donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Teeshae Fikr
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Ghaus Siwani
Title :
   Madad Chahti Hai Yeh Hawwa Ki Beti


مدد چاہتی ہے یہ حوّا کی بیٹی
 
بھگوا’رام راج‘ میں سیتائوں کی بے آبروئی اور راونوں کی سرخروئی
 
تحریر: غوث سیوانی، نئی دہلی
 
بھارت میںجیوتی محفوظ ہے یاآصفہ؟شاعرہ بانو خوش ہیں یا یشودابین مودی؟ ہندوستان جنت نشان،میں اگر مسلمان خواتین کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے تو کیا ہندو خواتین کو انصاف ملتا ہے؟یہ سوال ہم اس لئے اٹھا رہے ہیں کیونکہ جہاں ایک طرف طلاق، حلالہ اور تعدد ازواج کے نام پر حکومتِ وقت اور نیتائوں کو مسلم خواتین پر ترس آتارہتا ہے، وہیں دوسری طرف ہندو خواتین کی کوئی بات نہیں کرتا گویاان کے ساتھ کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔ ہم سوال پوچھنے کی جرأت کر سکتے ہیں کہ جب ہندوستان بھر میں ریپ نے وبا کی شکل اختیار کر رکھا ہے تو کیا اس کی شکار صرف مسلمان عورتیں ہورہی ہیں؟ کیا ’’بیٹی بچائو‘‘ کا نعرہ صرف مسلمانوں کے لئے ہے؟ اگر ظلم اور استحصال کی شکار سماج کے سبھی طبقوں کی خواتین ہورہی ہیں تو ’’تین طلاق‘‘، تعددازواج اور حلالہ کے بہانے صرف مسلمان خواتین کے حال زار پر گھڑیالی آنسو بہانے کا مطلب کیا ہے؟ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ اگر چند مسلمان خواتین درندگی کا شکار ہوتی ہیں تو ان سے دس گنا زیادہ ہندو عورتیں ریپ کا شکار ہوتی ہیں؟ اگر ایک آصفہ حیوانیت کا شکارہوتی ہے تو اس کے مقابلے میں سو ’’جیوتی‘‘یا نربھیا درندگی کی بھینٹ چڑھتی ہیں؟ پھر کیا سبب ہے کہ خواتین کے مسائل کو مذہب کے خانوں میں تقسیم کر دیکھا جائے۔ انائو سے سورت تک اور ہریانہ سے مدھیہ پردیش تک جتنے بھی ریپ کے واقعات ہوئے ہیں،ان میں زانیوں کی ہوس کی بھینٹ بیشترہندو لڑکیاں ہی چڑھی ہیں، اسی طرح اگر دوچار شاہ بانواورشاعرہ بانو جیسی خواتین طلاق ثلاثہ کے سبب پریشان ہوتی ہیں تو ملک بھر میں یشودابین جیسی لاکھوں ہندو خواتین بغیر طلاق کے ہی مطلقہ جیسی زندگی جینے پر مجبور ہیں۔سوال یہ بھی ہے کہ جس ملک میں وزیراعظم کی بیوی کو اس کا حق نہیں ملتا،وہاں دوسری خواتین انصاف کی کتنی امید کرسکتی ہیں؟ ہم یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ مسلم خواتین پرمظالم نہیں ہورہے ہیں، ہم تو صرف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ خواتین پر جو مظالم ہورہے ہیں،ان کا تعلق مذہب سے نہیں بلکہ سماجی ڈھانچے کے سبب ہے مگر تنگ نظری اسے مذہب کے خانوں میں بانٹ کر دیکھتی ہے۔ 
 
