donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Yas Azimabadi
Poet
--: Biography of Yas Azimabadi :--

 

 یاس عظیم آبادی 
 
 خودی کا نشہ چڑھا آپ میں رہا نہ گیا
 خدا بنے تھے یگانہ مگر بنا نہ گیا
 
یاس عظیم آبادی کا منفرد انداز بیان سے جانے جاتے ہیں۔ ان کا نام مرزا واجد حسین، تخلص یاس تھا۔ لیکن بعد میں یگانہؔ چینگیزی کر لیا۔ والد محترم کا نام مرزا غلام  حسین عرف پیارے تھا۔ ان کے اجداد ایران سے ہندستان آئے تھے۔ ان کا تعلق مغلیہ سلطنت سے نہیں تھا۔ انہیں عظیم آباد میں جاگیریں ملیں اور پھر وہیں سکونت اختیار کر لی
 
 یاس1884 ء میںمحلہ مغل پورہ میںپیدا ہوئے تھے۔ ان کی ابتدائی تعلیم مدرسے میں ہوئی۔ مدرسے سے عربی، فارسی اور اردو کی تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے انگریزی بھی سیکھی۔ وہ لڑکپن سے ہی بڑے ذہین تھے۔ شاعرانہ مذاق رکھتے تھے۔1905 ء میں لکھنو چلے گئے۔ شروع میں بے تاب عظیم آبادی سے اصلاح لیتے تھے پھر شاد عظیم آبادی کے شاگرد ہو گئے۔
 
 یگانہؔ کے کلام میں تخیل کی بلندی اور ذہن کی پرواز نمایاں ہے۔ پیچیدہ سے پیچیدہ خیالات اپنے ذہن میں لاتے ہیں اور پھر اسے عام فہم انداز میں پیش کر دیتے ہیں۔ وہ اپنے کلام میں حسن کو کسی ذات کا جامہ نہیں پہناتے۔ بلکہ حسن کو سراپا تبسم اور ایک مستقل ہستی گردانتے ہیں اس کی وجہ سے بیان میں ندرت اور اشعار میں معنویت بڑھ جاتی ہے۔ ان کی شاعری میں امنگ اور جوش کروٹیں لیتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس میں بے باکی بھی پائی جاتی ہے وہ سب سے الگ اپنا راستہ نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔
 
 میں قفس میں بھی کسی روز نہ خاموش رہا
 مشکلوں میں بھی طبیعت کا وہی جوش رہا
٭
 مرتے دم تک تو نہ شرمندہ ہوئے احباب سے
 لاش اٹھانے کا مگر آخری اک احساس رہ گیا
٭
خزاں سے پہلے ہی کاش اپنی آنکھیں بند ہو جاتیں
 بہار اولیں ہوتی نگاہ واپسیں ہوتی
 
*******

 

 
You are Visitor Number : 1572