donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Zaheer Siddiqui
Poet
--: Biography of Zaheer Siddiqui :--

 

* Name

:

Md. Zahiruddin Siddiqui

* Father's Name

:

Maulana Samiuddin Siddiqui

* Education

:

B.A (Hon's) M.A

* Home town

:

Mauza Bhabhnaul, Rohtas, Bihar

* Working

:

LIC (Retd.)

* Literary Work

:

1. Maasawa (Collection of Nazm-1976)
2. Mud'dua (Collection of Ghazal)

 
 ظہیر صدیقی 
 
 
 محمد ظہیر الدین صدیقی ( قلمی نام : ظہیر صدیقی) ولد مولانا محمد سمیع الدین صدیقی قصبہ و تھانہ ببھنول ، ضلع رہتاس میں تعلیمی سند کے مطابق ۹؍ فروری ۱۹۳۸ء کو پیدا ہوئے محمد ظہیر الدین صدیقی تاریخی نام ہے۔ یہ اوسط درجے کے زمینداروںکا گھرانہ تھا۔ ان کے والد محترم بھی قاری و عالم تھے۔ جو تقسیم ہند کے بعد ظہیرؔ کی ذمہ داری اپنے بھائی کے کاندھوں پر ڈال کر بنگلہ دیش ( سابق مشرقی پاکستان) چلے گئے۔ انہیں کے زیر سایہ ظہیر کی پرورش و پرداخت ہوئی۔ میٹرک جگ نرائن ودیالیہ کواتھ سے ۱۹۵۴ء میں پاس کرنے کے بعد انہوں نے ۱۹۵۵ء میں پٹنہ میڈیکل کالج ہاسپیٹل میں ملازمت کر لی۔ اس کے بعد پرائیوٹ طالب علم کی حیثیت سے امتحانات دیتے رہے۔ ۱۹۶۱ء میں مگدھ یونیورسٹی سے بی اے اردو آنرز کا امتحان پاس کیا اور اسی سال لائف انسورنش کارپوریشن آف انڈیا میں ملازمت مل گئی۔ ۱۹۶۴ء میں مگدھ یونیورسٹی سے ایم اے اردو امتیاز کے ساتھ پاس کیا۔۱۹۹۸ء میں ملازمت سے سبکدوش ہو کر فی الحال پٹنہ کے دریا پور ، سبزی باغ میں قیام پذیر ہیں۔ ادبیات کے ساتھ ساتھ مذہبی امور میں بھی دلچسپی لیتے ہیں۔ اور مشاعروں میں بہت کم شریک ہوتے ہیں۔
 
ظہیر صدیقی کی کی ادبی زندگی کا آغاز ۱۹۶۰ء سے ہوا۔ ابتداء میں انہوں نے زیادہ تر غزلیں کہیں مگر بہت جلد نظم نگاری کی طرف مائل ہو گئے۔ عام طور سے آزاد نظمیں کہیں اور ملک و بیرون ملک کے رسائل میں کثرت سے شائع ہوئے۔ ۱۹۷۶ء میں ان کی نظموں کا مجموعہ ’’ ما سوا‘‘ اور ۱۹۸۳ء میں غزلوں کا مجموعہ’’ مدعا ‘‘ بہار اردو اکادمی کی مالی معاونت سے منظر عام پر آیا۔ اور ۱۹۶۰ء سے ۱۹۸۰ء کے دوران وہ جدیدیت کے نمائندہ شاعروں میں شمار کئے جاتے رہے ۔ یہ ضرور ہے کہ انہوں نے جدیدیت سے اثرات قبول کرنے کے باوجود ابتداء سے ہی اپنی ایک منفرد راہ نکالنے کی کوشش کی اور کامیاب رہے۔ ان کی انفرادی شناخت کی تفہیم میں چند پہلو کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ نسل انسانی کی تمام تر مادی ترقیوںکے باوجود روحانیت اور مذہب کو ترجیح دیتے ہیں مگر مذہبی عقائد کو کسی قسم کے تنازع کا سبب نہیں بننے دینا چاہتے۔ بلکہ ان کی مدد سے دنیا کو نغمہ فردوس سے آشنا کرناچاہتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ کبھی تو وہ استعارہ اور کنایے کا پرواہ اتنا ہلکا رکھتے ہیں کہ اصل معنی تک فوراً رسائی ہو جاتی ہے اور کبھی انہوں نے استعاروں یا کنایوں کی ایک نئی دنیا آباد کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔ یہاں ان کے نظم مراجعت کے چند مصرعے نقل کرتا ہوں۔
 
