donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Kaif Azimabadi
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
* پھیلے ہوئے حصار کا سایہ اتر گیا *
غزل
کیف عظیم آبادی

 پھیلے ہوئے حصار کا سایہ اتر گیا
 کل رات اس کے چہرے کا غازہ اتر گیا
 لہروں کو گن رہا تھا جو ساحل پہ بیٹھ کر
 دریا میں آج خوف کا مارا اتر گیا
 انجام اتصال تھا بے کیفیتوں کا نام
 چڑھتے ہوئے جنوں کا دریا اتر گیا
 ہر شاخ چیخ چیخ کے خاموش ہو گئی
 موسم کی سیڑھیوں سے جو تپا اتر گیا
 دیکھا جو رک کے کیفؔ کبھی چاندنی کی طرف
 دل میں کوئی حسین دریچہ اتر گیا
٭٭٭
 
Comments


Login

You are Visitor Number : 335