donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Kalim Akhtar
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
* لفظوں کو توڑ پھوڑ کے قابل ہوئے ہیں *

غزل

لفظوں کو توڑ پھوڑ کے قابل ہوئے ہیں آپ
عالم سمجھ رہے ہیں کہ جاہل ہوئے ہیں آپ
یادوں کی زعفران ہے کشمیر کی طرح
جب سے ہماری زیست میں داخل ہوئے ہیں آپ
یہ ابتداے عشق ہے، کیا کچھ بیاں کریں
اس شور کی طرف ابھی مائل ہوئے ہیں آپ
مقتول یوں نہ ہوتا رفاقت کا سلسلہ
قاتل ہوئے ہیں ہم کبھی قاتل ہوئے ہیں آپ
ہچکولے کھاتی ناو کو گرداب کیا کرے
طوفان ومدوجزر میں ساحل ہوئے ہیں آپ
سب کچھ ہے اس کے پاس مگر دل نہیں ہے دوست!
اخترؔ یہ کس امیر کے سائل ہوئے ہیں آپ

*****

 
Comments


Login

You are Visitor Number : 389