donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Khalid Malik Sahil
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
* دنیا داری کا تجربہ بھی نہیں *
دنیا داری کا تجربہ بھی نہیں 
اور لفظوں کا اسرا بھی نہیں 

جھوٹ بولوں تو جھوٹ لگتا ہے 
مجھ کو ولیوں کی بد دعُا بھی نہیں 

مجھ کو دریا کے پار جانا ہے 
اور ہاتھوں میں مُعجزا بھی نہیں 

نقش تازہ ہے ریت پر لیکن 
دور تک کوئی قافلہ بھی نہیں 

کیوں مسلسل سفر ہے قسمت میں 
پیچھے دیکھا نہیں، رُکا بھی نہیں 

کچھ بھی حاصل نہیں، جنوں سے مجھے 
میرے پیروں میں آبلہ بھی نہیں 

اُس شجر کو شجر نہیں کہتے 
جس پہ چڑیوں کا گھونسلہ بھی نہیں 

آگ بجھنے لگی ہے دشمن کی 
ہاتھ میرا ابھی جلا بھی نہیں 

کوئی حد بھی نہیں کہیں ساحل 
اور رستہ کہیں کھلا بھی نہیں 
 
Comments


Login

You are Visitor Number : 326