donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Adil Hayat
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
* شہرِ جاں ویرانۂ بے آس تو ہوگا نہیں *

 

 غزل
 
شہرِ جاں ویرانۂ بے آس تو ہوگا نہیں
ہوچکے سب حادثے بن باس تو ہوگا نہیں
ذہن و دل والوں کی حالت کس طرح نازک ہوئی
اے زمیں والوں تمہیں احساس تو ہوگا نہیں
دربدر پھرنے پہ اپنے آگیا ہنسنا انہیں
گھر بھی ان کا سا کسی کے پاس تو ہوگا نہیں
ڈھونڈھنے آئی ہے جس کو صبح کی پہلی کرن
فرد ہوگا وہ کوئی احساس تو ہوگا نہیں
سر اٹھائے جو کھڑا ہوگا ترے دربار میں
وقت کا مارا وہ ہوگا داس تو ہوگا نہیں
بند مٹھی میں چھپاتے پھر رہے ہیں وہ جسے
سنگ ریزہ ہو تو ہو الماس تو ہوگا نہیں
قصۂ جاں بس فضاؤں میں لکھیں گے ہم حیات
یوں بھی حاصل صفحۂ قرطاس تو ہوگا نہیں
 
&&&&&&&&&&&&&&&&&&
 
 
 
Comments


Login

You are Visitor Number : 376