donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Kaleem Ajiz
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
* مان لیتے ہیں ستم کی تمہیں عادت ہوگ *
غزل

٭………کلیم عاجز

مان لیتے ہیں ستم کی تمہیں عادت ہوگی
ہم جو مر جائیں گے پھر کس پہ عنایت ہوگی
نہا جہاں درد نہ ارمان نہ حسرت ہوگی
اے خدا وہ مرے کس کام کی جنت ہوگی
میرے نالوں سے نہ ہو آپ کی ٹھوکر سے سہی
اک نہ اک روز تو ہونی ہے قیامت ہوگی
سنتا ہو خانۂ دشمن گری ہے بجلی
ہو نہ ہو یہ میرے آہوں کی شرارت ہوگی
عشق میں بات بنانی ہمیں آتی ہی نہیں
ہم تو  جو عرض کریں گے وہ حقیقت ہوگی
حشر میں پردہ اٹھائے گا جو وہ فتنہ طراز
منہ چھپائے ہوئے دامن سے قیامت ہوگی
لاش کیوں اس کی گلی سے نہیں بڑھتی آگے
چارہ گر دیکھنا دل میں کوئی حسرت ہوگی
دل بے جانی کو نہ ٹھکرائو کہے دیتے ہیں
پھر یہ فتنہ کہیں اٹھا تو قیامت ہوگی
جان جاتی ہے حسینوں پہ تو پروا کیا ہے
جی بھی لیں گے کبھی مرنے سے جو فرصت ہوگی
قتل بھی آپ کریں گے تو نہ شکوہ ہوگا
ہم اگر اُف بھی کریں گے تو شکایت ہوگی
کوئی تو ہوگا غم ہجر میں ہمدم اپنا
تم نہ ہوگے تو تمہاری شبِ فرقت ہوگی
میں تو کر ہی دیا نام وفا کا روشن
کچھ نہ ہوگی تو چراغِ شب فرقت ہوگی
صبح وصل آنہ سکے گی میرے غم خانے تک
راہ رو کے ہوئے ظالم شب فرقت ہوگی
خاک پروانہ بچھائے گی وفا کی چادر
دامن شمع سے لپٹی ہوئی حسرت ہوگی
نام رہ جائے گا گو ہم نہ رہیں گے عاجز
وجہ شہرت یہی بدنام محبت ہوگی
****
 
Comments


Login

You are Visitor Number : 392