 کہاں گئیں کروڑوں ہندو خواتین؟
 
کیا سچ نہیں ہے کہ بھارت میں ہرسال کروڑوں بچیوں کو مائوں کے پیٹ میں ہی قتل کردیا جاتا ہے اور ان میں اکثریت ہندو ہوتی ہے؟ کیا یہ درست نہیں ہے کہ بھارت میں ہرسال کروڑوں خواتین غائب ہوجاتی ہیں اور ان کا کچھ پتہ نہیں چلتا اور ان میں بیشتر ہندو ہوتی ہیں؟ وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی پارٹی کے نیتامسلم خواتین کی حالت پر بار بار آنسو بہاتے ہیں اور گزشتہ دنوںپارلیمنٹ کے بجٹ سشن کے موقع پر تو صدر جمہوریہ رام ناتھ کوند کو بھی مسلم خواتین کی یاد آئی۔ انھوں نے اپنے خطاب میں کہا تھا’’ مسلم خواتین کا احترام کئی دہائیوںسے سیاسی نفع ونقصان کا بندھک رہا۔ اب ملک کو اس صورت حال سے چھٹکارا حاصل کرنے کا موقع ملا ہے۔ میری حکومت نے تین طلاق کے سلسلے میں ایک بل پیش کیا ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ پارلیمنٹ جلد ہی اسے قانونی شکل دے دیگی۔ تین طلاق پر قانون بننے کے بعد مسلم بہن، بیٹیاں بھی خود اعتمادی کے ساتھ بے خوف زندگی جی سکیں گی۔‘‘ صدر جمہوریہ کو تین طلاق پانے والی مسلم عورتوں پر رحم ضرور آیا مگر کیا ہم یہ سوال پوچھ سکتے ہیں کہ انھیں ان ہندوخواتین پر ترس کیوں نہیں آیا جو بغیر طلاق کے ہی اپنے شوہروں کی طرف سے چھوڑ دی جاتی ہیں؟  صدر جمہوریہ خواہ جس قدر اپنی سرکار کی پیٹھ تھپتھپالیں مگر سچ تو یہ ہے کہ کئی تحقیقاتی رپورٹوں میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہمارے ملک سے ہرسال کروڑوں لڑکیاں غائب ہوجاتی ہیں اور اب تک تقریباً 6 کروڑ30 لاکھ عورتیں غائب ہوچکی ہیں، جن کا کچھ اتہ پتہ نہیں ہے اور حکومت بھی ان کی تلاش کی کوشش نہیں کر رہی ہے۔ یہ خبر خواہ بھارت میں کم چرچا کا موضوع ہو کیونکہ ہم ایسی سنجیدہ باتوں کے بجائے فرقہ وارانہ موضوعات پر زیادہ گفتگو کے عادی بن چکے ہیں مگر بیرون ملک اس موضوع پر بڑے بڑے اخبارات اور ٹی وی چینل سوال اٹھا رہے ہیں۔ نیویارک ٹائمزسے لے کر الجزیرہ ٹی وی چینل تک اس پر اسٹوری کرچکے ہیں لہٰذا تین طلاق پر فکر مندصدر جمہوریہ ، وزیراعظم مودی اور ان کی بھگوا سرکار کو اس جانب بھی دھیان دینا چاہئے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ ملک میں ’’بیٹی  بچاؤ، بیٹی پڑھائو‘‘کا دائرہ بڑھ رہا ہے۔ حکومت غریبوں کی پریشانیوں کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، 640 اضلاع میں بیٹی بچائو ،بیٹی پڑھائواسکیم چل رہی ہے۔ حالانکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ دوسری طرف  ملک بھر میں ریپ کے واقعات بڑھ رہے ہیں اور اس میں بھاجپا کے کم از کم 14ممبران پارلیمنٹ واسمبلی بھی ملزم ہیں۔ ایسے میں ’’بیٹی بچائو، بیٹی پڑھائو‘‘ کا نعرہ کتنا بامعنی ہے؟
 
دوسری شادی پر پابندی کی فکر
 
مسلم خواتین کے غم میں حکومت اس قدر گھلی جارہی ہے کہ اس کی طرف سے کوشش ہورہی ہے کہ مسلمانوں میں ایک سے زائد شادیوں پر پابندی عائد کی جائے۔ ظاہر ہے کہ اس کا مقصد مسلم خواتین کے ساتھ ہمدردی نہیں ہے بلکہ ایک طرف تو مسلم پرسنل لاء کو ختم کرنا مقصود ہے تو دوسری طرف ملک کے عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانا ہے۔ بھارت میں ایک سے زائد شادیوں کا رواج ناپید ہے۔ ایسا کم ہی دیکھا جاتا ہے کہ یہاں کے لوگ ایک سے زیادہ شادیاں کرتے ہیں او ر جو لوگ ایساکرتے ہیں، انھیں اس بات سے مطلب نہیں کہ مذہب اور قانون میں اس کی اجازت ہے یا نہیں؟ ہندووں میں پہلے ایک سے زائد شادیوں کا رواج تھا جس پر قانونی پابندی عائد کردی گئی مگر پھر بھی ملائم سنگھ یادو اور کرونانیدھی جیسے لوگ دوشادیوں کرلیتے ہیں اور قانون ان کا کچھ نہیں بگاڑتا۔ بی جے پی کے سابق ممبرپارلیمنٹ اور اداکاردھرمیندر کی دو بیویاں اب بھی موجود ہیں اور ان کی دوسری بیوی ہمامالنی ہیں جو بی جے پی کی ایم پی بھی ہیں۔ ویسے بات چل رہی ہے ایک سے زائد شادی پر پابندی لگانے کی مگرایسے مردوں کی بھی کمی نہیں جوایک بیوی کی موجودگی میں دوسری عورت کے ساتھ بغیر شادی کے ہی جنسی تعلق قائم کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب ملک کی آبادی میں ہندو زیادہ ہیں تو ایسا کرنے والوں میں بھی ہندووں کی اکثریت ہوگی۔ سوال یہ بھی ہے کہ اگر ایک بیوی کی موجودگی میں دوسری شادی کرنے سے پہلی بیوی کی حق تلفی ہوتی ہے تو بغیر شادی کے جنسی تعلق قائم کرنے سے حق تلفی نہیں ہوتی؟
 
