donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Political Articles -->> Articles On National Issue
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Abdul Aziz
Title : کانگریس کی حمایت اوروکالت میں شش®
   Congress Ki Hemayet Aur Wakalat Me Shashi Tharoor MP Ka Aik Mazmoon


کانگریس کی حمایت اوروکالت میں
 
ششی تھرور ایم پی کاایک مضمون
 
 عبدالعزیز 
 
کانگریس کے ایم پی ششی تھرور کاایک مضمون انگریزی روزنامہ ’’دی انڈین ایکسپریس‘‘ میں شائع ہوا ہے اس کاعنوان ہے ’’کانگریس کا مقصد وجود کیاہے؟‘‘ کانگریس کانظریہ بی جے پی سے کہیں زیادہ معتبر اور مستندہے محض بی جے پی کی مخالفت نہیں ہے‘‘۔
ششی تھرور نے اپنے مضمون میں کانگریس کے مقاصد اورنظریہ کو اچھی طرح سے پیش کیا ہے لیکن میرے خیال سے کانگریس کابھاجپا سے کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ بھاجپا ایک ایسی فرقہ پرست ، تعصب پسند اورفسادی اورفتنہ انگیز پارٹی آرایس ایس کی دم چھلا ہے جس کاماضی اورحال داغدار ہے بدنام زمانہ ہے جس نے ملک کی آزادی کے سب سے بڑے مجاہد مہاتما گاندھی کو اس لئے قتل کیایا کرایا کہ گاندھی جی ملک میںفرقہ پرستی، تعصب اورمنافرت کے بجائے بھائی چارہ، فرقہ وارانہ ہم آہنگی چاہتے تھے ۔ گاندھی جی کے قاتل ناتھورام گوڈسے ساورکر کے شاگرد تھے گرواورچیلا دونوں ہندو مہاسبھا سے آرایس ایس میں آئے تھے ۔ ساورکر جسے آرایس ایس اوربی جے پی والے ویرساورکر کہتے ہیں انڈمان نیوکوبار کی جیل سے انگریزی حکومت سے معافی مانگ کر رہائی حاصل کی تھی اوروعدہ کیا تھا کہ وہ ملک کی سیاست یاآزادی میںحصہ نہیں لیں گے اوربرطانیہ کی حکمرانی کی وفاداری کریں گے برطانیہ نے دفاعی مشورہ کمیٹی میں آرایس ایس اورہندومہاسبھا سے مشورہ اورتعاون کے لئے دوتین آدمیوں کو شامل کیاتھا جو مجاہدین آزادی کی ایک طرح سے مخبری کاکام انجام دیتے تھے ۔ کانگریس اس وقت ملک کی آزادی کے لئے لڑائی لڑ رہی تھی ایک ایسی پارٹی جو ملک کو انگریزوںکی غلامی سے آزاد کرانا چاہتی ہو اوردوسری پارٹی جو غلامی کو محض اس لئے پسند کرتی ہوایک فرقہ یعنی مسلمانوں کو سبق سیکھانا ہے بھلا کانگریس سے اس کاکیامقابلہ ہوسکتاہے۔؟ بی جے پی آرایس ایس کی ماتحتی میںہے آج کے اخباروں میں اترپردیش کے بی جے پی کے دوایم ایل اے نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اترپردیش کے سرکاری افسران رشوت خور ہیں بدعنوانی میں بری طرح مبتلا ہیں اوروزیراعلیٰ یوگی لاچاراورمجبور ہیں کیوں کہ آرایس ایس کے کنٹرول میں سب کچھ ہے(ٹائمز آف انڈیا2.6.2018)مسٹر مودی جی جو اس قدر اچھل کود کررہے ہیں جس دن آرایس ایس کو اندازہ ہوجائیگا کہ وہ بی جے پی کے لئے منافع بخش نہیں ہیں ان کا حال بھی اپنے گرو ایل کے ایڈوانی کی طرح ہوجائے گا۔ آج بی جے پی ملک کی حکمراں پارٹی  ہے اورمیڈیا اورپونجی پتی (امرائ) بی جے پی کے ساتھ ہیں۔غنڈے ، بدمعاش بی جے پی کے ہم نوا ہیں اس لئے جو لوگ بھی دنیاوی فائدے چاہتے ہیں وہ بی جے پی اورآرایس ایس کا گن گاتے ہیں، ہمارے ملک کے سابق صدر جمہوریہ ہند پرنب مکھرجی جنہوں نے پوری زندگی کانگریس میں گزاری اسی کی وجہ سے ملک کے سب سے بڑے عہدے پرفائزہوئے آج وہ بھی آرایس ایس کی طرف مائل نظر آتے ہیں۔ پرنب مکھرجی کو ئی ایسے شخص کانام نہیں ہے جوسختی سے کسی کا خاص نظریہ کا حامی ہوں انہیں جب راجیو گاندھی نے اپنی کابینہ میں نہیں لیاتوموصوف نے اپنی جماعت بنالی جب وہ چل نہ سکی تو پھر کانگریس میں شامل ہوگئے۔ ایسے لوگ Committed(کسی خاص نظر یہ سے وابستہ یااس کے وفادار) نہیں ہوتے۔ بہرحال 6 جون دور نہیں ہے کیا بولتے ہیں بہتوں کو انتظار ہے۔ پرنب مکھرجی کوموجودہ حکمراں پارٹی سے کیافائدہ اٹھانا اپنے بچوںاوربچیوں کے لئے انہیں کومعلوم ہے۔ انہیں تو دہلی میں بنگلہ وغیرہ سب چیزکی سہولت حاصل ہوگئی ہوگی۔ ششی تھرور نے اپنے مضمون میں کانگریس نے اب تک جو کچھ کیاہے اس کاذکر تفصیل سے کیاہے ۔ انہوں نے اہم بات یہ کہی ہے  کہ ’’کانگریس کے لوگ ہندو ضرور ہیں مگر ہندتو کے نظریہ سے کوسوں دور ہیں ہندتو بی جے پی کاایک سیاسی نظریہ ہے ہندومت ایک کھلے اورکشادہ دل کامذہب ہے جب کہ بی جے پی کا ہندتوتعصب منافرت اورتشدد کاحامی ہے‘‘۔ششی تھرور نے لکھا ہے کہ کانگریس سب کو ساتھ لے کرچلنے والی جماعت ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’بی جے پی سے ہمارااختلاف بہت گہرا ہے۔ ہم لوگ مسلمانوں کو حاشیہ پر رکھنے کے قائل نہیں ہیں بلکہ ان کو اختیارات (empowerment)دینا چاہتے ہیں۔ ہندستان میں بی جے پی پہلی حکومت ہے جس پارٹی نے لوک سبھا میںایک مسلمان کو بھی الیکشن لڑنے کے لئے ٹکٹ نہیں دیا اورنہ ان کا کوئی مسلم ایم پی لوک سبھا میں ہے۔ بی جے پی کے لوگ کھلم کھلا مسلمانوں کے خلاف فساد برپاکرتے ہیں تاکہ ہندوایک طرف اورمسلمان ایک طرف ہوجائیںاورہندو ئوں کا سب ووٹ بٹورنے میں بی جے پی کامیاب ہوجائے یعنی Polrisation(پولرائزیشن) ان کی سیاست کاخاص حصہ ہے۔ جس سے وہ الیکشن جیتنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم لوگ فساد کی آگ کو بجھاتے ہیںوہ بھڑکاتے ہیں ہم لوگ مسلمانوں کی معاشی حالت کو بہتربناناچاہتے ہیں وہ ملک کے لئے مسلمانوں کو غیرمتعلق بناناچاہتے ہیں۔ وہ اصل موضوع کو نظر انداز کرکے فرقہ پرستانہ موضوعات کواٹھاتے ہیں تاکہ اصل موضوع لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہوجائے۔ کہاں ہے سب کاساتھ سب کاوکاس؟ کہاں ہیںاچھے دن؟ ہم بتانا چاہتے ہیں یوپی اے ے دس سال میں کیاکیا۔