donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Krishan Perwez
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
* بے کسوں کا خوں بہاکر کیا ملا *
کرشن پرویز(کھرار)

بے کسوں کا خوں بہاکر کیا ملا
آشیانوں کو جلا کر کیا ملا
ہو گئے بد نام تم چاروں طرف
دیش کو مقتل بنا کر کیا ملا
٭
سب خیال خام ہو کر رہ گئے
ہر طرح ناکام ہو کر رہ گئے
جال تو تم نے بچھایا سوچ کر
 خود ہی زیر دام ہو کر رہ گئے
٭
کتنے دل زخموں سے تم نے بھر دئیے
کتنے سینے تم نے چھلنی کر دئیے
ایک دو کا ذکر کیا لاکھوں ہیں وہ

جن کلیجوں پر ہیں پتھر دھر دئیے
٭
تم نے توڑے لاکھوں کے گل رنگ خواب
تم نے کتنے پھولوں کا لوٹا شباب
پاپ اتنے کر چکے ہو آج تک
کس طرح دے پائو گے ان کا حساب
٭
نام پر مذہب کے کرتے ہو ستم
کر رہے ہو ناک میں لوگوں کے دم
عقل سے گر کام لیتے تم کبھی
تم نہ بھولے سے اٹھاتے یہ قدم
٭
تم سے سرزد ہو گئی ہے جو خطا
ایک دن اس جرم کی ہوگی سزا
قوم تھی جو باعثِ رشک ولن
 اس کو بھی بد نام کرکے رکھ دیا
٭
چین سے تم بھی نہ جینے پائو گے
رات دن کھیتوں میں دھکے کھائو گے
دیکھنا اک دن پُلس کے ہاتھ سے
موت تم کو کتوں کی مارے جائو گے
٭
دھرم سب کہتے ہیں سچ سچ بولنا
پر کسی نے بھی کیا نہ حوصلہ
ظلم ہوتے دیکھ کر خاموش تھے

دس برس تک چلتا رہا یہ سلسلہ
٭
نیک بننے کا ارادہ تم کرو
حوصلہ رکھو نہ دل میں تم ڈرو
شوق قربانی کا اچھا ہے مگر
نام ہوگا دیش کی خاطر مرو
 ٭
ناز سب اہلِ وطن تم پر کریں
سب نچھاور جان و تن تم پر کریں
ہو گئے قربان گر تم دیش پر
لوگ پھولوں کے کفن تم پر کریں
٭٭٭
 
Comments


Login

You are Visitor Number : 347