donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Lamhaye Fikr
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Dr. Mushtaq Ahmad
Title :
   Mulk Ke Aala Taleem Me Khud Mokhtariyat Ke Naam Par Seyasat


ملک کی اعلیٰ تعلیم میں خود مختیاریت کے نام پر سیاست!
 
٭ڈاکٹر مشتاق احمد
 
موبائل: 9431414586
 
حال ہی میں مرکزی وزیر محکمۂ انسانی وسائل پرکاش جاوڈیکر نے یہ اعلان کیا ہے کہ ملک کی پانچ سنٹرل یونیورسٹیوں ، اکیس ریاستی یونیورسٹیوں، ۲۶ نجی یونیورسٹیوں کے ساتھ ساتھ دس کالجوں کو خود مختار یت دی جارہی ہے۔ جس وقت وزیر موصوف یہ اعلان کر رہے تھے ،ٹھیک اسی وقت بایا ں محاذ کی پارٹیاں دہلی میں اعلیٰ تعلیم کو پسماندہ طبقے کے لئے مشکل بنانے کے خلاف احتجاج بھی کر رہی تھیں، بالخصوص دہلی یونیورسٹی کے اساتذہ یونین بھی اس کی مخالفت میں کھڑی تھی۔ واضح ہو کہ ۲۰ مارچ ۲۰۱۸ کو یو جی سی نے بھی مرکزی وزیر پرکاش جاوڈیکرکے اعلان پر مہر ثبت کر تے ہوئے یہ کہا کہ اب جن اداروں کو NAACسے اعلیٰ گریڈ حاصل ہیں انہیں خود مختاریت دی جائے گی۔ خود مختاریت کا مطلب یہ ہوا کہ ادارے کو یہ اختیار حاصل ہو گا کہ وہ اپنی مرضی کا نصاب تیار کریں ، امتحان کی تاریخیں طے کریں ، امتحان کے طریقۂ کار میں جو چاہیں تبدیلی لائیں اور ساتھ ہی ساتھ فیس بھی مقرر کریں۔ کیوں کہ جن اداروں کو خود مختاریت دی جائے گی انہیں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کی جانب سے کوئی مالی معاونت نہیں دی جائے گی۔ ظاہر ہے ایسے میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کے عملوں کو اپنے ترقیاتی کاموں کے ساتھ ملازمین کی تنخواہوں اور دیگر اخراجات کا انتظام خود ہی کرنا ہوگا اور جب یہ مالی بوجھ اداروں کے اوپر ہوگا تو فیس میں بے تحاشہ اضافہ فطری نتیجہ ہوگا۔ مطلب ہوگا کہ اب جن اداروں کو خود مختاریت دی جائے گی ان اداروں میں غریب و پسماندہ طبقے کے طلباء داخل نہیں ہو پائیں گے۔ جیسا کہ ملک کے بہتیرے نجی تکنیکی ،پیشہ وارانہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں متوسط طبقے کے بچوں کا داخلہ محض اس لئے نہیں ہو پاتا کہ اس کی فیس کی ادائیگی کی قوت گارجین برداشت نہیں کر سکتے۔ جب کہ ہمارے آئین میں تمام شہری کو تعلیمی سہولت دینے کی ذمہ داری حکومت کے سر عائد کی گئی ہے۔
 
در اصل گذشتہ ایک دہائی سے ملک میں نجکاری کو حکومت کی جانب سے فروغ دیا جارہا ہے اور اس میں تعلیمی شعبہ بھی شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنوں دن سرکاری اسکولوں اور کالجوں کی حالت خستہ ہوتی جارہی ہے کہ اس پر حکومت کی توجہ نہیں ہے۔جبکہ نجی اسکولوں اور کالجوں کا جال بچھتا جارہا ہے۔ میں یہ بات واضح کر دوں کہ ملک کی بڑھتی شرح آبادی کے لحاظ سے پرائیوٹ اسکول و کالج کھولنے کا میں مخالف نہیں ہوں لیکن سرکاری اسکولوں اور کالجوں کی معنویت کو ختم کرنا ہندستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لئے بہت ہی خطرناک ہے۔ کیوں کہ ہماری صد فیصد آبادی آزادی کے ستر سالوں بعد بھی خواندہ نہیں ہو سکی ہے اور خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کی تعداد بھی کروڑوں میں ہے۔ ایسے میں سرکاری کالجوں اور یونیورسٹیوںکو خود مختاریت دے کر کہیں نہ کہیں ان لاکھوں غریب اور پسماندہ طبقے کے بچوں کو معیاری اعلیٰ تعلیم سے محروم کرنے کی سازش ہے۔ 
 