MNREGA,RTI,RTE  ان مذکورہ قوانین کے ذریعہ لوگوںکو غذہ وخوراک اورتحفظ کی ضمانت ملی۔ لاکھوں لوگوں کو بینک سے قرض دلائے گئے بی جے پی نے کیا کیا۔ بی جے پی نے نوٹ بندی اورجی ایس ٹی سے پوری معیشت تہس نہس کردیا۔ کانگریس وہ جماعت ہے جس نے آزاد معیشت ملک کو دیامگراجتماعی عدل کادامن نہیں چھوڑا ہم لوگ معاشی ترقی چاہتے ہیں مگرچاہتے ہیں کہ اسکاپھل ہر غریب اورکمزور تک پہنچے، کانگریس نے پہلے ہی کہاہے کہ مارکیٹ کامیجک عام آدمیوں کے لئے مناسب نہیں ہے وہ کیسے ایسی مارکیٹ میںداخل ہوںگے جب ان کی جیب خالی ہوگی ہم لوگ غریبوں کو اٹھانا چاہتے ہیں تاکہ وہ معاشی ترقی کا پھل پورے طورپر چکھ سکیں غریبی ہٹائو کانعرہ کانگریس کاکھوکھلا نعرہ نہیں تھا بلکہ اس کاایک معنی اورمطلب تھا۔ششی تھرور نے ان باتوں کے علاوہ دیہی اورشہری علاقوں میںکانگریس نے کیاکیااورکیا کرناچاہتی ہے اس کابھی ذکر تفصیل سے کیاہے۔ آگے موصوف رقم طراز ہیں ’’کانگریس بی جے پی سے کہیں زیادہ ملک کو معتبر اورمستند نظریہ پیش کرتی ہے بی جے پی کو لوگوںنے دیکھ لیااور آزمالیا کہ اس نے چار سال میں کیاکیاہے؟ کانگریس صرف الیکشن لڑنے والی مشنری نہیں ہے بلکہ ملک میں خدمت خلق کا کام بھی انجام دیتی ہے۔ ایسی جماعت کانگریس نہیں ہے جو پولس، آفیشیل اورسرکاری ملازمین سے ہروقت متصادم ہوان سب کو لے کرچلناچاہتی ہے۔ ان سے Interactoion(تعامل) کرتی ہے۔ ہم لوگ ایک نراسیاسی ورکرنہیں ہیں بلکہ سماجی کارکن بھی ہیں۔ کانگریس ایک تکثیری معاشرہ چاہتی ہے انتشار اورتفرقہ کو مٹانا چاہتی ہے سیکولرزم اورجمہوریت کی علمبردار ہے۔ انسانی قدروں اوراخلاقی قدروں کاتحفظ چاہتی ہے۔ بی جے پی تکثیری معاشرہ کی دشمن ہے ہندوراشٹر چاہتی ہے جس کی وجہ سے مسلمان ملک میں عدم تحفظ کے شکار ہیں اورہمارے بیرونی دوست خوفزدہ ہیں۔آخر میں ششی تھرور لکھتے ہیں : کانگریس ابھرکر سامنے آئے گی اپنے نظریہ اوراصول پر اسے نرم ہندتو(Soft Hindutava) کا جو طعنہ دیاجاتاہے وہ صحیح نہیں ہے ہرضلع، ہربلاک اورہریونٹ میںکانگریس  نیاخون لاناچاہتی ہے۔ اس طرح ریاست اورقومی پیمانے پر بھی جواں سال ہندستانی ہمیں سمجھتے ہیںاورہم پریقین کرتے ہیں ہم ان کے جذبات اوراحساساست کا کھلے دل سے احترام کرتے ہیں۔ ہمارانظریہ انہیں یقین دلاتاہے کہ ہم کچھ کرنے والے اورکچھ کر دکھا نے والے بھی۔ ہم اپنے نظریہ اوراصول کونہ چھوڑا ہے اورنہ چھوڑیں گے ۔ ہم اسے ببانگ دہل پورے میں پرچار کرتے ہیں اوراعلان کرتے ہیں کانگریس کانظریہ زندہ ہے اورزندہ رہے کیوں کہ اس کاتعلق انسانیت سے  ہے، تعصب، نفرت اورتشدد سے نہیں ہے جیسا بی جے پی کاہے۔
 
Mob:9831439068 
 E-mail:azizabdul03@gmail.com

*******************

 

Comments


Login

You are Visitor Number : 92