donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Khalid Malik Sahil
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
* بڑے جتن سے بڑی سوچ سے اُتارا گیا *
بڑے جتن سے بڑی سوچ سے اُتارا گیا
مرا ستارا سرِ خاک بھی سنوارا گیا
 
مری وفا نے جنوں کا حساب دینا تھا
سو آج مجھ کو بیابان سے پکارا گیا
 
بس ایک خوف تھا زندہ تری جدائی کا
مرا وہ آخری دشمن بھی آج مارا گیا
 
مجھے یقین تھا اِس تجربے سے پہلے بھی
سُنا ہے! غیر سے جلوہ نہیں سہارا گیا
 
سجا دیا ہے تصوّر نے دُھوپ کا منظر
اگرچہ برف کی تصویر سے گزارا گیا
 
ملا ہے خاک سے نسبت کا پھر صلہ مجھ کو
مرا ہی نام ہے گردوں سے جو پکارا گیا
 
میں دیکھتا رہا دُنیا کو دُور سے ساحلؔ
مرے مکان سے آگے تلک کنارا گیا
******
 
Comments


Login

You are Visitor Number : 339