donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Kahkashan Tabassum
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
* پرسش کیسی رخ انجانے جیسا تھا *
غزل

پرسش کیسی رخ انجانے جیسا تھا
کہنا سننا وقت گنوانے جیسا تھا

صحرا نوردی لے کے ازل سے آئے تھے
گھر کیا تھا بس ایک ٹھکانے جیسا تھا

بچوں کی آنکھوں میں مچلا ضدی خواب
چاند ستارے توڑ کے لانے جیسا تھا

دل کے دکھ تو اُس سے کہنا لاحاصل
اک پتھر سے سر ٹکرانے جیسا تھا

گملوں میں تھی کانٹوں والی ہریالی
حال گھروں کا کیوں ویرانے جیسا تھا

آنکھ جہنم بنتی ہے تعبیروں سے
سپنا بھی آسیب بسانے جیسا تھا

دکھ سکھ رکھوں اِس میں تبسم پوشیدہ
اپنا دل انمول خزانے جیسا تھا

کہکشاں تبسم

C/O. Prof. Ziaul Islam
Sabaur College, Sabaur
Bhagalpur-813210
(Bihar)
Mob: 9973046607
بہ شکریہ جانِ غزل مرتب مشتاق دربھنگوی
+++
 
Comments


Login

You are Visitor Number : 397