donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Kaif Azimabadi
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
* جاڑے کی سرد رات تھی روشن الائو تھے *
غزل
کیف عظیم آبادی

جاڑے کی سرد رات تھی روشن الائو تھے
ہم تم تھے اور لمحے بھی ڈالے پڑائو تھے
پھر پھول بن کے مہکے ہیں تنہائیوں میں آج
روحوں پہ داغ داغ جو خواہش کے گھائو تھے
مرجھا سکی نہ شاخِ صداقت کو کوئی آنچ
اس انجمن میں ہم پہ نہ کیا کیا دبائو تھے
اک خود کشی پہ آج یہی تبصرہ سنا
وہ آدمی متین تھا اچھے سُبھائو تھے
اپنی انا کو صاف بچا لے گیا ہے وہ
حالاں کہ راستے میں ہزاروں گھمائو تھے
٭٭٭
 
Comments


Login

You are Visitor Number : 332