donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Kaif Azimabadi
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
* راتوں کی تنہائی میں یونہی خواب سن *
غزل
کیف عظیم آبادی

 راتوں کی تنہائی میں یونہی خواب سنورتے رہتے ہیں
 یادوں کے درپن میں اکثر عکس ابھرتے رہتے ہیں
 کون روایت کی میت اب ڈھوئے اپنے کاندھوں پر
 کتنے ہی زندہ افسانے روز گذرتے رہتے ہیں
 اتنا ہی احسان سمجھ لو جتنا کوئی ساتھ رہا
 ریت کی اک دیوار ہیں رشتے بنتے بکھرتے رہتے ہیں
 ہنگامہ ہو یا تنہائی اس سے کوئی فرق نہیں
 زہر محبت پینے والے قسطوں میں مرتے رہتے ہیں
٭٭٭
 
Comments


Login

You are Visitor Number : 336