروع کردی۔
 
ولی کاکوی کی شاعری میں صوفیانہ رنگ صاف جھلکتا ہے۔ چوں کہ ان کے والد صوفی منش بزرگ تھے۔ وہ اپنا کلام والد کو دکھاتے تھے۔ کچھ دنوں بعدشادؔ کو دکھانے لگے۔ ان کی شاعری میں جدید رنگ پایا جاتا ہے۔ بندشِ الفاظ بڑی کامیابی سے کرتے ہیں اس لئے اس میں روانی موجود ہوتی ہے۔ انہوں نے غزلیں، نظمیں اور رباعیات جیسی اصناف پر طبع آزمائی کی ہے۔ انگریزی نظموں کا خوبصورت ترجمہ بھی کیا ہے۔ رباعیات میں صوفیانہ، فلسفیانہ اور اخلاقی مضامین دیکھنے کو ملتے ہیں۔ یہ شادؔ، غالبؔ ،اقبالؔ سے متاثر ضرور ہیں لیکن شاعری میں ان کا الگ انداز ہے۔
 
چند اشعار ملاحظہ ہوں۔  
 
جلد چل ائے جنونِ شوق عرض ِ پیام کے لئے
 حسن ہے آج مضطرب جلوۂ عام کے لئے
٭
ترے آستانے پہ سرنگوں ہمہ تن ہوں ذوقِ نیاز میں
 در کعبہ پر کوئی حق پرست ہو جیسے محو نماز میں
٭
ہے شبیہ حیرت آئینہ حیرانی مری
 پیکرِ زلف پریشاں ہے پریشانی مری
 
(بشکریہ: بسمل عظیم آبادی : شخصیت اور فن، تحریر: محمد اقبال)
 

 

 
You are Visitor Number : 1783