donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Karnal Mohammad Khan
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
* ہم نوا کون سی امید پہ خاموش رہوں *
ہم نوا کون سی امید پہ خاموش رہوں
کس لیے شاہد بی ٹی کی میں پاپوش رہوں
چیز کیا ہے سگ کالج کہ میں خرگوش رہوں
’’ کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوں ‘‘
آج میں بی ٹی لیے دست و گریباں ہوں گا
ناصحا پاس نہ آنا کہ میں ناداں ہوں گا

میں تو سمجھا تھا کہ بی ٹی ہے کوئی کار ثواب
دیکھی اندر سے مگر آگے جو یہ خانہ خراب
مجھ کو محسوس ہوا یہ تو ہے گودام عذاب
جس میں میں جھونکا گیا ایسا کہ جوں پابہ جراب
دل انساں کی نزاکت اسے ملحوظ نہیں
یاں شریفوں کی شرافت بھی تو محفوظ نہیں

ظلم بی ٹی سے خدا جانتا ہے چور ہیں ہم
جو کہ کیکر پہ چڑھایا تھا وہ انگور ہیں ہم
’’ قصۂ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم ‘‘
جن کو سمجھے ہو کھلونے وہ ہم انسان نہیں
رب کے بندے ہیں کوئی ساختہ جاپان نہیں

بی ٹی کیا ہے یہ فقط بندوں کا حیواں ہونا
اور مکروہ سی کچھ ٹانگوں کا عریاں ہونا 
Lean کے حکم پہ خم کھانا پریشاں ہونا
گویا یوں جھکنا کہ بس خارج از ایماں ہونا
ہم سے بے ہودگی ہر روز یہ فرماتے ہیں
صبح بھی شام بھی جب چاہیں یہ کرواتے ہیں

مذہب بی ٹی میں کیا ناغہ حرام ہوتا ہے
سر پہ ہر صبح یہ کیوں رونکی رام ہوتا ہے
بھولتا ہے نہ اسے گھر کا ہی کام ہوتا ہے
نہ بخار آتا ہے اس کو نہ زکام ہوتا ہے
ارے ٹیوٹر یہ خدا ہے تو سفارش کر دے
گر یہ کم بخت نہیں ٹلتا تو بارش کر دے

ہاسٹل کیا ہے طویلہ سا بنا رکھا ہے
اور وہ سمجھے ہیں کہ فردوس سجا رکھا ہے
بانس پر اس کو بلا وجہ چڑھا رکھا ہے
دیکھو دروازے پہ رضواں جو بٹھا رکھا ہے
دیکھیں ڈیوڑھی پہ تو مہمان وہی ٹلتے ہیں
اس سے آگے تو فرشتوں کے بھی پر جلتے ہیں

یہ بھی پابندی مہماں میں خطاوار نہیں
کیونکہ حالات دروں قابل اظہار نہیں
یاں گرفتار بلا ہیں، جو گنہگار نہیں
ایسی جنت کا تو دوزخ بھی خریدار نہیں
ہاسٹل! تیری حقیقت کو گئے ہیں ہم جانچ
انڈماں والوں نے لاہور میں کھولی ہے برانچ

چھٹی درکار ہو گر تم کو عیادت کے لیے
ماہ بھر پہلے سے دو عرضی اجازت کے لیے
پیش گوئی کرو نا دیدہ مصیبت کے لیے
گویا پیغمبری درکار ہے رخصت کے لیے
عزرائیل آ کے ہمیں اپنا پروگرام بتا
جن بزرگوں پہ تیری آنکھ ہے وہ نام بتا

اے خدا ہم بھی تھے مانوس کبھی عشرت سے
اب ہیں محروم ٹریننگ میں تیری رحمت سے
بچ نہیں سکتے کبھی رات کی اس کلفت سے
دن کو پڑھ پڑھ کے فنا ہو گئے اک مدت سے
درد سر ہے کہ فلو ہے کہ تپ کھانسی ہے
عمر بھر قیدی کا انجام یہاں پھانسی ہے
 
Comments


Login

You are Visitor Number : 331