donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Khalid Malik Sahil
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
* کچھ تم بھی کہہ رہے تھے مگر رات ہو گئ&# *
میرے بھی کچھ گلے تھے مگر رات ہو گئی
کچھ تم بھی کہہ رہے تھے مگر رات ہو گئی

دُنیا سے دُور اپنے برابر کھڑے رہے
خوابوں میں جاگتے تھے مگر رات ہو گئی

اعصاب سُن رہے تھے ، تھکاوٹ کی گفتگو
الجھن تھی مسئلے تھے مگر رات ہو گئی

آنکھوں کی روشنی میں اندھیرے بکھر گئے
خیمے سے کچھ جلے تھے، مگر رات ہو گئی

اے دل، اے میرے دل، یہ سنا ہے کہ شام کو
گھر سے وہ چل پڑے تھے، مگر رات ہو گئی

ایسی بھی کیا وفا کی کہانی تھی رو پڑے
کچھ سلسلے چلے تھے، مگر رات ہو گئی

کچھ زینے اختیار کے چڑھنے لگا تھا میں 
کچھ وہ اتر رہے تھے مگر رات ہو گئی

دشمن کی دوستی نے مسافت سمیٹ لی
ہاتھوں میں راستے تھے مگر رات ہو گئی

ساحل فریبِ فکر ہے دنیا کی داستاں
کچھ راز کھل چلے تھے مگر رات ہو گئی

خالد ملک ساحل
 
Comments


Login

You are Visitor Number : 375