donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Kaleem Ajiz
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
* بتا پھر آج کیوں تاروں کی گردش تیز ہ *
غزل

٭………کلیم عاجز

بتا پھر آج کیوں تاروں کی گردش تیز ہے ساقی
ہوا کیوں اس قدر شیرو شکر آمیز ہے ساقی
یہ کس جانِ جہانِ آرزو کی آمد آمد ہے
یہ کس کی آرزو میں نبضِ محفل تیز ہے ساقی
مزاج وقت کی چلمن سے باہر کس نے جھانکا ہے
نقاب آزاد کس کا حسن آفت خیز ہے ساقی
یہ کس کے پیار کی مستی نے سب کو مست کر ڈالا
یہ کس  کے پیرہن کی خوشبو اتنی تیز ہے ساقی
جسے گجرالؔ کہتے ہیں وہ خود شاعر نہیں لیکن
مجسم شعر ہے اور شعر معنی خیز ہے ساقی
وہی اس شعر معنی خیز کو پہچان جائے گا
نظر باریک جس کی ذہن جس کا تیز ہے ساقی
کنارِ آب رودِ گنگا ہے گرچہ قیام اس کا
لہو میں اس کے جھیلم کا بھی آبِ تیز ہے ساقی
وہی جو آج ہے پیرِ مغاں ایوانِ دہلی کا
وہی لاہور کا اک شہری نوخیز ہے ساقی
سنی ہے گفتگو اس کی اگرچہ گفتگو اس کی
نہ جوش آمیز ہے ساقی نہ شور انگیز ہے ساقی 
دلوں کو گرم کرتا ہے مستیٔ محبت سے
زباں میں اس کی وہ آبِ نشاط انگیز ہے ساقی
دلوں کو جوڑ دینے کا ہنر معلوم ہے اس کو
ہر اک سوکھی زمیں اس کے لئے زر خیز ہے ساقی
 کمی آتی نہیں گرچہ بہت تقسیم کرنا ہے
ہمیشہ پیار سے اس کا سبو لبریز ہے ساقی
 مرے دل کی تمنا بار بار اٹھ اٹھ کے کہتی ہے
بدل جائے یہ دنیا کیا تعجب خیز ہے ساقی
اسی کے واسطے اقبالؔ نے شاید یہ فرمایا
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زر خیز ہے ساقی
یہ اس کی ہمت مردانہ سے امید ہے مجھ کو
جلائے گا دیا ہر چند طوفاں تیز ہے ساقی
خدا توفیق دے چاروں طرف وہ پھول برسادے
زمانے کی ہوا گرچہ شرر انگیز ہے ساقی
دعاء کر دامن گجرالؔ کے  محفوظ رہنے کی
چمن میں ہر طرف کانٹوں کا ناخن تیز ہے ساقی
بھروسہ کر خدا پر چھیڑ سازِ آرزو اپنا
ترے ہی ہم بغل عاجزؔ بھی نغمہ ریز ہے ساقی
*****
 
Comments


Login

You are Visitor Number : 452