donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Dr Javed Jamil
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
* جو غرق کر دے اسے ناخدا کہیں کیسے *

غزل

ڈاکٹر جاوید جمیل

جو غرق کر دے اسے ناخدا کہیں کیسے
تمہیں کہو تمہیں جان_وفا کہیں کیسے

تمہارا حسن حقیقت ہے، چاند کا ہے سراب
تمہارے چہرے کو پھر چاند سا کہیں کیسے

حیا کا  انکی کوئی جز ہمارا ہو بیٹھا
ہے  ایک  بات مگر برملا کہیں کیسے

انا تمھاری بھی نکلی ہے اوروں جیسی ہی
 تمھارے خلق کو سب سے جدا کہیں کیسے

ترے وجود سے کب ہے جدا ہمارا وجود
تری خطا کو بھی تیری خطا کہیں کیسے

ہمیں وحی یہ ہوئی عدل پر رہیں قائم
جو حق نہیں ہے اسے حق بھلا کہیں کیسے

وہ خامشی سے مزاجوں میں زہر بھرتی ہے
ہوائے نو ہے بلا تو صبا کہیں کیسے

ہمیں پتہ ہے کہ تم اہل ہومگر جاوید
کسی کو اپنے سوا رہنما کہیں کیسے

********************

 

 

 
Comments


Login

You are Visitor Number : 568