اصل مسئلہ کی طرف دھیان دیں
 
ہندوستان کا اصل مسئلہ تین طلاق، تعدد ازواج اور حلالہ نہیں بلکہ خواتین کے ساتھ ناانصافی ہے۔ وزیراعظم مودی اور ان کے وزراء یہ بتانے کی زحمت نہیں کرتے کہ ملک میں کس طرح روزبروز ریپ کی وارداتیں بڑھ رہی ہیں؟اور اس میں کتنے ملزم خود ان کی اپنی پارٹی کے ہیں؟سچ تو یہ ہے کہ جس موضوع پر ساری دنیا میں بھارت کی تھوتھو ہورہی ہے، اسی کو دبانے میں سرکار لگی ہوئی ہے۔ برسراقتدار پارٹی کے لوگ جب ان معاملوں میں پکڑے جاتے ہیں تو انھیں بچانے کی کوشش خود سرکار کی طرف سے کی جاتی ہے۔آصفہ کیس میں تو حد ہی ہوگئی جب بی جے پی کے وزیرتک ترنگا جھنڈا اٹھاکر ، وندے ماترم کے نعرے لگاتے ہوئے ریپ کرنے والوں کی حمایت میں آگئے۔ ذرا سوچیئے کہ دنیا ، بھگواسیاست کے اس انداز کو دیکھ کر کیا سوچ رہی ہوگی۔ آج لڑکیاں نہ اپنے گھر میں محفوظ ہیں اور نہ گھر کے باہر۔ آٹھ ماہ کی بچی سے لے کر 80 سال کی بڑھیا تک کی عصمت خطرے میں ہے مگر افسوس کہ حکومت کو صرف ’’تین طلاق‘‘ کا مسئلہ نظر آتا ہے ،جب کہ یہ محض ایک سماجی مسئلہ ہے جس کا تعلق بھارتی معاشرے سے ہے نہ کہ مذہب اسلام سے۔ عورتوں کے احترام کے خلاف قدم اٹھانے والے صرف مسلمان نہیں ہیں بلکہ ان میں سے زیادہ تر ہندو ہیں مگر حکومت اسے بھی ہندو،مسلم مسئلے کی طرح دیکھ رہی ہے اور وہ ہندو عورتوں کی حق تلفی کر رہی ہے۔ یہ مذہب کے نام پر خواتین کو تقسیم کرنے کی کوشش بھی ہے۔ حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جو مسئلہ بھارتی سماج سے جڑا ہوا ہے، اور یہاں کے لوگوں کی ذہنیت سے منسلک ہے، اسے ہندو،مسلم میں بانٹ کر کیوں دیکھا جائے۔ اسے سمجھنا ہوگا کہ خواتین کے مسائل تین طلاق کے علاوہ بھی ہیں اوران کے سامنے بڑا مسئلہ ان کے خلاف بڑھتی ہوئی مجرمانہ سرگرمیاں ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ خواتین کے تحفظ کے تئیں زیادہ حساس رویہ اختیار کرے۔پچھلے بجٹ میں، حکومت نے خواتین کی حفاظت کے لئے’’نربھیا فنڈ‘‘ کا اعلان کیا تھا ، لیکن آج تک صورت حال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ حالات پہلے ہی جیسے ہیںاور پیسے کی کمی اس منصوبہ کی ناکامی کا ایک اہم سبب ہے۔ صفائی کی بات کرنے والی سرکار آج تک راستوں کے کنارے خواتین کے لئے بیت الخلاء تک نہیں بنواسکی ہے پھر مسلم خواتین کی ہمدردی ،ریاکاری کے سواکیا ہے۔
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Comments


Login

You are Visitor Number : 243