ایسا نہیں ہے کہ یہ فیصلہ موجودہ حکومت کا ہے بلکہ اس سے قبل بھی اس طرح کے فیصلے ہوئے تھے مگر اس وقت کی حکومت نے فوری طور پر اس پر عمل کرنے کو تیار نہیں ہوئی۔ واضح ہو کہ ۲۰۰۶ میں پروفیسر سیم پتروداکی کی نالج کمیشن ، پروفیسر یشپال کمیٹی (۲۰۰۹)، نرائن مورتی کمیٹی(۲۰۱۲) اور امبانی برلا کمیٹی (۲۰۰۰) نے بھی اس طرح کے مشورے دئے تھے۔ لیکن اس وقت بھی ملک کے دانشوروں نے اسے مناسب قرار نہیں دیا تھا ۔ نتیجتاً حکومت نے اس پر فوری عمل در آمد نہیں کیا۔ اب جبکہ موجودہ حکومت نے یہ فیصلہ لے لیا ہے اور جن اداروں کو خود مختاریت دی جارہی ہے ، وہ بھی اس بات سے خوش ہیں کہ اب ان پر کسی حکومت یا یو جی سی جیسے مالی تعاون دینے والے اداروں کی محتاجی نہیں ہوگی۔ مگر سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جس ملک کے آئین میں عوام سے یہ وعدہ کیا گیا ہے کہ ہر شہری کو مساوی حقوق حاصل ہوں گے اور ان کے فلاح و بہبود کے لئے تعلیمی راستے ہموار کئے جائیں گے ، ایسے جمہوری ملک میں خودمختاریت کے نا م پر نجکاری کو فروغ دینا نہ صرف غیر آئینی ہے بلکہ غیر اخلاقی بھی ہے کہ اس طرح کے فیصلوں سے لاکھوں طلبہ کا مستقبل تاریک ہو جائے گا۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ عصری تقاضوں کے تحت سرکاری تعلیمی اداروں کی بنیادی ڈھانچوں کی مستحکم کرنے کے ساتھ اساتذہ کی خالی اسامیوں کو پُر کرنے کے اقدام اٹھائیں جائیں۔ کیوں کہ مرکزی یونیورسٹیوںمیں تیس سے چالیس فیصد اساتذہ کی جگہیں خالی پڑی ہیں اور برسوں سے ایڈہاک اساتذہ کے ذریعہ کام چلایا جارہا ہے۔ اسی طرح ریاستی یونیورسٹیوں اور کالجوں کی حالت بھی دگر گوں ہے کہ ہزاروں کالج ایسے ہیں جہاں محض انگلیوں پر گنے جانے والے اساتذہ رہ گئے ہیں۔ دو تین دہائیوں سے بحالیاں نہیں ہورہی ہیں اور جہاں کہیں اساتذہ کی بحالی کا عمل جاری ہے وہ بھی سست روی کا شکار ہے۔ مثلاً بہار میں ۲۰۱۴ ء میں بہار پبلک سروس کمیشن کے ذریعہ تقریباً ۳۰۰۰ کالج اساتذہ کی بحالیوں کا عمل شروع ہوا تھا مگر افسوس یہ ہے کہ چار سال کی مدت میں تقریباً سبھی سبجکٹ کے ۲۰۰۰  اساتذہ کی تقرری ہی ممکن ہو سکی ہے۔ اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سرکاری کالجوں اور یونیورسٹیوںکے تئیں ہماری حکومتیں کتنی سنجیدہ ہیں۔
 
بہرکیف، اب جبکہ مرکزی حکومت نے کل ۶۱  اعلیٰ تعلیمی اداروں کو خود مختاریت دینے کا فیصلہ کر لیا ہے تو اب ان نجی اعلیٰ تعلیمی اداروں کو یہ کہنے کا جواز بھی حاصل ہو جائے گا کہ خود حکومت اپنے اداروں کو یہ آزادی دے رہی ہے کہ وہ فیس خود مقرر کریں تو نجی اداروں پر سوالیہ نشان کیوں؟ ظاہر ہے کہ اب خود مختاریت کے نام پر سرکاری یونیورسٹیاں اور کالجوں میں بھی فیس کے نام پر موٹی رقم لی جائے گی۔ جس سے متوسط و پسماندہ طبقے کے طلبہ کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی راہ میں کئی طرح کی دشواریاں کا سامنا کرنا ہوگا۔ ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ہم اب تک کوئی ٹھوس نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔ حکومت بدلنے کے ساتھ ہی تعلیمی شعبے میں بھی تجربوں اور تبدیلیوں کی مہم شروع ہو جاتی ہے اور اس زمینی حقیقت کو نظر انداز کیا جاتا ہے کہ ہمارے ملک کی معاشی واقتصادی حالات کے تقاضے کیا ہیں۔ کسی بھی ملک میں جب شعبہ تعلیم، صحت اور دفاع کے فیصلے میں سیاسی مفادات پیش نظر ہوتے ہیں تو اس ملک اور قوم کو خسارہ ٔ عظیم سے دوچار ہونا ہی پڑتا ہے۔ ہماری موجودہ حکومت نے حالیہ برسوں میں جس طرح اعلیٰ تعلیم کے اہم مراکز پر اپنے نظریاتی مبلغین کی تعیناتی کو فرض اولین سمجھا ہے اور نصابوں میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ نجکاری کو فروغ دینے کی وکالت کی ہے اس سے ملک کے تعلیمی بالخصوص اعلیٰ تعلیم کے ڈھانچے متزلزل ہو کر رہ گئے ہیں۔ یہ ایک لمحہ ٔ  فکریہ ہے۔ 
 
٭٭٭
Comments


Login

You are Visitor Number : 162