donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Kaif Azimabadi
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
* رات مہکی ہے گیسوئوں کی طرح *
غزل
کیف عظیم آبادی

رات مہکی ہے گیسوئوں کی طرح
سارا منظر ہے گل رئوں کی طرح
اس کے اٹھنے کا اب سوال نہیں
گر پڑا ہے جو آنسوئوں کی طرح
شب ڈھلے دوڑتی ہے پرچھائیں
دل کی وادی میں آہوئوں کی طرح
میں ازل سے تلاش میں اپنی
جلتا بجھتا ہوں جگنوئوں کی طرح
مجھ کو فرصت تو دے گناہوں کی
میں مقید ہوں سادھوئوں کی طرح
’’ ہے ہوا میں شراب کی تاثیر‘‘
کون گزرا ہے خوشبوئوں کی طرح
٭٭٭
 
Comments


Login

You are Visitor Number : 380