 خوشی تھی کہ فصلیں اگیں گی
 تو سرسبز منظر میں
 تپتی ہوئی سرخ آنکھوں کو ٹھنڈک ملے گی
 مگر کیا پتہ تھا۔
 کہ لذت کی زر خیز مٹی سے
 کچھ ایسے کر گس ہی تخلیق ہوں گے 
 جو میرے ہمکتے ہوئے جسم کی
 بوٹی بوٹی اڑانے کی کوشش کریں گے
٭٭٭
مجھے سرخ شیشوں کی دیوار بھی راس آئی نہیں
 بوتلیں بھی مرے جسم کو ہضم کرنے کے قابل نہیں
 ایک اور نظم’’ پرانا / نیا سال‘‘ سے بھی ان کے مخصوص شعری تیور کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
 اگر کوئی بات بن گئی ہو
اگر کوئی شئے بدل گئی ہو
 اگر کوئی فرق آگیا ہو
 تو جشن یا سوگ ہی منائیں
 اس عارضی سی لکیر کے
 اس طرف بھی مردہ اداس لمحے
 اور اُس طرف بھی
 ابھرتے نو خیز سادہ لمحے
 خراج خوں ہم سے مانگتے ہیں
 وہ شب کے کانوں میں روشنی کے قدم کی آہٹ
 وہ کالے اجلے چہروں کی ہر لہجہ پھڑپھڑاہٹ
 مجھے خبر تھی
کہ ایک دن وہ 
پروں کو اپنے سمیٹ کر
 میرے ہاتھ سے چھوٹ کر اڑے گا
 اڑا
 تو کیا فرق آگیا
 اب کوئی پوچھے
 کہ کس طرح؟
تو سوائے نور جہاں کی معصومیت
 کہ اس ہاتھ کے کبوتر کو بھی اڑادوں
 جواب کیا ہے
 ایک غزل کے چند اشعار ملاحظہ ہوں
اظہار کی برہنہ لکیروں میں بٹ گیا
 سرمایہ خیال فقیروں میں بٹ گیا
 تہہ دار ریت دب نہ سکی موج آب میں
دریا ہی رفتہ رفتہ جزیروں میں بٹ گیا
لے دے کے بجھتی شب کا دھندلا ملا ہمیں
 اور وہ بھی روشنی کے سفیروں میں بٹ گیا
 بولو تلاش ہے تمہیں اب کن ظہیر کی
 وہ اک ظہیر کتنے ظہیروں میں بٹ گیا
 ایک قطعہ بھی ملاحظہ ہو۔
 صورتِ قاتل عیاں ہوتی نہیں
 تیر میں لپٹی کماں ہوتی نہیں
 قتل کی تفتیش کوئی کیا کرے
 زخم کے منہ میں زباں ہوتی نہیں
 
ظہیر وجودی طرز فکر سے قریب ہیں۔ ان کی نظم پسپائی یا خارج قسمت سے پہلے‘‘ کو دیکھیں تو یہ قربت مزید واضح ہو جاتی ہے۔ مگر بقول پروفیسر وہاب اشرفی حال کے دنوں میں انہوں نے جو کچھ لکھا ہے اس سے ان کے بدلتے ہوئے شعری تیور کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس اجمال کی تفصیل بیان کرنے کا یہاں موقع نہیں۔ بس اتنا اشارہ کر دینا کافی ہے کہ ان کا تازہ ترین مجموعہ روشن ور ورق ‘‘ ( مطبوعہ۔ ۲۰۰۹ئ) ان کے یہاں ایک نئے طرز فکر کے آغاز کی خبر دیتا ہے۔
 
(بشکریہ: بہار کی بہار عظیم آباد بیسویں صدی میں ،تحریر :اعجاز علی ارشد،ناشر: خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری، پٹنہ)
 
*************************

 

 
You are Visitor Number : 2404